فاسٹ بولر نسیم شاہ نے یاسر شاہ کو ڈراپ کرنے کی وجہ بتادی!

دائیں ہاتھ کے ابھرتے ہوئے فاسٹ بولر نسیم شاہ پاکستان میں پہلا ٹیسٹ کھیلنے پر خاصے خوش ہیں۔ 16سال کے نسیم شاہ کہتے ہیں اپنے لوگوں کی آواز کے شور میں بولنگ کرانا ایک بہترین احساس تھا، جسے انہوں نے راولپنڈی ٹیسٹ کے پہلے دن بھرپور انداز میں محسوس کیا۔

نسیم شاہ نے پہلے دن 16 اوورز میں چار میڈنز اوورز کرائے، 51 رنز دیے اور سری لنکا کے اوپنر اوشاکا فرنیڈو اور سابق کپتان اینجلو میتھیوز کی وکٹیں حاصل کیں، جب ان سے پہلے ٹیسٹ میں چار فاسٹ بولرز کھلانے کے فیصلے پر سوال پوچھا گیا، تو وہ بولے، اچھا فیصلہ ہے، عباس بھائی، شاہین اور عثمان کیساتھ بولنگ کروا کر لطف آیا۔
نسیم شاہ نے کہا کہ صبح پچ میں نمی تھی، لیکن افسوس ہم اس کا فائدہ نہ اٹھا سکے، اور پہلے سیشن میں کوئی وکٹ نہ لے سکے، البتہ کھانے کے وقفے کے بعد ہم کو اچھی گیند بازی پر وکٹ ملے، جو خوشی کی بات ہے۔
ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں ڈراپ کرنے اور ورک لوڈ کے سوال پر نوجوان فاسٹ بولر جواب دیتے ہوئے کچھ سوچتے رہے، پھر بولے، وہ ٹیم مینجمنٹ بہتر سمجھتی ہے، مجھے کوئی مسئلہ نہیں
پریس کانفرنس کے دوران جب ان سے 37 ٹیسٹ میں 207 وکٹ لینے والے تجربہ کار اسپنر یاسر شاہ کے بارے میں سوال پوچھا گیا، تو کہنے لگے، یاسر بھائی بہترین بولر ہیں، انہیں راولپنڈی میں کھلانے کا فیصلہ درست ہے؟ یا غلط اس بارے میں ٹیم مینجمنٹ بہتر جانتی ہے، کیونکہ کس کو کھلانا ہے، اور کسے ڈراپ کرنا، اس بارے میں مجھے نہیں معلوم ہوتا، لہٰذا میں یہی کہوں گا، یاسر بھائی کو نہ کھلانے کا فیصلہ ٹیم مینجمنٹ کا ہے اور وہ بہتر سمجھتے ہیں کہ ایسا کیوں کیا؟ یہ تو وہی بتا سکتے ہیں، مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں معلوم ہے۔