ایوان میں ہمارے کئی ارکان نے سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا

  اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ دادو کرتھل کے علاقے میں بچی کو جرگہ کے فیصلے پر سنگسار کرنے کے حوالے سے جو خبر سوشل میڈیا اور کچھ الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا میں نشر کی گئی اور اس کو جواز بنا کر اس معزز ایوان میں ہمارے کئی ارکان نے سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، اس کی ابتدائی رپورٹ موصول ہوگئی ہے اور پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ایسا کوئی سانحہ نہیں ہوا اور بچی پہاڑی پتھر کمر پر گرنے کے باعث جاں بحق ہوئی ہے، دعا منگی کیس میں بھی واقعہ پر سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اب بچی واپس آگئی ہے اور اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ نے واضح طور پر احکامات دئیے ہیں کہ بچی کے اغوائ میں ملوث عناصر کو نہ صرف بے نقاب کیا جائے گا بلکہ ان کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ دعا منگی سانحہ میں جس نواجوان کو گولی لگی وہ اس وقت بھی ایک نجی اسپتال میں زیر علاج ہے اور اس کا پہلے روز سے ہی سندھ حکومت علاج معالجہ کروا رہی ہے اور اس سلسلے میں بھی میڈیا میں جو خبریں نشر یا اشاعت کی جارہی ہیں اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز سندھ اسمبلی میں 261 کے تحت بیان دیتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہاکہ بچی کو جرگہ کے فیصلے پر سنگسار کرنے کی خبر مختلف اخبارات اور سوشل میڈیا پر خبریں شائع کی گئی اور اس خبر کو بغیر کسی تصدیق یا تحقیق کے اچھالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے میں نے خود مختلف اخبارات جس میں یہ خبر شائع ہوئی کہ رپورٹرز سے رابطہ کرکے ان سے تفصیلات طلب کی لیکن انہوں نے مجھے اپنے ذرائع بتانے سے معذرت کی لیکن میں نے ان سے کہا کہ وہ اپنے ذرائع نہ بتائیں لیکن اس حوالے سے خبر کی تصدیق پر اعتماد میں لینے کو کہا، جس پر انہوں نے مجھے کہا کہ ہم بعد میں اس سے آگاہ کریں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ تھا اور اس کے باعث ہماری دنیا بھر میں بدنامی بھی ہوئی اور مجھے افسوس ہے کہ ہمارے یہاں اسمبلی میں بھی ہمارے اپوزیشن کے ممبران نے بھی اس حساس سانحہ کی تصدیق کی بجائے اس کو سیاسی طور پر اچھالنے اور سندھ حکومت کے خلاف اس کو مہم بنانے کی کوشش کی۔ سعید غنی نے کہا کہ جس شخص پر یہ الزام لگایا جارہا تھا کہ اس نے جرگہ منعقد کیا اور یہ فیصلہ دیا، وہ شخص تحریک انصاف کے ایک رہنمائ کا بیٹا ہے اور اس کا ہمیں علم ہونے کے بعد بھی ہم نے کسی قسم کی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی بجائے سیاسی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس حساس معاملے کی حتمی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا اور آج جب اس بچی کی پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ اور ایچ آئی سی پی کی ٹیم کی جانب سے تحقیقات کے بعد جو رپورٹ پیش ہوئی اس میں واضح ہوا ہے کہ کسی قسم کا کوئی جرگہ نہیں ہوا اور اس بچی کی موت پہاڑی تودہ اس کی کمر پر گرنے سے اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹنے کے باعث واقع ہوئی۔ سعید غنی نے کہاکہ اس سانحہ کی سوشل اور میڈیا کے ذریعے بغیر کسی تصدیق کے اشاعت پر ہمیں مجبورا? اس بچی کے والد، والدہ اور نماز جنازہ پڑھانے والے امام کو گرفتار کرنا پڑا۔ سعید غنی نے کہا کہ آج میں اس بچی کے والدین اور دیگر سے معافی طلب کرتا ہوں کہ ان کو گرفتار کرنا پڑا لیکن اگر ہم ایسا نہ کرتے تو اس معاملے کو سیاسی اشیو بنا کر ہم پر مزید تنقید کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے میڈیا کے دوستوں اور اپوزیشن کے ارکان سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ کسی بھی حساس خبر کی رپورٹنگ یا سیاست کے لئے اس کی تصدیق کرلیں۔ سعید غنی نے کہا کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس میں بھی دعا منگی نامی بچی کے اغوائ کا واقعہ رونما ہوا اور اب وہ خیرخیرت سے اپنے گھر واپس لوٹ آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں ضرور پولیس کی کسی حد تک ناکامی ہے کہ اس طرح کے پوش علاقے میں دو ماہ کے دوران اس طرح کے دو واقعات رونما ہوئے، جو تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقع اور بچی کے بازیابی کے بعد بھی وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے واضح احکامات دئیے گئے ہیں کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کرائی جائے گی کیونکہ یہ ایک جرم ہوا ہے اور اس میں ملوث افراد کو ضرور گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بعد بھی اور بچی کی بازیابی کے بعد بھی مجھ سمیت کابینہ کے کچھ ارکان اور سرکاری افسران کا دعا منگی کے اہلخانہ سے مکمل رابطہ ہے اور وہ مکمل تعاون کررہے ہیں۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ اسی سانحہ میں ایک بچہ گولی لگنے سے زخمی ہوا تھا اور وہ اس وقت بھی ایک نجی اسپتال میں زیر علاج ہے۔ اس حوالے سے بھی کچھ میڈیا اور اخبارات میں یہ خبر شائع اور نشر کی جاری ہے کہ سندھ حکومت اس کے علاج معالجہ کے لیئے کچھ نہیں کررہی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس بچہ کے علاج پر پہلے روز سے سندھ حکومت مکمل علاھ معالجہ کروا رہی ہے اور آج بھی اس کا علاج سندھ حکومت کے تحت ہی کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی احسان نہیں بلکہ ہماری ذمہ داری ہے لیکن مجھے مجبوراً اس فورم پر یہ کہنا پڑرہا ہے کیونکہ اس کو لے کر بھی سندھ حکومت پر تنقید کی جارہی ہے۔ ہینڈ آوٹ نمبر1119

اپنا تبصرہ بھیجیں