گھبرانے کی نہیں صبر کی ضرورت ہے، سب ٹھیک ہوجائے گا

امیر محمد خان –
                                       گھبرانے کی نہیں  صبر کی ضرورت ہے، سب ٹھیک ہوجائے گا ۔ 
2013 ء میں جب سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف  جدہ تشریف لائے تو  انکے  سمدی   وزیر  خزانہ  اسحاق ڈار بھی انکے ہمراہ  تھے ، وزیر اعظم کی رہائش گا  ہ  (حسین نواز کی رہائش گا  ہ ) یہ لکھنا ضروری تھا  ورنہ  نیب ایک اور مقدمہ سابق وزیر اعظم پر قائم کردیتا کہ آپکی ایک رہائش گاہ  جدہ میں بھی ہے،  ہماری سابق وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی  دیگر باتوں کے علاوہ  جب ان  سے پاکستان کی معاشی صورتحال پر  سوال کیا تو  انہوں نے  اسحق ڈار کو  بلاکر  اپنے  ساتھ بٹھایا  کو  معاشی صورتحال بتانے کو کہا  ، سابق وزیرخزانہ نے دس منٹ کا  طویل لیکچر دیا،  جس میں  GDPِ   اتنا فیصدیہاں، اتنا فیصد وہاں ، اتنے ڈالرز وہاں، اتنے قرضے وہاں اتنے قرضے یہاں،  جب حکومت ملی تو اتنا  قرضہ،  انکی طویل گفتگو کے دوران مجھے  اور جرنلسٹ فورم کے دوستوں کو  نیند محسوس ہونے لگی،  صورتحال کو  دیکھتے ہوئے میٰں نے بد  تہذیبی کا مظاہرہ کیا اور درمیان میں وزیر خزانہ کو روک کر  سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو کہنا پڑا  کہ جناب  یہ حساب کتاب ہماری  سمجھ سے باہر ہے تو عوام کی سمجھ میں کہاں آئے گا ، ہم نے معیشت  کی صورتحال کو سوال کیا ہے  آپ نے ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا؟  سابق وزیر  اعظم اس جملے سے محظوظ ہوتے ہوئے  کہا کہ  معیشت بہتر ہے، سابقہ حکومت کے  قرضوں اور  ہمیں دی گئی خراب معیشت کو  ہم ٹھیک کرلینگے۔ اس پر ہماری ٹیم کام کررہی ہے۔ ہم بجلی  اور عوام کو براہ راست متاثر کرنے والے معاملات جو ہمیں سابقہ حکومت سے ورثے  ملے  پر  جلد قابو پاینگے۔ یہ ہماری حکومتوں چاہے سولین ہوں یا زبردستی کی  فوجی  یہ المیہ ہے کہ بقول انور مقصور  کہ   ہماری سیاسی جماعتوں کو  اگر اقتدار  1947 ء میں ملتا تو  بھی یہ کہتے کہ انگریز معیشت کا بیڑہ غرق کرکے بہت کرپشن کرکے گئے ہیں۔ (انور مقصور نے تو  آجکی تحریک انصاف کیلئے کہا تھا  مگر  میں تمام سیاسی جماعتوں  کو ایسا ہے سمجھتا ہوں) وزیر اعظم  عمران خان صبح شام  ہر تقریب  میں پاکستان  کے ۲۲ کروڑ عوام  کو ملکی معیشت کے حوالے سے یہ کہتے ہیں  کہ  ”گھبرانہ مت “ انکا یہ جملہ  اسی طرح شہرت  اختیار کرگیا ہے جسطرح ننھے بچے کا  ”پیچھے دیکھو پیچھے “ والا  ہے۔ الیکشن میں کامیابی کے بعد  یہ بعد  تو  پکی ہے کہ  تحریک انصاف  کی عوام میں مقبولیت ہے،  شیخ رشید  جیسے جو صرف  وزیر عمران خان کی دیانت  داری  کی وجہ سے انکے ہمراہ  ہیں  جبکہ  وہ بقیہ  دائیں بائیں والوں کو اپنی زبان میں  کیا کیا کہتے ہیں  یہا ں تحریر کرنا  اچھی بات نہیں۔   اسی طرح جنہوں نے  ووٹ تحریک انصاف کو ووٹ دیا  انہیں بھی  بھی  صرف اور صرف عمران خان کی دیانت ،   اور کرشمانی شخصیت  پر یقین تھا  بھی  اور ہے بھی۔مگر  باتووہی ہے کہ  نہ تجربہ کاری کی بناء  وہ  اپنے مشیروں پر  حد سے زیادہ  اعتماد کرتے ہیں   اور  جو  ہو کہتے ہیں   وزیر اعظماپنی زبان سے ہر جگہ  کہنا شروع کردیتے ہیں، جیسے  وہ کہتے ہیں  بین الاقوامی  اداوں کا حوالہ دیکر کو معیشت بہتری کی طرف جارہی ہمارے ہی ملک کہ  اداروں کی مستنعد  روپورٹس ہیں کہ ہمارا  GDP    جو سابقہ نواز حکومت میں 3.3 فیصد تھا  اب  تنزلی کی طرف ہے  اور  2.2 فیصد ہوگیا ہے۔ قرضوں کے حوالے سے اسٹیٹ بنک  کی اعداد و شمار کے مطابق  پی پی پی  دور حکومت میں  2008 ء  میں  6000 ڈالر سے بڑھکر انکے آخری دور میں  (پانچ سال میں) 16000  ارب ڈالر ہوگئے تھے،  جس میں بعد میں  نواز شریف  حکومت نے  اپنی حکومت جانے تک  ان قرضوں کو  30,000 ارب ڈالر پہنچا دیا۔ مگر  موجودہ حکومت نے   اپنے صرف  ایک سال میں   اسے 41,000  ارب ڈالر کردیا  ابھی تو چار  سال باقی ہیں۔ایک رپوڑٹ کے مطابق  موجودہ حکومت   30 ارب  روزآنہ  کا قرضہ لے رہی ہے۔ اسطرح دیکھا جائے معاشی  پالیسی میں  گزشتہ حکومتوں اور موجود ہ حکومت  کوئی فرق نظر نہیں آرہا ،  جو  ادارے حکومت کے دائیرہ  اختیار میں  جیسے ،  بجلی، گیس ، پیٹرول ، جسکی بڑھتی ہوئی قیمتیں  براہ راست عوام پر اثر انداز ہوتی ہیں بجائے اسکے  چوری کو  روکا جائے  جسکی مالیت  اربوں میں ہے،  حکومت قیمت میں اضافہ کرکے   اسکا بوجھ عوام پر ہی ڈالتی ہے۔    اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ  ان ایک سالوں میں  بارہ لاکھ  لوگ بے روزگار ہوئے ہیں  (یہ حکومتی  اداروں کے اعداد و شمار ہیں)  اور  موجودہ صورتحال  کی مناسبت سے  2020 ء   میں مزید  اضافہ ہونے جارہا ہے ۔IMF  سے کئے گئے معاہدون میں بے روزگاری جیسے عنصر کا  ذکر خیر ہی نہیں کہ اسپر  قابو کیسے پائے جائے۔ انہیں صرف  اپنے پیسے کی واپسی کی فکر ہے۔ حکومتی  کنٹرول میٰں کمی ہے،  ٖ FBR,   اور ٹیکسوں کی مد میں  حکومت کو  سرمایہ داروں  اور  بڑے بڑے  لوگ جنہیں ٹیکس کے دائرے میں آنا تھا   انہوں نے ہڑتالوں،  بلیک میلنگ کے ذریعے  کسی حد تک حکومت کو  ہتھیار  ڈلوادئے۔ اس وقت بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے  اسی طرح  کم از کم  88 لاکھ  پاکستانی  شرح غربت کی لائین  سے  بھی نیچے ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے    ہماری عوام  جو بھی روزگا ر پر ہے  وزراء کو ہٹا کر    اپنی آمدن کا   60 فیصد  کھانے پینے پر خرچ کرتے ہیں  اور   اگرمارکیٹ میں  ٹماٹر  400 روپے کلو ہو تو  وہ کیا کھائیں، قیمتوں پر کنٹرول کے بجائے ، بہتر پالیسی کے بجائے اگر وزراء   یہ کہیں ٹماٹر نہ کھاؤ،اور کوئی حکیمی نسخہ تجویز کریں تو یہ عوام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ بہت سے وزراء  ‘”بھر پور  قابل ہیں “ جویہ کہتے ہیں  اگر  ڈالر  بڑھ رہا ہے اور روپیہ گر رہا ہے  تو  یہ اچھا ہے کہ   ہم نے جو  قرضے لئے ہیں  انہیں واپس کرنے میں آسانی ہوگی معاشی حوالوں سے اور کی نکات ہیں   اسلئے ضروری ہے کہ وزیر اعظم  اپنے ووٹ بنک، اور  ان لوگوں کو مایوس نہ کریں ایسے بیانات کے  ذریعے جو انہیں  انکے ”قابل  مشیر “ دیتے ہیں  عوام تک نہ لیں جائیں اور  مستعند  ٹیم  جو  ہر  پالیسی  کا  تنقیدی ،  اور  منفی پہلو بھی بتائے، صر ف وہ بات  ہی نہ سنیں جس میں سب اچھا ہو ۔ اقتصادی ٹیم   بہت اچھی ہے مگر  لگتا ہے جب  وہ آگے بڑھتی ہے  اور  سیاست دانوں اور جماعت کے  ”پاپلر“  بیان کا مسئلہ سامنے آتا ہے جس سے عوام خوش ہیں  چاہے وہ  سبز باغ ہی کیوں نہ ہو۔ عوام کو موجودہ معاشی صورتحا ل میں   گھبرانے کی نہیں بلکہ صبر کی ضرورت ہے  معیشت کی درستگی کیلئے  آئیندہ  ایک سال بھی ۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں