کراچی سیف سٹی منصوبہ محض اجلاسوں تک محدود

یاسمین طہٰ – کراچی سیف سٹی منصوبہ محض اجلاسوں تک محدود، بلاول زرداری کی پاکستانی ڈاکٹروں کی کارکردگی پرسیاست  صوبہ سندھ کے محکمہ صحت پر عوام کے تحفظات پر بات ہوتی رہی ہے،جنکی سربراہی زرداری خاندان کے پاس ہے، لیکن بلاول بھٹو نے پورے پاکستان کے محکمہ صحت کی کارکردگی پر یہ کہ کر سوالیہ نشان لگادیا ہے ہے کہ انھیں پاکستان کے ڈاکٹروں پر اعتماد نہیں ،اس لئے ان کے والد کے علاج کے لئے آصف زرداری کے بیرون ملک بھیجا جائے ۔غلیظ سیاست کی اس سے بد تر مثال ہوہی نہیں سکتی جس میں ملک کے رہنما چاہے ان کا کسی بھی جماعت سے تعلق ہو ،پاکستان کے اسپتالوں پر اعتمادنہیں کرتے ہیں۔اس سے قبل پاکستان کے ڈاکٹروں پر پرعدم اعتمادکی باتیںبھی نواز لیگ کی جانب سے بھی کی جاتی رہی ہیں ۔ جس ملک میں ڈاکٹر ادیب رضوی جیسے فرشتہ صفت ڈاکٹر موجود ہوں وہاں محض اپنے مفاد کے لئے تمام ڈاکٹر برادری کو اپنی سیاست کے لئے استعمال کرنا انتھائی افسوس ناک امر ہے ۔نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی پاکستانی ڈاکٹرز اپنی صلاحیت کا لوہا منوارہے ہیں ۔ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود کراچی سیف سٹی منصوبہ 4 سال سے تعطل کا شکار ہے ، شہر میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ہے ، جب کہ جرائم پیشہ گروہ درجنوں شہریوں کو سرعام قتل اور اغوا کرچکے ہیں مگر سندھ حکومت محض اجلاسوں پر اکتفا کررہی ہے ،اور شہریوں کا کوئی پرسان حال نظر نہیں آتا۔کراچی میں امن وامان میں بہتری کے لئے سپریم کورٹ نے جولائی 2016 میں کراچی کے حساس مقامات پر کلوز سرکٹ ٹی وی کیمروں کا نیٹ ورک قائم کرنے اور سیف سٹی منصوبہ شروع کرنے کی ہدایت دی تھی۔لیکن یہ معاملا صرف اجلاسوں کی حد تک ہی رہا ۔کیمروں کی عدم موجودگی سے جرائم پیشہ افراد کاروائی کے بعد غائب ہوجاتے ہیں اور ان کا سراغ تک نہیں ملتا۔4 سال پہلے عدالتی حکم کے بعد سندھ حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ کراچی کے 2 ہزار مقامات پر ہائی ریزولوشن والے 10 ہزار کیمرے نصب کیے جائیں گے تاکہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو شناخت اور گرفتار کیا جاسکے۔9 اگست 2016 کو انسپکٹر جنرل آف سندھ پولیس کی جانب سے کراچی کے 3 زونز میں 2 ہزار مقامات کی نشاندہی بھی کی گئی جس کے مطابق ویسٹ زون میں 500، ایسٹ زون میں 500 اور وی آئی پی زون ،ساو¿تھ زون میں ایک ہزار مقامات شامل تھے۔اس حوالے سے فزیبیلٹی تیار کرنے کے لیے نجی شعبے کی خدمات بھی لی گئیں۔لیکن اب تک اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی ۔شنید یہ ہے کہ سندھ کابینہ کی جانب سے کراچی سیف سٹی منصوبے کی منظوری دے دی گئی ہے اور امکان ہے کہ اسے سندھ اسمبلی میں جلد پیش کیا جائے گا۔ کراچی سیف سٹی منصوبے پر 10 ارب روپے لاگت آئے گی اور کیمروں کی تعداد کو 30 ہزار تک بڑھایا جائے گا۔طلبا یونین کی بحالی کی تحریک نے اچانک زور پکڑ لیا ہے اور اس حوالے سے ملک بھر میں مظاہرے گئے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما و سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ مستقبل کی قیادت کو تیارکرنے کے لئے طلباءیونینز کی بہت اہمیت ہے۔علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و رکن سندھ اسمبلی عمر عماری نے طلبہ تنظیم کی بحالی کے لیے بل سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروا دیا۔ اور توقع ظاہر کی ہے کہ ایوان میں بل کی حمایت کی جائے گی۔اس حوالے سے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے طلبا یونینز پر پابندی ختم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بحالی سے متعلق قانون سازی کریں گے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ جلد ایک قانون بنا کر کابینہ اور پھر سندھ اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا۔ ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ یہ فیصلہ سندھ کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، بہت جلد طلبہ تنظیموں کے فعال ہونے کا قانون سندھ اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔ یہی طلبہ مستقبل میں ملک کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ ،پاکستان کی قیادت سے ملاقات کی ، ملاقات میں صوبے کی سیاسی صورتحال، گورننس کے امور، تحریری معاہدے پر عمل درآمد اور بلدیاتی اختیارات کے نفاذ پر بات چیت ہوئی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ساتھ کوئی دوریاں نہیں، ایم کیوایم اور ہماری نیت ٹھیک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترامیم سے پہلے کہا جاتا تھا کہ ہمیں حق نہیں ملتا لیکن صوبائی حکومتوں نے اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل حالات میں متحدہ نے ہماراساتھ دیا اور مشکل حالات میں ہی عمران خان نے حکومت سنبھالی۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ حکومت نے مشکلات کے دن گزار لئے اب ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے مطالبات پر بھی عمل ہو گا۔ہم جمہوری حکومت کیساتھ کھڑے ہیں،جمہوری حکومت بھی سندھ کے علاقوں کی طرف توجہ دے۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے مطالبات پر وفاقی حکومت کے کام کی رفتار بہت سست ہے، جمہوری حکومتیں کراچی کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہوئے کردار ادا کریں۔ذرائع کے مطابق ایم کیوایم قیادت نے ملاقات میں کہا کہ ہم سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے جا رہے ہیں، اگر وعدے پورے نہ ہوئے تو ہمارے پاس مختلف آپشنز ہیں، معاہدوں اور وعدوں پر عمل نہ ہوا تو اپنا فیصلہ کرنے میںآزاد ہوں گے۔چیف سیکریٹری سندھ نے پی ٹی آئی کے حلیم عادل شیخ اور مسرور سیال کے خلاف کارروائی کی منظوری دے دیپی آئی اے کے دونوں رہنماﺅں کیخلاف کارروائی کے لیے اینٹی کرپشن اور محکمہ روینیو حکام کو حکممسرور سیال کو غیرقانونی الاٹ زمین منسوخ کرکے کیس کرنیکی منظوریحلیم عادل شیخ کی غیرقانونی تعمیرات کا کیس اینٹی انکروچمنٹ کے حوالے کردیا گیااینٹی کرپشن سندھ نے چیف سیکریٹری سے حلیم عادل شیخ پر کیس داخل کرکے گرفتاری کی اجازت مانگی تھی





اپنا تبصرہ بھیجیں