وسیم خان کرکٹ کمیٹی کے سربراہ کے عہدے سے دستبردار

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کرکٹ کمیٹی کے سربراہ کے عہدے سے دستبردار ہوگئے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی احسان مانی کا کہنا تھا کہ وسیم خان کرکٹ کمیٹی کے عہدے سے دستبردار ہوگئے ہیں اور اب کرکٹ کمیٹی کا نیا چیئرمین سابق کرکٹ ہوگا۔

احسان مانی نے بتایا کہ کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین کا اعلان آئندہ برس جنوری کے آغاز میں ہی کردیا جائے گا، یہ کمیٹی آزادانہ ہوگی اور اس کی الگ اہمیت ہوگی۔

چیئرمین پی سی بی نے بتایا ک ڈائریکٹر اکیڈمیز مدثر نزر نے معاہدے میں توسیع نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جن کا بورڈ کے ساتھ معاہدہ مئی میں ختم ہوجائے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا بورڈ مدثر نذر کی خدمات کا معترف ہے، وہ مستقل میں کام کے خواہشمند نہیں ہیں تاہم ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔

اپنے اوپر ہونے والی تنقید پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ وہ تنقید سے گھبراتے نہیں ہیں، یہ تنقید ایک ایجنڈے کے تحت کی جاتی ہے۔

احسان مانی کا کہنا تھا کہ وہ کرکٹ کی بہتری کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرکٹ عہدیدار ساحلوں پر گھومن کے لیے بیرون ملک سفر نہیں کرتے اور نہ ہی عیش کرتے ہیں، مضبوط تعلقات اور روابط سے باہر جا کر بات کرنا پڑتی ہے۔

احسان مانی نے پاکستان اے ٹیم کو برانڈ بنانے کا عزم دہرایا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی مستقبل میں سیریز سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ، آسٹریلیا ، جنوبی افریقا، نیوزی لینڈ کے ساتھ سیریز کا سرکل ہوگا۔

احسان مانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپنی ہوم سیریز اپنے ملک میں کھیلنے کے فیصلے پر قائم ہیں، سیریز سے متعلق خبروں پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کے کام پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ مصباح الحق اکیلے فیصلے نہیں کر رہے چیک اینڈ بیلنس موجود ہے، ان کے ساتھ 7 لوگ سلیکشن کے معاملات دیکھ رہے ہیں۔

احسان مانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کا تجربہ کیا ہے، تاہم ایک سال بعد ان کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔

چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، تبدیلیاں مشاورت سے کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے معاملات پر تنقید حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔

بھارت سے کرکٹ بحالی پر سوال کے جواب میں احسان مانی کا کہنا تھا کہ بھارت میں نیا بورڈ آیا ہے کرکٹ معاملات پر بات نہیں ہوئی۔

احسان مانی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کرکٹ کے لیے کسی کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک شخص کو اختیارات دینے والی باتیں کرنے والے لاعلم ہیں