قائداعظم اور نہر سوئز

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے بڑے بزرگوں کا تعلق بمبئی پریذیڈنسی کے ریجن کاٹھیاواڑ کی ریاست گوندل سے تھا ان کے دادا پونجا بھائی ایک اسماعیلی کھوجا تھے تھے اور گوندل ا سٹیٹ کے گاؤں پانیلی میں رہتے تھے ۔گوندل سٹیٹ کی اکثریتی آبادی زراعت سے وابستہ تھیں یہاں کی کاٹن گندم اور مرچ بہت مشہور تھی ۔پونجا بھائی اپنی ملکیت میں موجود چند لومز پر کام کرتے تھے اور اچھی کوالٹی کا کپڑا تیار کرکے اسے بھیجتے تھے جس کی بدولت اتنی اچھی آمدن ہوجاتی تھی کہ ان کی فیملی کا شمار اچھے مالدار گھرانوں میں ہوتا تھا ۔یہ بات فاطمہ جناح نے بیان کی جسے سندھ مدرسہ الاسلام یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ نے قائداعظم کی تعلیم جدوجہد اور کامیابیوں کے حوالے سے لکھی گئی اپنی کتاب کے پہلے چیپٹر میں بیان کیا ہے ۔قائد اعظم کے دادا پونجا بھائی کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی جن کے نام ولی بھائی ۔نتھو بھائی ۔جناح بھائی اور من بائی  تھے ۔پوجا بھائی کا سب سے چھوٹا بیٹا جناح بھائی 1850 میں پیدا ہوا  ۔جب وہ بڑے ہوئے تو انہیں اپنے گاؤں میں چند لونز پر جاری اپنے والد اور دو بھائیوں کا کام کوئی زیادہ دلچسپ محسوس نہیں ہوا لہذا انہوں نے گاؤں پانیلی کو چھوڑ کر ریاست کے بڑے شہر گوندل جانے کا فیصلہ کیا ۔محترمہ فاطمہ جناح کے مطابق کافی سال گزر گئے تب جناب بھائی کی محنت اور تجربے کی بدولت جناح  بھائی کی ٹریڈنگ کا بزنس شہر میں ایک مقام اور اہمیت حاصل کر گیا ۔وہ ایک کامیاب ٹریڈر بن گئے کاروبار مستحکم ہونے پر والدین نے 1874 میں ان کی شادی دھر افا گاؤں کی ایک اسماعیلی کھوجا فیملی میں مٹھی بائی سے کرادی ۔ان کا سسرال پانیلی گاؤں سے 10 کلومیٹر کی دوری پر واقع تھا ۔مٹھی بائی سے جناح بھائی کی شادی سے پانچ سال پہلے 1869 میں نہر سویز کی تکمیل ہو چکی تھی جس کے نتیجے میں کراچی کی بندرگاہ لیٹیسٹ انڈیا کے لئے یورپ سے نزدیک ترین بندرگاہ کی حیثیت اختیار کر گئی ۔نہر سویز سے کراچی200 ناٹیکل  میل بمبئی سے پہلے پڑتا تھا لہذا یورپی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں کے لیے کراچی بندرگاہ اہمیت رکھتی تھی کیونکہ یہاں آنے سے وقت پیسہ اور ایندھن بچتا تھا اور ٹریڈنگ کے لیے سندھ بلوچستان پنجاب اور نادرن انڈیا یہاں تک کہ افغانستان کے لیے یہ بہترین روڈ تھا سا مان ا سی بندرگاہ سے آگے چلا جاتا تھا بندرگاہ کی وجہ سے کراچی کے مستقبل کو تابناک دیکھتے ہوئے جناح بھائی نے کراچی شفٹ  ہونے کا پروگرام بنایا اور اپنی اہلیہ کو ہمراہ لائیں اور یہاں پر نیا بزنس سیٹ کر لیا ۔ڈاکٹر محمد علی شیخ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ یہاں سے دو تھیوریز سامنے آتی ہیں کہ کس طرح جنا ح  بھائی کراچی آئے اور کس طرح اور کہاں قیام پذیر ہوئے ۔ایک تھیوری کہتی ہے کہ وہ براہ راست کراچی شہر پہنچے اور ایک بلڈنگ میں اپارٹمنٹ کرایہ پر لیا جسے دنیا آج وزیر مینشن کے نام سے جانتی ہے جو کراچی کے اولڈ ایریا کھارادر میں واقع ہے ۔دوسری تھیوری یہ ہے کہ جناح  بھائی پہلے جھرک کے مقام پر آئے تب وہ کراچی ڈسٹرکٹ  کا ٹاؤن تھا آج ٹھٹھہ ڈسٹرکٹ میں ہے اور وہاں کچھ سال قیام کے بعد کراچی شہر آئے تھے ۔ کتاب کے مصنف کا کہنا ہے کہ جھگ میں اسماعیلی کمیونٹی کے سربراہ پرنس آغا خان نے 1843 میں اپنی جگہ تعمیر کرائی تھی کیونکہ یہ تب بزنس کا مرکز  تھا ۔جناب بھائی نے بھی پرنس آغا خان کے پلاٹ سے کچھ آگے ایک زمین لی تھی جناب بھائی کے ملوث اپلوڈ کے قریب ہی ایک پرائمری اسکول تھا جس کی اہمیت کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ انگریزوں نے اسے 1870 میں تعمیر کر دیا تھا یہ اسکول آج بھی فنکشنل ہے لیکن پرانا ریکارڈ ضائع ہوچکا ہے جھلک میں تب اسکول کے قیام سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انگریزوں کے دور میں ایسے علاقے کو بڑی اہمیت حاصل تھی اس لیے یہاں اسکول علی گڑھ انسٹیٹیوٹ 1875میں قائم ہونے سے پانچ سال پہلے کھولا گیا جبکہ سندھ مدرسہ الاسلام تو 1885 میں شروع ہوا اس سے 15 سال پہلے جھڑپ میں اسکول شروع ہوچکا تھا ۔مصنف کے مطابق بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ مسٹر جناح گروپ میں پیدا ہوئے اور پرائمری تعلیم بھی جھڑک کے پرائمری اسکول سے حاصل کی البتہ یہ بات ثابت کرنے کے لئے کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے جبکہ مسٹر جناح نے خود کہا تھا کہ انہیں سندھی ہونے پر فخر ہے وہ سندھ میں پیدا ہوئے طب سندھ بمبئی پریذیڈنسی کا حصہ تھا  مسٹر جناح بعد ازاں سندھ سے الگ صوبہ بننے پر بھی بہت خوش تھے ۔دوسری طرف بعض اسکالرز کہتے ہیں کہ مسٹر جناح نے خود نشاندہی کی تھی کہ وہ کراچی میں پیدا ہوئے ۔جناب بھائی اور ان کی فیملی کراچی شیخ ہوگی اور نیو ن  ہام روڈ پر تین منزلہ بلڈنگ کے ایک اپارٹمنٹ میں رہائش اختیار کرلی ۔محترمہ فاطمہ جناح کے مطابق میرے والد نے کھارادر کے علاقے میں دو کمرے کا اپارٹمنٹ لیا تھا  اس علاقے میں گجرات اور کاٹھیاواڑ سے بزنس فیملیاں رہتی تھی ہماری رہائش پہلی منزل پر تھی یہ ویسٹ اوپن رہائش تھی ۔ہمارے گھر میں گجراتی زبان بولی جاتی تھی کیونکہ ہم لوگ کاٹھیاواڑ سے آئے تھے ۔کچھ عرصہ کراچی میں رہنے کے بعد ہمارے فیملی ممبرز نے کچھی اور سندھی زبان بھی بولنا شروع کر دی تھی ۔جناح بھائی نے کراچی میں مختلف کاروبار میں قسمت آزمائی ۔انہوں نے انگریزی زبان سیکھیں جس نے ٹریڈنگ اور کامرس میں ان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا یورپ برطانیہ فار ایسٹ ملکوں سے کراچی کے لیے ضروری سامان کی امپورٹ ایکسپورٹ اہم کاروبار تھا گرام ٹریڈنگ کمپنی اس کام کے لیے مشہور تھی کمپنی کے جنرل مینیجر کے ساتھ والد کا اچھا کاروباری تعلق بن گیا تھا جس نے کامیابی دی ۔جناب بھائی نے پھر اپنی کمپنی قائم کی جس کا نام جناح پونجا اینڈ کو ۔رکھا اور انہوں نے مختلف ملکوں کے ساتھ کاروبار کیا زیادہ بزنس انگلینڈ اور ہانگ کانگ سے کیا گیا ۔اس دور میں وہ غیر روایتی بینکنگ بھی کرتے رہے ان کی زبان کی بڑی اہمیت تھی جو بات بول دیتے اس پر قائم رہتے اعتماد کی بنیاد پر کاروبار آگے بڑھتا چلا گیا ۔جناب بھائی اور مٹھی بھائی کی پہلی اولاد محمد علی جناح تھے جو 25 دسمبر 1876 کو پیدا ہوئے ۔لیکن تین اسکول رجسٹروں میں ان کی تاریخ پیدائش 20 اکتوبر 1875 لکھوائی گئی البتہ 1946 میں خود مسٹر جناح نے لکھوایا تھا کہ ان کی تاریخ پیدائش 25 دسمبر 1876 ہے پیدائش کا وقت صبح سویرے کا ہے اور مقام کراچی ہے لہذا اسی تاریخ پر ان کی سرکاری طور پر سالگرہ منائی جاتی ہے ۔محترمہ فاطمہ جناح کے مطابق کاٹھیاواڑ میں فیملی کے مردوں کے نام ہندوؤں کی مناسبت سے رکھے جاتے تھے لیکن سندھ ایک مسلمان صوبہ تھا اس لئے یہاں ہمسایوں کے نام بھی مسلم تھے لہذا والدین نے پہلے بچے کا نام منفرد رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور پہلی اولاد کو محمد علی کا نام دیا گیا محمدعلی شمعہ کے تھے تو فیملی ان کو دوبارہ کاٹھیاواڑ دے کر گئی جہاں مقامی درگاھ حسن پیر پر ان کا عقیقہ کیا گیا ۔محمد علی کے بعد مزید 6 بچے پیدا ہوئے دو بھائی چار بہنیں ۔مجموعی طور پر جناح بھائی اور مٹھی بائی تھی سات اولادیں تھی جن کے نام اور ترتیب یوں ہے ۔ 1- محمدعلی بیٹا 2- رحمت بیٹی 3- مریم بیٹی 4- احمدعلی بیٹا 5- شیریں بیٹی 6- فاطمہ بیٹی 7- بندے علی بیٹاjeeveypakistan.com-report









اپنا تبصرہ بھیجیں