ﻣﺠﮭﮯ ﮨﮯ ﺣﮑﻢِ ﺍﺫﺍﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ

ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺑﺖ ﮨﯿﮟ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﺁﺳﺘﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﮯ ﺣﮑﻢِ ﺍﺫﺍﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
کویت پاکستان فرینڈ شپ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام کویت میں مسلسل 26 واں یوم اقبال مقررین کا حکیم الامت حضرت علامہ اقبال کے کلام پر مفصل اظہار خیال : پروفیسر سجاد اور رانا اعجاز کے علمی و تحقیقی مقالے – وفاقی تعلیمی بورڈ کے زیر اہتمام امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنےطلبہ میں انعامات کی روایت برقرار
کویت میں کویت پاکستان فرینڈ شپ ایسوسی ایشن نے مسلسل 26 واں یوم اقبال منا کر اپنی روایت برقرار رکھی، رواں سال یوم ولادت علامہ محمد اقبال کے سلسلہ کی واحد تقریب تھی جس کی چیف گیسٹ کویت میں شاہی خاندان کی اہم شخصیت شیخہ سھیلہ سالم الصباح تھیں جبکہ سفارت خانہ پاکستان کے چارج ڈی افیئرز عزت مآب اشعر شہزاد آنریری مہمان تھے، تقریب کی صدارت کویت یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر سجادالر حمن نے کی ۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جس کی سعادت شیخ سعید نے حاصل کی، کے پی ایف اے ،کے صدر رانا اعجاز حسین ایڈووکیٹ کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی تاکہ وہ معزز مہمانان کا استقبال کرسکیں،انہوں نے تقریب کی صدارت کیلئے پروفیسر ڈاکٹر سجاد الرحمن ،شفیع خاں قائمقام صدر ایجوکیشنل کمیٹی اور محمد عارف بٹ صدر پاکستان بزنس کونسل کونسل کو اسٹیج پر اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہونے کی دعوت دی، شیخہ سھیلہ سالم الصباح اور اشعر شہزاد چارج ڈی افییرز ذاتی مصروفیات کے باعث کچھ دیر بعد تشریف لائے تو ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔
اس موقعہ پر کمپییرنگ کے فرائض سہیل یوسف کے سپرد کر دئیے گئے جنہوں علامہ اقبال کے منتخب اشعار پیش کر کے ادبی ماحول پیدا کر دیا ،سب سے کلام اقبال پیش کرنے کا مقابلہ ہوا جس میں انٹرنیشنل اسکول و کالج کی طالبہ امل زاھد اور حولی اسکول کی طالبہ اعلا عمر نے حصہ لیا، اعلا عمر عربی طالبہ ہیں جن کا تعلق مصر سے ہے انہوں نے علامہ اقبال کا کلام بڑی روانی سے پیش کیا ،جس پر انہیں مقابلہ کی فاتح قرار دیا گیا
ریڈیو کویت اردو سروس کی اناؤنسر محترمہ ندا مرزا نے خوبصورت مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال نے اسلامی نظریہ کو اس انداز سے پیش کیا کہ عالم اسلام میں زندگی کی نئی لہر پیدا ہوگئی ۔اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کویت کے جنرل سیکرٹری محمد انعام نے کہا کہ علامہ اقبال نے قوم کو خودی کا سبق دیا، ہمیں کلام اقبال کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔
ووپ میڈیا کے سی ای او طارق اقبال نے ،ﺧُﻮﺩﯼ ﮐﺎ ﺳﺮِ ﻧِﮩﺎﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ ﺧﻮﺩﯼ ﮨﮯ ﺗﯿﻎِ ﻓﺴﺎﮞ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ
کلام اقبال بڑی خوبصورتی سے پیش کیا
،کویت یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالستار نے کلام اقبال کے حوالہ سے ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا،انہوں نے کہا کہ علامہ حقیقت میں مفسر قرآن تھے، وہ تلاوت قرآن کریم کرتے ہوئے اتنا روتے تھے کہ قرآن مجید کے اوراق گیلے ہو جاتے تھے،اقبال کے نزدیک خودی غرور و تکبر کا نام نہیں بلکہ خود کو پہچاننے کا نام ہے۔
حافظ عبد الغفور نے کلام اقبال بڑی خوبصورتی سے پیش کیا۔
کویت پاکستان فرینڈ شپ ایسوسی ایشن کے صدر رانا اعجاز حسین ایڈووکیٹ، جو کویت میں مستند ماہر اقبالیات تصور کئے جاتے ہیں، ان کی زیر سرپرستی کے پی ایف اے پچھلے 26 سال سے یوم اقبال منا رہی ہیں، انہوں نے فکر اقبال کے حوالہ سے ایک جامع مقالہ پیش کیا،انہوں نے کہا کہ افکار اقبال ایک دوسرے کے ساتھ لڑیوں کی شکل میں جڑے ہوئے ہیں،انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال کی شخصیت کے 5 عناصر ہیں  ایمان اور یقین مطالعہ قرآن پیغام حریت آہ سحر، راتوں کو رو رو کر گڑگڑانا مولانا روم کی مثنوی ان عناصر نے علامہ اقبال کی شخصیت میں روحانیت پیدا کر دی تقریب کے کمپئیر سہیل یوسف نے کلام اقبال سے خوبصورت انتخاب پیش کیا، انہوں نے علامہ اقبال کی مشہور نظم ،،طلوع اسلام،، سے اشعار پیش کئے۔تقریب کے آنریری مہمان اشعر شہزاد چارج ڈی افیئرز سفارتخانہ پاکستان نے کہا کہ وہ کویت پاکستان فرینڈ ایسوسی ایشن کوفکر اقبال پر اتنا یادگار پروگرام پیش کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں ، حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے دو قومی نظریہ پیش کر کے بر صغیر کے مسلمانوں میں آزادی کی لہر پیدا کی
پروفیسر ڈاکٹر سجاد الرحمن نے صدارتی خطاب میں کہا کہ وہ عاشق اقبال ہیں کیونکہ اقبال عاشق رسول ہیں، انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے اج سے 100 سال پہلے کشمیر کے حوالہ سے ایک نظم لکھی تھی جو کشمیر کے موجود ہ حالات کی ہوبہو عکاس ہے ،محسوس ہوتا ہے کہ یہ نظم اج کے دور میں لکھی گئی ہے ۔
تقریب کے اخری حصہ کے موقعہ پر وفاقی تعلیمی بورڈ کے زیر اہتمام امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والوں کو انعامات دئیے گئے، پاکستان بزنس کونسل کے صدر محمد عارف بٹ نے ہونہار طلبہ میں انعامات کی روایت برقرار رکھی،بہترین تعلیمی ادارہ کا انعام ایک مرتبہ پھر انٹرنیشنل اسکول و کالج خیطان کے پرنسپل کرنل (ر ) انجم مسعود نے وصول کیا۔
اخر میں شفیع خاں نے معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔دعا کے بعد شرکاء کو پر تکلف عشائیہ کی دعوت دی گئی ۔اس طرح یہ تقریب کئی خوشگوار یادیں لئے اختتام کو پہنچی۔





اپنا تبصرہ بھیجیں