ناصر کاظمی کی 94 ویں سالگرہ

ردو ادب کے معروف شاعر ناصر کاظمی کے مداح آج ان کا 94 واں یومِ پیدائش منا رہے ہیں۔

ناصر کاظمی 8 دسمبر 1925کو بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع انبالہ میں پیدا ہوئے، 1954 میں ان کا پہلا شعری مجموعہ برگ نے شائع ہوا جس نے شائع ہوتے ہی انہیں اردو غزل کے صف اول کے شعراء میں لاکھڑا کیا۔

ناصر کاظمی غزل کو زندگی بنا کر اسی کی دھن میں دن رات مست رہے، ناصر نے غزل کی تجدید کی اور اپنی جیتی جاگتی شاعری سے غزل کا وقار بحال کیا جن میں میڈیم نور جہاں کی آواز میں گائی ہوئی غزل ”دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا“ شامل ہیں
نہوں نے پیروی میر کرتے ہوئے ذاتی غموں کو شعروں میں سمویا لیکن ان کا اظہار غم پورے عہد کا عکاس بن گیا۔

ناصر کے اظہار میں شدت اور کرختگی نہیں بلکہ احساس کی ایک دھیمی جھلک ہے جو روح میں اترتی محسوس ہوتی ہے اور جب ان کے اشعار سر اور تال کے ساتھ مل کر سماعتوں تک پہنچتے ہیں تو ایک خوشگوار احساس دلوں میں ہلکورے لیتا ہے۔

ناصر کاظمی 2 مارچ2 197 کو لاہور میں وفات پاگئے اور مومن پورہ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں، ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے۔

دائم آباد رہے گی دنیا

ہم نہ ہونگے کوئی ہم سا ہوگ