قائد اعظم محمد علی جناح کا برٹش انڈیا سے انگلینڈ تک بحری جہاز پر سفر

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا برٹش انڈیا سے انگلینڈ تک بحری جہاز پر ہونے والا سفر اپنی نوعیت کا یادگار اور منفرد سفر ہے ان دنوں عام طور پر بحری جہاز سے یہ سفر دوسے تین ہفتوں میں مکمل ہوتا تھا ۔برٹش انڈیا سے انگلینڈ جانے کے لیے نوجوان محمد علی جناح اکیلے ہی سفر پر روانہ ہوئے تھے اس لیے انہیں سفر اور راستے کی مشکلات اور مسائل کے بارے میں با تجربہ کار لوگوں نے آگاہی دی تھی ۔
سندھ مدرستہ الاسلام کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ نے قائداعظم کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے لکھی گئی اپنی کتاب میں قائد اعظم محمد علی جناح کے برٹش انڈیا سے انگلینڈ تک کے بحری جہاز کے سفر کو بھی قلم بند کیا ہے اس سفر کا تذکرہ انہوں نے کتاب میں اپنے تیسرے چیپٹر میں کیا ہے جس کا عنوان لندن میں تعلیم ہے ۔برطانیہ کے اس بحری سفر کے دوران ان کا جہاز مختلف بندرگاہوں پر لنگر انداز ہوا پورٹ سعید پر جب ان کا جہاز رکا اور وہ بندرگاہ پر اترے تو کچھ انگریز مسافروں نے انہیں مطلبی کیا کہ یہاں پر جیب کتروں سے ہوشیار رہنے کی اشد ضرورت ہے یہ جیب کتری اپنی انگلیوں کی صفائی سے آپ کا فرض جیب سے ایسے نکالتے ہیں کہ آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا ۔قائد اعظم محمد علی جناح اس مشورے اور تمہیں کے بعد بندرگاہ پر جیب کتروں سے ہوشیار ہو کر گھومتے پھرتے رہے انہوں نے اپنے پاس معمولی سی رقم جیب میں رکھیں اورچوکس نہیں اور واپس جہاز پر آکر انہوں نے اپنے انگریزی ساتھیوں کو بتایا کہ دیکھیں میں خیروعافیت سے واپس آگیا ہوں جیب کتروں سے بچ گیا ہوں اور میرا پرس میرے پاس ہے ۔یہ واقعہ محترمہ فاطمہ جناح نے بیان کیا تھا جسے کتاب کا حصہ بنایا گیا ۔
قائداعظم محمدعلی جناح فروری 1893 میں برطانیہ پہنچے-

بحری جہاز سے ساوتھ ایمپٹن پہنچنے کے بعد انہوں نے لندن جانے کے لیے ٹرین لی ۔لندن اس زمانے میں بھی دنیا کے چند خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک تھا ۔قائد اعظم محمد علی جناح نے لندن کے ایک ہوٹل میں ایک کمرہ کرایہ پر لیا ۔فروری کے مہینے میں لندن کی سردی میں قائداعظم محمدعلی جناح کو کافی تنہائی محسوس ہوئی کیونکہ وہ بچپن سے ہی ایک بڑی فیملی میں رہنے کے عادی تھے اس کا ذکر انہوں نے خود بھی کیا تھا جس میں وہ کہتے تھے کہ میں جوان تھا اور تنہا تھا اور مجھے گھر سے دور ہونے کی وجہ سے تنہائی ستانے لگی تھی مجھے والدین اور بہن بھائیوں کی یاد آتی تھی میں ایک نئے ملک میں تھا جہاں زندگی کافی مشکل تھی یہ اس زندگی سے مختلف تھی جو میں نے کراچی میں دیکھی تھی ۔
قائداعظم نے اپنی ٹریننگ کے لئے گراہم شپنگ کمپنی میں رپورٹ کیا ۔ان کے والد نے رویل بینک آف سکاٹ لینڈ کے ذریعے کافی رقم ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کر رکھی تھی تاکہ وہ برطانیہ میں دو سال کے قیام کے دوران کسی مالی مشکلات کا شکار نہ ہو ں ۔انہوں نے لندن کے کینسگٹن ایریا میں قیام کیا وہاں سے وہ کمپنی کے دفتر جو ٹریڈ نیڈل اسٹریٹ پر واقع تھا جایا کرتے تھے انہیں اپنی تعلیم اور اکاؤنٹ لیجر کی تیاری کے لئے ایک ٹیبل اور کرسی فراہم کی گئی تھی لیکن اس کام میں انہیں زیادہ دلچسپی نہیں تھی ۔
اپریل 1993 میں وہ 40 گلاس بری روڈ ویسٹ کنگسٹن میں رہ رہے تھے ان کے دفتر اور رہائش گاہ کے درمیان آٹھ کلومیٹر کے لگ بھگ فاصلہ تھا ۔