بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت سے جڑے اہم سوالات اور محمد علی شیخ کے کتابی جوابات

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی مادر علمی سندھ مدرسہ الاسلام جسے اب یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہو چکا ہے اس یونیورسٹی کی جانب سے قائداعظم محمد علی جناح کی ایجوکیشن سٹرگل اور اچیومنٹس کے حوالے سے ایک کتاب 2013 میں شائع کی گئی اس کتاب کے مصنف یونیورسٹی کے وائس چانسلر محمدعلی شیخ ہیں اس کتاب کو شائستہ ایم علی نے ڈیزائن کیا اور انہیں محمد ماجد خان نے اسسٹنٹ کیا کتاب کے پرنٹر خواجہ پرنٹرز اینڈ پبلشرز ہیں ۔122 صفحات پر مشتمل اس کتاب کے 12 چیپٹر ہیں یاد رہے کہ سندھ مدرسہ الاسلام نے ان 1885 سے بطور اسکول اپنا آغاز کیا 1943 میں اسے کالج اور فروری 2012 میں اس یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا ۔سندھ مدرسہ اسلام کے ریکارڈ کے مطابق اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے یہاں پر 1887 سے اٹھارہ سو بیانوے1892 تک تعلیم حاصل کی .
اس کتاب کے ابتدائیہ میں محمد علی شیخ نے لکھا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت کے متعدد زاویے ہیں جن میں پراسراریت بھی ہے اور مزید ریسرچ کی ضرورت بھی ۔اسی طرح کا ایک زاویہ ان کی ابتدائی زندگی اور ابتدائی تعلیم سے متعلق ہے ۔ابتدائی زندگی کا یہ حصہ اسلئے اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ اسی کی بنیاد پر مستقبل کی بنیاد رکھی جاتی ہے ۔
سندھ مدرستہ الاسلام میں قائداعظم محمد علی جناح کی تعلیمی دور 1887سے 1892 کے ریکارڈ کے کسٹوڈین کی حیثیت سے مجھے اس بات پر حیرت ہوئی کہ مختلف سوانح عمری لکھنے والوں نے وقار واقعات اور حقائق کے بیانیہ میں درستگی کا خیال نہیں رکھا ۔مثال کے طور پر Hector Bolitho نے ان کے بارے میں لکھا کہ انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا حالانکہ یہ درست نہیں ۔
محترمہ فاطمہ جناح نے لکھا کہ انہوں نے پرائمری ایجوکیشن کا کچھ حصہ سندھ مدرسہ سے حاصل کیا تھا یہ بھی ریکارڈ کے مطابق درست نہیں ۔پھر محمد علی صدیقی نے لکھا تھا کہ انہوں نے سندھ مدرسہ میں 1883 میں داخلہ لیا ،اعلی کے 1883 میں سندھ مدرسہ قائم ہی نہیں ہوا تھا اس نے یکم ستمبر اٹھارہ سو پچاسی 1885سے کام کا آغاز کیا .اس طرح بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قائد کی سوانح عمری لکھنے والوں نے ان کی ابتدائی تعلیمی زندگی کے حوالے سے زیادہ تحقیق نہیں کی ۔عام تاثر یہ ہے کہ قائد نے انگریزی میں روانی اور مہارت لندن سے حاصل کی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جب وہ لندن پہنچے تو انگریزی زبان پر ان کی کمانڈ پہلے سے موجود تھی اور انہوں نے لنکنزان میں داخلہ کے وقت اپنی بہترین انگلش سے کامیابی حاصل کی ۔
محمد علی شیخ نے اپنی کتاب میں یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی جائے پیدائش کے حوالے سے بھی مختلف آرا کا اظہار کیاجاتاہے ۔
خود قائد نے اکتوبر 1938 میں کہا تھا کہ انہیں اپنے سندھی ہونے پر فخر ہے اور وہ سندھ میں پیدا ہوئے تب سندھ بمبئی کا حصہ تھا ایک اور موقع پر انہوں نے نشاندہی کی کہ وہ کراچی میں پیدا ہوئے تھے جو سندھ کا دارالحکومت تھا اور ہے لیکن سوال یہ ضرور اٹھتا ہے کہ کراچی کے کس حصے میں پیدا ہوئے تھے کیا وہ کھارادر شہر کا اولڈ سٹی ایریا تھا یا ڈسٹرک کراچی کا علاقہ جھرک تھا دونوں تھیوریز کے حامی اور مخالفین کی بڑی تعداد موجود ہے ۔
کتاب میں محمد علی شیخ نے یہ بھی لکھا ہے کہ لندن میں 1893 سے لے کر 1896 تک ان کا قیام بھی ان کی زندگی اور تعلیم کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل رہا اور زندگی کے اس دور پر بھی مزید تحقیق اور معلومات حاصل کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے محمد علی شیخ نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ان مختلف حوالوں پر مزید تحقیق کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے میں نے فیصلہ کیا کہ سندھ مدرستہ الاسلام میں دستیاب ریکارڈ کو عوام کے سامنے لایا جائے اور اسے کتابی شکل دی جائے اس سلسلے میں بے شمار لوگوں نے میری مدد کی جن کا میں فردن فردن تو شکریہ ادا کر نہیں سکتا لیکن اس کتاب کی تیاری میں شائستہ ایم علی کی ڈیزائننگ پر ان کا شکر گزار ہوں اسی طرح انہیں اسسٹنٹ کرنے پر ماجد صاحب اور پروف ریڈنگ کے لیے زاہد اسلام کا مشکور ہوں مشورے دینے پر انور ابلو اور میوزیم سے ریکارڈ کی دستیابی میں مدد کرنے پر سریش کا شکرگزار ہوں لائبریری کے حوالے سے یوسف اور نوٹس کی ٹائپنگ کے حوالے سے قاسم سعید شمس اور اعجاز کا مشکور ہو ں ۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش کے حوالے سے رواں ماہ جیوے پاکستان ڈاٹ کام اپنے آنے والے ایڈیشن میں قائد اعظم پر لکھی گئی کتابوں اور ان کی شخصیت کے حوالے سے اٹھائے گئے مختلف سوالات اور ان کے کتابیں جوابات کے حوالے سے مزید تفصیلات اپنے قارئین کے سامنے لاتا رہے گا ۔