کیا کراچی حیدرآباد کا حال آپ نے دیکھا ہے،کیا وہ روڈ موٹر وے کہلانے کے لائق ہے ?

سپریم کورٹ نے اسلام آباد میں غیرقانونی تعمیرات اور قبضے واگزار کرانے کا حکم دیتے ہوئے تفصیلات طلب کرلیں.عدالتی حکمنامے میں کہا گیا کراچی حیدر آباد موٹر وے،چترال گلگت روڈ،حیدر آباد سیون دادو موٹر ویز سمیت ملک کی تمام ہائی ویز کی تفصیلات چھ ہفتوں میں پیش کی جائیں۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی. کیس کی سماعت کے دوران سی ڈی اے، این ایچ اے کے چیئرمین اور میئر اسلام آباد پیش ہوئے. عدالت نے قرار دیا مس کنڈکٹ کے مرتکب سی ڈی اے افسران کیخلاف دیوانی اور فوجداری کارروائی کی جائے،سی ڈی اے کو مالی نقصان پہنچانے والے افسران سے ریکوری کی جائے. عدالت نے مزید کہا میئر اسلام آباد نے گیارہ ہزار کا عملہ ہوتے ہوئے بھی ہتھیار ڈال دیے،میئر کے مطابق وہ اپنے عملے کی پوسٹنگ ٹرانسفر بھی نہیں کر سکتے، میونسپل کارپوریشن کیساتھ یہی سلوک کرنا تھا تو بنایا ہی کیوں گیا؟تمام ترقیاتی کام ایم سی آئی کی منظوری سے ہی ہونگے،سیکرٹری داخلہ اسلام آباد کے انتظامی مسائل کا حل نکالیں،چیئرمین سی ڈی اے گزشتہ 30 سالوں میں ہونے والی کوتاہیوں کی انکوائری کرکے عدالت کو رپورٹ دیں.کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ وزارت داخلہ کابینہ کی منظوری سی ڈی اے کے نئے بورڈ کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے، سی ڈی اے کے پاس 11ارب روپے سے زائد کے فنڈز موجود ہیں. جسٹس گلزار احمد نے کہا ان پیسوں کا کیا فائدہ جب عوام کی مشکلات دور نہ ہو، جہاں جاتا ہوں وہاں کے حالات خراب نظر آتے ہیں،اسلام آباد کا حشر بگاڑ دیا گیا،زلزلوں کے باوجود سیاست دانو کے کہنے پر ملٹی اسٹوری بلڈنگ کی اجازت دی گئی،ایئرپورٹ سے اسلام آباد داخل ہونے تک کوئی لائٹ نہیں ہے ،سروس روڈز کوپلازہ اپنی پارکنگ کیسے استعمال کررہے ہیں. جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا شام کو سینٹورس کے چاروں اطراف دیکھے مچھلی بازار لگتا ہے.سماعت کے دوران میئر اسلام آباد نے شکایت کی ہمارے لوگوں کا تبادلہ وزارت داخلہ کررہی ہے،ہمارا بجٹ بھی حصے کے مطابق ہمیں نہی ںمل رہا ہے، کراچی میں پیدل جا کر سفر کرتا ہوں.جسٹس گلزار احمد نے چیئرمین این ایچ اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کیا آپ نے کبھی زمینی سفر کیا ہے، کیا کراچی حیدرآباد کا حال آپ نے دیکھا ہے،کیا وہ روڈ موٹر وے کہلانے کے لائق ہے،روڈ ناقص ہونے کی بنیاد پرجو حادثات ہوں گے انکے آپ ذمہ دار ہوں گے،پولیس والوں کو کہہ دیتے ہیں کہ جو بھی روڈ ناقص ہونے کے باعث حادثہ ہو چیئرمین این ایچ اے کو شامل کیا جائے،ہر ماہ 5ہزار 3سو مقدمات آپ کے اوپر آئیں گے،آپ قانون کو سمجھ نہیں رہے یہی قانون پھانسی کے پھندے تک لے جاتا ہے، چترال گلگت روڈ پر کبھی آپ نے سفر کیا ہے، یہ منصوبہ دو مرتبہ کاغذوں میں بن چکا ہے،لیکن وہاں روڈ کا نام ونشان نہیں،آپ سمجھتے ہیں ہمیں کچھ علم نہیں، آپ کو اپنی چاروں طرف نظر رکھنی ہوگی. جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا ٹاپ سٹی والا علاقہ بھی کچی آبادی ہے سٹرکیں ہی نہیں ہیں،وہاں بھی کوئی صفائی کوئی سٹرک نہیں وہ تو ایم سی آئی کے ناک کے نیچے ہے،جہاں دل کرے وہاں جا کر جھنڈا لگا دیں کہ یہ اسلام آباد کی حد ہے،ایک ہلتی ہوئی میٹرو پورے شہر میں چل رہی ہے،رکشے لے کر آئیں لوگوں کو اپنی ثقافت دکھائیں،کوئی ایک رکشہ نظر نہیں آتا،کشمیر ہائی پر کہیں سٹرک پتلی اور کہیں چوڑی ہو جاتی ہے،مجھے ڈر لگتا ہے کہ میرا ڈرائیور فٹ پاتھ پر نہ چڑھا دے. سپریم کورٹ نے اسلام آباد سے کراچی تک شاہراہوں کی خستہ حالت پر ریمارکس دیکر سماعت چھ ہفتوں کیلئے ملتوی کردی-جہانزیب عباسی Pakistan24.tv-report


اپنا تبصرہ بھیجیں