دعا منگی خیریت سے ہے، اغواکاروں نے تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا کیا

) کراچی سے اغوا ہونے والی دعا منگی ایک کئی دنوں کے بعد گھر پہنچ گئی ہے۔دعا منگی کی بازیابی کے لیے کراچی میں بھرپور مظاہرے کیے گئے،دعا منگی کیس کو ہائی پروفائل قرار دے دیا گیا تاہم پولیس اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی کوئی سراغ لگانے میں ناکام رہی،دعا منگی گذشتہ شب گھر واپس پہنچی۔دعا منگی کے اہلخانہ اس حوالے سے فی الحال کوئی بھی موقف دینے سے کترا رہے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ دعا منگی گھر واپس آ چکی ہے اور وہ خیریت سے ہے۔
ذرائع کے مطابق دعا منگی کو تاوان کی ادائیگی کے بعد ہی رہا کیا گیا،اغواکاروں نے طالبہ دعا منگی کی رہائی کے لیے ملزمان نے ڈھائی لاکھ ڈالرز تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔دعا منگی کے اغوا میں کون ملوث تھا اس حوالے سے تاحال کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔
اس واقعے میں دعا منگی کا دوست حارث بھی زخمی ہوا تھا۔گذشتہ شب کراچی کے علاقے ڈیفنس سے اغوا ہونے والی لڑکی دعا کے دوست حارث کو ہوش آیا تھا۔
حارث اغوا کاروں کی گولی لگنے کے باعث زخمی ہو گیا تھا اور ہسپتال میں زیر علاج تھا۔ حارث نے پولیس کو دیے بیان میں اغوا کاروں کی جانب سے استعمال کی جانے والی گاڑی کی شناخت کی تھی۔ حارث نے یہ بھی بتایا تھا کہ دعا کو اغوا کرنے والوں کی تعداد 4 سے 5 تھی۔اس کیس کو تفتیشی حکام نے بسمہ کے اغواء کیس سے ملتا جلتا قرار دیدیا۔ خیال رہے کہ 19 سالہ طالبہ دعا منگی کو 30 نومبر کی رات 10 بجے ڈیفنس فیز 6 کے علاقے بڑا بخاری کے ریسٹورنٹ کے باہر سے اغوا کیا گیا تھا اور ان کے ساتھی حارث سومرو کو گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔
دعا منگی کی بازیابی کے لیے تین تلوار پر مظاہرے بھی کیے گئے جس میں دعا کے اہل خانہ، تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی، ایم کیو ایم تنظیمی بحالی کمیٹی کے سربراہ فاروق ستار اور سماجی رہنما جبران ناصر سمیت دیگر سیاسی و سماجی رہنما شریک ہوئے 


اپنا تبصرہ بھیجیں