ڈیفنس سے اغوا ہونے والی طالبہ دعا منگی گھر واپس پہنچ گئیں

کراچی کے ضلع جنوبی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں بخاری کمرشل سے اغوا ہونے والی طالبہ دعا منگی گھر واپس پہنچ گئیں۔
ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق پولیس ذرائع نے بتایا کہ دعا منگی گزشتہ رات گھر واپس پہنچی تھی تاہم ان کے اہلِ خانہ اس حوالے سے کوئی بھی تفصیلات فراہم کرنے سے گریزاں ہیں۔
اس ضمن میں ڈی آئی ساؤتھ زون نے بتایا مقدمہ میں تفتیش جاری ہے مزید تفصیلات سے جلد مطلع کیا جائے گا۔
اس حوالے سے ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ دعا کو ممکنہ طور پر تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا کیا گیا اور اغوا کاروں سے ان کے اہلِ خانہ نے براہِ راست بات کی۔

یاد رہے کہ 30 نومبر کو بخاری کمرشل میں ایک ریستوران کے قریب سے کار سوار ملزمان نے دعا نامی طالبہ کو زبردستی اغوا کیا تھا جبکہ لڑکی کے ساتھ موجود نوجوان حارث فتح سومرو فائرنگ سے زخمی ہوگیا تھا۔
واقعے کا مقدمہ درخشاں تھانے میں زخمی نوجوان حارث فتح سومرو کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
بعدازاں دعا منگی کی بازیابی میں ناکامی اور کوئی سراغ نہ ملنے پر اہل خانہ اور سول سوسائٹی کے افراد نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا جس میں دعا کی جلد بازیابی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
بعدازاں پولیس نے دعا کے اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی شاہراہِ فیصل پولیس اسٹیشن کے علاقے گلشن سے برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

تفتیش سے منسلک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ جو گاڑی برآمد ہوئی وہ اغوا کے واقعے میں استعمال ہوئی ہے اور یہ گاڑی 27 نومبر کو فیروز آباد سے چھینی گئی تھی جس سے اشارہ ملتا ہے کہ ملزمان نے پہلے گاڑی چھینی جس کے بعد لڑکی کو اغوا کیا۔
مغوی طالبہ کے اہل خانہ نے ابتدائی طور پر طلبا کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا کیونکہ اطلاعات تھیں کہ ان کا کسی سے جھگڑا ہوا تھا لیکن طلبہ کے ملوث ہونے کے حوالے سے کوئی مصدقہ ثبوت نہیں مل سکے تھے۔
بعدازاں ڈی آئی جی ساؤتھ زون شرجیل کھرل نے بتایا تھا کہ ‘یہ بظاہر اغوا برائے تاوان کا کیس ہے’، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ طالبہ کو تاوان کے لیے اغوا کیا گیا لیکن انہوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی تھی۔
اس سے قبل رواں برس مئی میں ڈی ایچ اے سے ہی ایک لڑکی بسمہ کو اغوا کیا گیا تھا اور وہ بھی مبینہ طور پر تاوان کی ادائیگی کے بعد گھر آگئی تھیں






اپنا تبصرہ بھیجیں