گلوکارہ میشا شفیع عدالت میں پیش

اداکار علی طفر کی جانب سے دائر کیے گئے ایک ارب روپے کے ہرجانے کے کیس میں دوسرے روز بھی گلوکارہ میشا شفیع عدالت میں پیش ہوئیں، تاہم ان کا بیان ریکارڈ نہ کیا جا سکا۔
میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا کیس لاہور کی سیشن کورٹ میں چل رہا ہے اور وہ 6 دسمبر کو پہلی بار اسی کیس میں عدالت میں پیش ہوئی تھیں، تاہم ان کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا تھا۔
کیس کی سماعت کرنے والے جج امجد علی شاہ کی دوسرے کیسز میں مصروفیات کے باعث 6 دسمبر کو میشا شفیع کا بیان ریکارڈ نہ کیا جا سکا تھا، جس کے بعد گلوکارہ کو 7 دسمبر کو طلب کیا گیا تھا مگر آج بھی ان کا بیان ریکارڈ نہ کیا جا سکا۔
جج امجد علی شاہ نے کیس کی مختصر سماعت کے بعد کیس کو 9 دسمبر تک ملتوی کردیا اور گلوکارہ میشا شفیع کو 9 دسمبر کی صبح کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے پیش ہونے کا حکم دیا۔

جج امجد علی شاہ ان دنوں سیشن جج کے بھی فرائض سر انجام دے رہے ہیں، جس وجہ سے گزشتہ 2 سماعتوں کے دوران میشا شفیع کا بیان ریکارڈ نہیں کیا جا سکا
7 دسمبر کو بھی میشا شفیع اپنے وکلا کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئیں، تاہم ان کا بیان ریکارڈ نہ کیا جا سکا، اب ان کا بیان 9 دسمبر کو ریکارڈ ہونے کا امکان ہے۔
اس سے قبل مذکورہ عدالت میں علی ظفر اور ان کی جانب سے پیش کیے گئے تمام 11 گواہوں کے بیانات ریکارڈ جا چکے ہیں اور ان پر جرح بھی مکمل کی جا چکی ہے۔

اس کیس میں گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے ان کی والدہ اداکارہ صبا حمید بھی گزشتہ ماہ 29 اکتوبر کو بطور گواہ عدالت میں پیش ہوئی تھیں اور انہوں نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں اس بات کا بھی علم ہے کہ علی ظفر نے ان کی بیٹی کے علاوہ بھی دیگر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا۔ اداکارہ صبا حمید کے بعد اداکارہ عفت عمر بھی گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے بطور گواہ عدالت میں پیش ہوئی تھیں اور انہوں نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔dawn-news-report

اپنا تبصرہ بھیجیں