جدہ کی ڈائیر ی۔

امیر محمد خان  –                                                                    اوؤرسیز ایڈیشن –
وطن عزیز میں چار صوبوں کی  خوبصورت  علیحدہ علیحدہ ثقافتیں  اور  لوک کہانیاں موجود ہیں  جس  سے نہ صرف ان صوبوں کے عوام  محبت کرتے ہیں بلکہ دیگر  صوبوں کے عوام  بھی ایک دوسرے برادر  صوبے کی ثقافت سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔سعودی عرب میں  صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے   پاکستانی  تارکین وطن کی  بڑی تعداد  صوبہ سندھ سے بھی موجود ہے جو  اپنی ثقافتی  کلچرل     ”اجرک ، اور ٹوپی کا تہوار نماء  دن پر  نہائت جوش و خروش سے اپنے اس دن کو مناتے ہیں   یہ دن تاریخی  حوالے سے  یکم دسمبر ہوتا ہے۔ گو کی سندھ کی تاریخ بہت قدیم ہے، صوفیوں کا صوبہ ہے ، مگر  سندھی ٹوپی اور اجرک کے دن کی  ابتداء   2009   میں شروع ہوئی  جب  سابقہ صدر  آصف علی ذرداری   پی پی پی  کے دور حکومت میں  افغانستا ن کے دورے پر  گئے پر  اپنے صوبے کی  ثقافت کی مناسبت سے  سندھی   ٹوپ  پہن رکھی تھی، اسی  ملبوس میں  انہوں نے افغانستا ن  میں اعلی عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں ، پاکستا ن میں  ”برگر فیملیز  “جنکی اپنی کوئی تاریخ نہیں  آصف علی ذرداری کے اس ملبوس پر اعتراضات کیئے، اسی سال سے  سندھ  میں اپنی ثقافت کو روشناس کرانے کیلئے صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والوں نے دنیا بھر میں ماہ دسمبر کے پہلے ہفتے  میں اس تہوار کو منانا شروع کردیا۔  اور بہت جوش و خروش سے مناتے ہیں۔  سعودی عرب کے شہر  ریاض، اور جدہ میں کئی تقاریب کا اہتمام کیا گیا ۔  جدہ کی  ایک تقریب میں  مہمان خصوصی  جدہ کے قونصل جنرل  خالد مجید  اور انکی اہلیہ تھیں ،  یہ جدہ کی کمیونٹی  میں بڑے پیمانے پر  انکی آمد کے بعد  ایک نہائت خوبصورت عشائیہ تھا اسطرح  منتظمین  نے اس تقریب کو سندھی  اجرک  کے تہوار  اور  قونصل جنرل کے استقالیہ سے منسوب کیا منتظمین میں  پاکستان کمیونٹی  کی سرکردہ شخصیات   رفیق میمن   اور  ڈاکٹر  منصور میمن ،  ڈاکٹر  منصور میمن  کا یہ خاصہ ہے کہ وہ بیک وقت  ریاض اور جدہ میں  اپنی اعلی تقریبات کی وجہ  سے مانوس ہیں۔  گو کہ وہ پیشہ کے حوالے سے ڈاکٹر ہیں  مگر  وہ  یہاں ایک غیر اعلانیہ سفارت  کار کی  حٰثیت  اس حوالے سے رکھتے ہیں  کہ انکی  تقریبات میں  یہاں موجود  غیرملکی  اعلی سفارت کاروں کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے  نیز پاکستانی  کمیونٹی کی  وہ شخصیات  جو یہاں اہم عہدوں پر فائز ہیں  انک ایک گلدستہ ہوتا ہے ،  اسطرح  غیر ملکی سفارت کار  پاکستانی کمیونٹی سے آشنا ء ہوتے ہیں  اور اس بہانے  ڈاکٹر میمن کی تقریب میں  موجود پاکستانی سفارت کار بھی اس موقع سے بھر پور فائدہ  اٹھاتے ہیں  ایک ہی تقریب میں بہت سے غیرملکی  سفارت کاروں سے  غیر سرکاری ملاقاتیں کرتے ہیں  جو  وطن عزیز کیلئے نہائت فائد ہ مند ہے  جدہ میں رفیق میمن  اور انکے رفیق کار  ڈاکٹر منصور میمن  نے  اس تقریب میں  پاکستان کے نئے آنے والے قونصل جنرل  خالد مجید  کو  اجرک پہنا ئی، جبکہ بیگم رفیق میمن نے  بیگم قونصل جنرل کو  اجرک پہنائی۔  اس موقع پر  ڈاکٹر  منصور میمن نے سندھ اور پاکستان کے حوالے سے خوبصور ت اشعار کے ساتھ  خطاب کیا۔  تقریب میں موجود  ترکی کے سفیر نے بھی خطاب کرتے ہوئے پاکستان  اور پاکستان کمیونٹی کی تعریف کی تیس سو کے لگ بھگ  پاکستان کمیونٹی  اور  سفارت کار  اپنے اہل  خانہ کے ساتھ موجود تھے بشمول پر تکلف  عشائیہ تین گھنٹے  یہ تقریب  ہوٹل کے ہال میں  رنگ  برنگ  لباسوں میں ملبوس  خواتین کے رنگ  بکھرے رہے۔ قونصل جنرل خالد مجید نے  اپنے خطاب میں شاندار تقریب کے انعقاد  اور اپنے استقبالیہ پر منتظمین کا شکریہ ادا کیا  تقریب کے آخر  قونصل جنرل خالد مجید نے  غیرملکی سفارتکاروں جن میں، امریکہ، چین،  گھانا،  ملائیشاء، صومالیہ،  اتھوپیا، ساوتھ افریقہ، چائیناء  اور دیگر ملکوں کے علاوہOIC   کے اعلی افسران کے ہمراہ کیک  کاٹا۔ 
میمین  ویلفئیر سوسائیٹی کی جانب تقریب اسنادہر سال کی طرح میمن ویلفیئر سوسائیٹی جدہ نے اس سال  ۸و یں سالانہ ایوارڈ کی پروقار تقریب کا  اہتمام ایک مقامی پارک میں کیا گیا    جس میں کمیونٹی  کے تقریبا 100 شاندار طالب علموں کو اعزاز سے نوازا گیا –اس تقریب کے مہمان خصوصی معروف سعودی اسکالر، مصنف، اسلامی معاشیات کے ماہر اور شاہ فیصل ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر عمر چھاپڑہ تھے جبکہ تقریب کی صدارت سعودی عرب کی پہلی این جی اوNGO کی پہلی سی ای او مشہور سعودی خاتون محترمہ دانیہ خالد المعینا نے کی تقریب بڑی تعداد میں یہاں موجود  میمن کمیونٹی نے  شرکت کی – جس میں ڈا کٹرز ،انجینئرز، بزنس مین، طلباء، بزرگ، نوجوان اور خواتین اور بچے شامل تہے صد میمن سوسائیٹی  نے  اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ ہم گذشتہ 8 سال سے اس تقریب کا اہتمام کر رہے ہیں سعودی عرب میں کمیونٹی کے طلبا ہر سال اس تقریب کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں سیکریٹری جنرل میمن ویلفیر  طیب موسانی نے سوسائیٹی  کی فلاحی خدمات وسرگرمیوں سے مہمانوں اور حاضرین وشرکاء کو آگاہ کیاطیب موسانی نے زبانوں اردو، انگریزی اور میمن میں تقریر کی اور کہا کہ بیرون ملک میں  کمیونٹی  کی مدد  سے وفلاحی خدمات کرنا آسان نہیں ہے لیکن اگرنیت خالص اور وسیع عزم ہو تو اللہ مدد کرتا ہے – انہوں نے کہا کہ لڑکیوں میں مریم فواد چھاپڑہ نے  اے لیول کے بزنس میں پورے سعودی عرب  اور لڑکوں میں نجف عمران قادر نے او لیول کے بائیولوجی میں پورے سعودی عرب میں اول پوزیشن حاصل کی -اس تقریب کے بارے میں خصوصیت یہ تھی  کہ پاکستان کے آرٹسٹ  آفتاب عالم عرف جانو جرمن نے بہی شرکت کی اور حاضرین کو محظوظ کیا –مہمان خصوصی ڈاکٹر  محمد عمر چہاپرا نے کہا کہ میمن برادری کو دنیا میں انکی فلاحی خدمات کی وجہ سے جانا جاتا ہے جو ان کا ورثہ ہے –دانیہ المعینا جو سعودی عرب کے معروف صحافی خالد المعینا کی بی?ی ہیں،پاکستانی برادری سے محبت کرتی ہیں – اور انہوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ وہ میمن سوسائیٹی  جدہ کی خدمات سے بہت متاثر ہوئی ہیں۔



اپنا تبصرہ بھیجیں