ریلوے حادثات،گزشتہ دو دہائیوں سے ریلوے میں سیاسی عمل دخل میں اضافہ ہوا ہے

یاسمین طہٰ  – ریلوے حادثات،گزشتہ دو دہائیوں سے ریلوے میں سیاسی  عمل دخل میں اضافہ ہوا ہے  اہم ترین آپریشنل اور مکینکل عہدوں پر  پر  من پسند ناتجربہ کار لوگ تعینات  ٹرین کا سفر اپنی مقبولیت کے اعتبار سے دنیا بھر میں سرفہرست ہے، کیوں کہ یہ آرام دہ اور محفوظ تصور کیا جاتا  ہے۔ لیکن پاکستان کے لئے یہ بات نہیں کہی جاسکتی  کیوں کہ دیگر شعبوں کی طرح اس  شعبہ میں  بھی   حالات خرابی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ آئے دن کسی نہ کسی ٹرین حادثے کی خبر سامنے آجاتی ہے جس میں جانی و مالی نقصان تو ہوتا ہی ہے،  اس کے ساتھ ساتھ ہمارے ریلوے نظام کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔اور ساتھ ہی وزیر ریلوے کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔اس کے بعد کسی بھی چھوٹے ملازم کو بلی کا بکرہ بنا کر معاملا دبادیا جاتا ہے۔   ایک اندازے کے مطابق گزشتہ ایک برس میں ٹرینوں کے 80 سے زائد چھوٹے بڑے حادثات ہو چکے ہیں۔ عموماً ہر حادثے کے بعد انکوائری کمیٹی بنتی ہے اور نچلے درجے کے ملازمین پر اس کا ملبہ ڈال کر معاملہ دبا دیا جاتا ہے۔ اور پھر انکوائری کا  نتیجہ آنے سے پہلے ہی اگلا حادثہ ہوجاتا ہے اور لوگ پرانے حادثے کو بھول جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہونے والا  تیز گام ریلوے کا ہولناک  حادثہ  75 افراد کی موت کاسبب بنا،۔گزشتہ ایک برس سے  ٹرینوں کے حادثات کی تعداد اورشدت میں اضافہ ہواہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے یہ اس کے پیچھے سازشی عناصرکار فرما ہیں۔اس حوالے سے جب چند ایسے لوگوں سے بات کی گئی جن کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں ہے،ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کے مختلف شعبوں کو ناکام ثابت کرنے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت شر پسند عناصر خاص طور پر ریل کے نظام کو ہدف بنا رہے ہیں۔اس میں ٹرانسپورٹ مافیا بھی ملوث ہوسکتا ہے۔اس کے علاوہ ریلوے  بیوروکریسی میں جو لوگ بیٹھے ہیں ۔ان کا تعلق نواز گروپ سے ہیں، کہا جاتا ہے کہ سعد رفیق کی وزارت کے بعد افسران میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔اس لئے ان کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ حادثات سے عوام مررہے ہین،وہ تو اپنی سیاسی وابستگیاں  نبھانے میں مصروف ہیں۔جنگ اورمحبت کے بعد سیاست میں بھی سب جائز ہے ۔    اطلاعات کے مطابق جولائی2018 سے اب تک ٹرینوں کے 80 کے قریب حادثات ہوچکے ہیں۔ یقینا ہر حادثے کا کوئی نہ کوئی سبب ہوتاہے۔ یہ تکنیکی خرابی کا نتیجہ ہوسکتاہے اورانسانی غفلت کابھی، لیکن  اکثر حادثات میں تکنیکی خرابی اورانسانی غفلت ایک ساتھ حادثے کاسبب بنتی ہیں۔تیز گام کے  المناک حادثے کی تحقیقات کے لئے بھی فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر ریلویز کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے،  ضرورت اس امرکی ہے کہ ماضی قریب میں رونما ہونے والے ریلوے حادثات اورسانحات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ ا ن عوامل کاپتہ چلایا جا سکے، جوان حادثات کاباعث بنے اورپھر ان عوامل پرقابو پانے کے لئے ٹھوس اقدامات کیے جائے چاہئیں تاکہ مزید حادثات سے بچاجاسکے۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی جانب سے اگست 2018 سے وفاقی وزیر ریلوے کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک ہونے والے 7 بڑے ریلوے حادثات و واقعات میں درجنوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ ادارے کو کروڑوں روپے کا مالی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن ان سب کے باوجود ایسے واقعات کے سدباب کے لیے عملی طور پر کوئی اقدامات نظر نہیں آئے۔اگر گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے پر نظر ڈالیں تو 7 ایسے بڑے واقعات ہوئے جن میں درجنوں افراد جاں بحق و زخمی ہوئے جبکہ محکمے کو کروڑوں روپے کا مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ان واقعات پر نظر ڈالیں تو 31 اکتوبر 2019 کو کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس میں ضلع رحیم یار خان کے قریب گیس سلینڈر پھٹنے سے کم از کم 65 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔اس حادثے کی ابتدائی وجوہات کے بارے میں یہ کہا گیا کہ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگ رائے ونڈ جارہے تھے کہ اور ان کے پاس گیس سلینڈر موجود تھا، جس کے پھٹنے سے یہ واقعہ پیش آیا۔تاہم جہاں ایک طرف گیس سلنڈر پھٹنے کو واقعے کی وجہ قرار دیا گیا تو وہیں یہ بات مدنظر رہے کہ ریلوے حکام کے مطابق ٹرین میں سلنڈر لے جانے کی قطعاً اجازت نہیں۔اب اس معاملے کی تحقیقات کے بعد اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ کس کی غفلت کے باعث مسافر ٹرین میں سلنڈر لے کر سوار ہوئے،لیکن یہ بات بھی زہن میں رکھنا چاہئے کہ  عوام کے ایک بڑے گروپ سے  کوئی بھی پابندی کرانا انتہائی مشکل امر ہے، ہوسکتاہے کہ ان کو روکنے کی کوشش کی گئی ہو لیکن انھوں نے یہ بات ماننے سے انکار کردیا ہو۔رحیم یار خان کے قریب ہونے والے اس حادثے سے قبل 11 جولائی کو صادق آباد میں ایک ٹرین حادثہ پیش آیا تھا۔صادق آباد میں ولہار اسٹیشن پر اکبر ایکسپریس اور مال گاڑی آپس میں ٹکرا گئیں تھیں، جس کے نتیجے میں 23 افراد جاں بحق اور 85 زخمی ہوگئے تھے۔اس حادثے کی بھی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا اعلان کیا گیا تھا۔قبل ازیں 20 جون 2019 کو  حیدرآباد میں جناح ایکسپریس ٹریک پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکراگئی تھی۔اس حادثے سے ایک ماہ قبل 17 مئی کو سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز کے علاقے پڈعین کے قریب لاہور سے کراچی آنے والی مال گاڑی کو حادثہ پیش آیا تھا۔اگرچہ خوش قسمتی سے اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا تاہم محکمے کو مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا جبکہ ٹرینوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی تھی۔اسی برس  اپریل میں رحیم یار خان میں مال بردار ریل گاڑی حادثے کا شکار ہوئی اور اس کی 2 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔مال بردار گاڑی پی کے اے 34 کی 13 بوگیاں پٹری سے اترنے سے محکمہ ریلوے کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا تھا۔قبل ازیں 27 ستمبر 2018 کو دادو میں سن کے قریب ٹرین کی 11 بوگیاں پٹری سے اتر گئی تھیں۔24 دسمبر 2018 کو ہونے والے حادثے میں فیصل آباد میں شالیمار ایکسپریس کو پیچھے سے آنے والی ملت ایکسپریس نے ٹکر ماردی تھی۔11  بوگیوں کے پٹری سے اترنے سے 5 مسافر زخمی ہوئے تھے جبکہ ٹرین کی آمد و رفت کا نظام متاثر ہوا تھا۔ تیزگام ایکسپریس کو پیش آئے حادثے میں 70 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے یہ دعوی سامنے آیا ہے کہ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے دورِ وزارت میں ’ٹرین حادثوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی ہے۔لیکن دستیاب ریکارڈ اس دعویٰ کو ثابت نہیں کرتا۔ اگرچہ رواں برس دو بڑے ٹرین حادثات پیش آئے ہیں جن میں درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے مگر رواں برس پیش آنے والے حادثات گزشتہ پانچ برسوں میں پیش آئے حادثات سے تعداد میں کچھ زیادہ نہیں ہیں۔شیخ رشید نے ریلوے کی وزارت کا قلمدان اگست 2018 میں سنبھالا تھا۔ وزارت ریلوے کے مطابق اگست 2018 سے جون 2019 کے دوران ٹرینوں کو چھوٹے بڑے 70 حادثات پیش آئے۔ شیخ رشید کا دعویٰ ہے کہ ان کے دور میں ریل حادثوں کی تعداد سب سے کم رہی ہے۔لیکن تیزگام  حادثہ جانی نقصان کے لحاظ سیگزشتہ برسوں میں  ملک میں پیش آنے والے ریل کے حادثات میں سب سے بڑا تھا۔ رواں برس جولائی میں پیش آئے ایک اور بڑے حادثے میں 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔شیخ رشید کے دورِ وزارت میں پیش آئے واقعات کا تقابل گذشتہ برسوں سے اس لیے نہیں کیا جا سکتا کیونکہ حادثات کے حوالے سے موجود ریکارڈ نامکمل ہے۔ تاہم 12 ماہ کی قلیل مدت میں 74 حادثات بھی  معمولی امر  نہیں ہے۔پاکستان ریلوے کے دستیاب ریکارڈ کے مطابق سنہ 2012 سے سنہ 2017 کے دروان ٹرینوں کے مجموعی طور پر757 حادثے ہوئے۔ اس کا مطلب ہے اوسطً سالانہ 125 حادثات۔زیادہ تر حادثات ٹرین کے پٹری سے اتر جانے یا ریلوے پھاٹکوں پر ٹکراؤ کی وجہ سے پیش آئے۔ پاکستان میں بیشتر ریلوے پھاٹکوں پر نگرانی کے لیے چوکیدار تعینات نہیں کیے جاتے اور عوام اپنی ذمہ داری پر انھیں کراس کرتی ہے جس کے باعث حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔اس لئے ان حادثات میں ریلوے حکام کو ذمہ دار قار دینا مناسب نہیں۔گذشتہ چھ برسوں میں حادثات کے حوالے سے سب سے بدترین سال 2015 کا تھا۔ سنہ 2015 میں ٹرینوں کو 175 حادثات پیش آئے جن میں 75 ٹرینوں کے پٹری سے اترنے اور 76 پھاٹک کراسنگز پر ہوئے۔ گذشتہ چھ برسوں میں پیش آنے والے حادثات میں 150 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔پارلیمینٹ میں پیش  اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2013 سے سنہ 2016 کے دوران پیش آئے 338 حادثات میں 118 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔پاکستان میں ریل کا سفر  متوسط اور غریب طبقے کے افراد میں  مقبول عام ہے،اور ریلوے کا سسٹم ملک کے طول و عرض میں موجود ہے۔اس سب کے باوجود زیادہ تر ٹرینوں میں مسافر گنجائش سے زیادہ سوار ہوتے ہیں جبکہ ٹرینوں کی حالت بھی خستہ ہوتی ہے۔ریلوے سٹیشنوں پر چیکنگ اور حفاظتی انتظامات ہوائی اڈوں کی نسبت کم ہیں۔اور یہیں وجہ ہے کہ سفر کے لیے ممنوعہ اشیا جیسا کہ کھانا پکانے کے چولہے اور تیل کے کنستر عموماً سامان کے ساتھ ٹرین پر لاد لیے جاتے ہیں۔حکام کے مطابق ملک میں ٹرین حادثات کی تین بڑی وجوہات میں پٹری کی بحالی و دیکھ بحال، سگنل کے مسائل اور پرانے انجن ہیں۔حادثہ پیش آنے کی صورت میں ہلاک ہونے کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے اور اس کی وجہ ٹرین میں گنجائش سے زیادہ مسافروں کا سوار ہونا ہے۔دراصل   ریلوے کا اصل مسئلہ اسے جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، انگریز دور کا بنایا ہوا ریلوے نظام اپنی مدت کب کا  مکمل کر چکا ہے، اس کی از سر نو تزئین ضروری ہے۔ ٹرینوں کے حادثے عموماً ریل کے  پٹڑیوں سے اترنے  اور ریلوے انجنوں کی خستہ حالت  ہونے  اور پھاٹکوں کے نہ ہونے کے باعث ہوتے ہیں، جس سے پہلے سے خسارے میں مبتلا یہ شعبہ مزید مالی نقصان سے دوچار ہوتا ہے۔ ریلوے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ریلوے افسران بھی سیاستدانوں کی طرح اپنے من پسند افراد کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کرکے کام چلانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ یہ سراسر ہنرمند افراد کا کام ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ریلوے میں ماہر ٹرین ڈرائیورز، کانٹا بدلنے والے، لائن پر کام کرنے والے اور ایسے ہی دیگر ہنر مندوں کی کمی ہے، اس لئے  ریلوے کے نظام کو مکمل طور پر سی پیک کے ریلوے ٹریک سے منسلک کر دیا جائے تاکہ سفر جدید آرام دہ اور محفوظ ہو سکے۔ پاکستان ریلوے میں حادثات معمول بنتے جارہے ہیں لیکن انتظامیہ کی جانب سے ہربارچھوٹے ملازمین کو ذمہ دارقراردیکر معاملہ دبا دیا جاتا ہے۔ ہردورمیں ریلوے میں انقلابی اقدامات کا دعوی کیا جاتا ہے لیکن نظام جوں کاتوں ہے نئی ٹرینیں چلانے کی بجائے نظام میں بہتری ناگزیر ہے۔ ان حادثات میں قیمتی جانوں کا ضیاع تو ہوتا ہی ہے مگر مالی طورپر بدحال محکمہ مزید نقصان سے دوچار ہو رہا ہے۔ ریلوے کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر خسارہ 27 سے 32 ارب روپے  ہے جس میں  اب تک کمی واقع نہیں ہوسکی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ہر سال 38 سے 42 ارب روپے سالانہ بیل آؤٹ پیکج سے ریلوے نظام کو چلایا جارہا ہے، اسکے باوجود نظام بہتری کی طرف بڑھتا دکھائی نہیں دے رہا۔اس حوالے سے پاکستان ریلوے  کے افسران کا کہنا ہے کہ  گزشتہ دو دہائیوں سے ریلوے میں سیاسی  عمل دخل میں اضافہ ہورہا ہے،جو میرٹ کے قتل کا باعث بن رہا ہے۔ہر ریلوے وزیر اپنے من پسند افسران کو   اعلی عہدوں پر فائز کرکے کام چلانے کی کوشش کرتاہے،انہوں نے کہا عالمی سطح پر ریلوے کو ایک مکمل نظام کے طور پر سمجھا جاتا ہے اور اس پر ریسرچ کی جاتی ہے۔ لیکن پاکستان ریلوے میں ہر بار حادثہ ہونے پر نظام میں تحقیقات کے بعد نشاندہی کر کے خامیاں دور کرنے کی بجائے کسی چھوٹے ملازم کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دیکر معاملہ رفع  دفع کردیا جاتا ہے۔ذررائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ بیس سال سے ریلوے حادثات کی تحقیقات کے لئے  فیڈرل انسپکٹر جنرل  ریلوے   کا تقرر سول انجئینرنگ کے شعبے سے کیا جارہا ہے، جو ریلوے نظام کی مکمل آگاہی نہیں رکھتا، لہذا ہر بار سول ڈھانچے کی خامیوں کو نظر انداز کر کے روایتی طور پر تحقیقات کی جاتی ہے۔ اگر ٹریک اور سگنل کا نظام بوسیدہ ہے تو اسکی بہتری کے لئے فنڈز جاری کرنا لازمی ہے،لیکن اس پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ملک کے دیگر اداروں کی طرح یہاں بھی  محض خانہ پری کے لئے کام کیا جارہا ہے جو اس محکمہ کی بربادی کا سبب ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ محکمے میں  ٹرین ڈرائیور، گینگ مین، کانٹا بدلنے والے اورلائن پر کام کرنے والے چھوٹے ملازمین کی  شدید کمی ہے۔ ریلوے ملازمین سے آٹھ کی بجائے بارہ بارہ گھنٹے ڈیوٹی کرائی جارہی ہے جو حادثات کا ایک سبب ہے ۔  محکمہ میں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ کونسا افسر کس شعبے کا ماہر ہے اور اسکا تجربہ کس کام کا ہے۔ اہم ترین آپریشنل اور مکینکل سیٹوں پر اعلی حکام نے من پسند ناتجربہ کار لوگ تعینات کر رکھے ہیں۔ ذمہ داروں کو سزا دینے کی بجائے نظام کی بہتری پر توجہ مرکوز کرنا ناگزیر ہے۔   جنگ اورمحبت کے بعد سیاست میں بھی سب جائز ہے ۔ گزشتہ ایک برس سے  ٹرینوں کے حادثات کی تعداد اورشدت میں اضافہ ہواہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے یہ اس کے پیچھے سازشی عناصرکار فرما ہیں۔اس حوالے سے جب چند ایسے لوگوں سے بات کی گئی جن کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں ہے،ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کے مختلف شعبوں کو ناکام ثابت کرنے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت شر پسند عناصر خاص طور پر ریل کے نظام کو ہدف بنا رہے ہیں۔اس میں ٹرانسپورٹ مافیا بھی ملوث ہوسکتا ہے۔اس کے علاوہ ریلوے  بیوروکریسی میں جو لوگ بیٹھے ہیں ۔ان کا تعلق نواز گروپ سے ہیں،اس لئے ان کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ حادثات سے عوام مررہے ہین،وہ تو اپنی سیاسی وابستگیاں  نبھانے میں مصروف ہیں۔جنگ اورمحبت کے بعد سیاست میں بھی سب جائز ہے ۔   ہائی لائٹ  گزشتہ دو دہائیوں سے ریلوے میں سیاسی  عمل دخل میں اضافہ ہورہا ہے،جو میرٹ کے قتل کا باعث بن رہا ہے۔ہر ریلوے وزیر اپنے من پسند افسران کو   اعلی عہدوں پر فائز کرکے کام چلانے کی کوشش کرتاہے،انہوں نے کہا عالمی سطح پر ریلوے کو ایک مکمل نظام کے طور پر سمجھا جاتا ہے اور اس پر ریسرچ کی جاتی ہے۔ لیکن پاکستان ریلوے میں ہر بار حادثہ ہونے پر نظام میں تحقیقات کے بعد نشاندہی کر کے خامیاں دور کرنے کی بجائے کسی چھوٹے ملازم کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دیکر معاملہ رفع  دفع کردیا جاتا ہے۔pubished-in-daily-ausaf



اپنا تبصرہ بھیجیں