اگر سندھ وفاق سے 70 سالوں کا حساب مانگنے پر آجائے تو وفاقی حکومت گروی ہوجائے گی

 مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ و جیل خانہ جات میر اعجاز جکھرانی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اپنی نااہلی کی وجہ کے مزاحقہ خیز فیصلے کر رہی ہے، حد تو یہ ہے کہ وفاق کی جانب سے اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل ہونے والے اثاثہ جات کے پیسے مانگے جا رہے ہیں، اگر سندھ وفاق سے 70 سالوں کا حساب مانگنے پر آجائے تو وفاقی حکومت گروی ہوجائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج اپنے دفتر میں پاکستان ٹورزم ڈولپمینٹ کارپوریشن کے اثاثہ جات کی منتقلی کے سلسلے میں بنائی گئی کمیٹی کے سربراھ کی حیثیت سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر سیاحت و ثقافت سید سردار شاھ، سیکریٹری ثقافت و سیاحت اکبر لغاری، سیکریٹری IPC اختر غوری، محکمہ لینڈ یوٹلائیزیشن اور محمکہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ دوران اجلاس صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید سردار شاھ نے آگاہ کیا کہ 18ویں ترمیم کے بعد کنکرنٹ لسٹ کے مطابق شعبے صوبے کو منتقل ہونے تھے معاملہ عدالت میں گیا اور عدالت نے فیصلہ کابینہ ڈویڑن کو حل کرنے کو کہا جبکہ وفاقی حکومت نے ایک مزاحقہ خیز لیٹر کے ذریعے پی ٹی ڈی سی کو فیصلہ کرنے کی ہدایت کی، پی ٹی ڈی سی نے زمین کی ملکیت کی مالیت اور انتظام کے بعد دس فیصد منافع میں حصہ کا فیصلہ کیا اس پر ردعمل دیتے ہوئے صوبائی مشیر میر اعجاز جکھرانی نے کہا کہ ان کو اس حوالے سے اختیار نہیں یہ سی سی آئی کا اختیار ہے سندھ کو کسی بھی غیر آئینی اقدام سے نہیں چلایا جا سکتا۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی مشیر نے کہا کہ وفاق اب بھی اپنی شرائط پر صوبائی اداروں پر اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتا ہے، لیکن ہم کسی بھی غیر قانونی ٹرمز اینڈ کنڈیشن کو نہیں مانتے۔ اس موقع پر وزیر ثقافت و سیاحت نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ 18 آئینی ترمیم کے بعد وفاق کی طرف سے سات کمپوننٹ تھے جو سندھ صوبے کو منتقل کرنے تھے جن میں ہاکس بے، مکلی، حیدرآباد کی لینڈ، موہن جو دڑو، سکھر سمیت دیگر مقامات پر موجود انفارمیشن سینٹرز ابھی تک سندھ کے حوالے نہیں کیے گئے ہیں۔ پنجاب، خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کو تو تمام شعبے حوالے کردیئے گئے مگر سندھ کو ابھی تک وہ کمپوننٹس واپس نہیں دیے گئے، حیرت ہے کہ کیبینیٹ ڈویڑن کے فیصلے کا حکم اور فیصلہ پی ٹی ڈی سی کیسے کرسکتی ہے, پی ٹی ڈی سی ایسا کوئی حکم جاری کرنےکی مجاز نہیں. پی ٹی ڈی سی کے کسی فیصلے کو نہیں مانتے وہ اپنے کام پر توجہ دے۔ ہمیں پی ٹی ڈی سی سے عجیب و غریب خطوط موصول ہوئے کہ محکمہ ثقافت سندھ کی زمین کا کرایہ پی ٹی ڈی سی کو ادا کرے۔ وفاق میں ناتجربہ کار لوگ بیٹھے ہیں جو صوبائی حقوق کا کوئی علم نہیں رکھتے, اور مسلسل ایک قسم کا مذاق کیا جارہا ہے کیسے آرمی چیف ایکسٹینشن معاملے پر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت نے کہا کہ نئے پاکستان کے داعی نے وزیراعظم ہاو ¿س میں یونیورسٹی قائم کرنے کی بات کی تھی آج بھی کہتا ہوں کہ وفاق فراخ دلی کا مظاہرہ کرے اور گورنر ہاو ¿س ہمارے حوالے کرے ہم اس میں کراچی سٹی میوزیم بنائیں گے۔

 

اپنا تبصرہ بھیجیں