پاکستان ٹیلی ویژن میں 58 سال کے گروپ 1 سے 9 تک سینکڑوں ملازمین اور افسران کو زبردستی گھر بھیج دیا گیا

کراچی ( وقائع نگار خصوصی ) تبدیلی حکومت کے دور میں  پرائیویٹ میڈیا کی تباہی کے بعد پی ٹی وی کے غیر قانونی بورڈ آف ڈائریکٹر نے سرکاری میڈیا پر بھی تباہی مچا دی ۔ پاکستان ٹیلی ویژن میں 58 سال کے گروپ 1 سے 9 تک سینکڑوں ملازمین اور افسران کو زبردستی گھر بھیج دیا گیا جبکہ کراچی ٹیلی ویژن سینٹر کے اسٹوڈیوز ہم ٹی وی کو دینے کے معاہدے کی اطلاعات بھی گردش کرنے لگی۔ پی ٹی وی کراچی سینٹرل کی عمارت پہلے سے ایک بینک کے پاس گروی رکھی گئی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی میڈیا انڈسٹری تبدیلی حکومت کے آتے ہی آنے والا بحران جس میں 15 ہزار سے زائد میڈیا ورکرز اور پروفیشنل کو پہلے ہی سے بے روزگاری میں دھکیل دیا گیا وہاں سرکاری میڈیا پر بھی تلوار چلا دی گئی ۔ قومی اثاثہ پی ٹی وی ایک بار پھر ایک بڑے بحران کا شکار ہوگیا ۔ کراچی سمیت پورے ملک میں سے سینکڑوں ملازمین و افسران جن کی عمریں 58 برس ہوگئیں ہیں انہیں فوری گھر بھیج دیا گیا ۔ جبکہ جن افسران و ملازمین جن کی سرو 30 برس ہوگئی ہے ان کو بھی گھر بھیجنے کا فیصلہ ہوگیا ۔ ذرائع کے مطابق جہاں ایک طرف قومی ٹی وی چینل نے تجربہ کار افسران اور ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے وہیں دوسری طرف بھاری معاوضوں پر سیاسی سفارشوں پر رکھے گئے Contract ملازمین کو فارغ نہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے ادارے میں موجود ملازمین میں تشویش پھیل رہی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی ڈگریوں پر بھرتی بھاری معاوضوں پر لائے گئے منظور نظر افراد کے معاوضے مزید بڑھائے جارہے ہیں ۔ یوں تجربہ کار اور سینئر ملازمین کو گھر بھیجنے کے بعد پی ٹی وی میں بڑے بحران کا خدشہ ہے ۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی وی میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کا فیصلہ وہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کر رہا ہے جسے اسلام آباد ہائیکورٹ پہلے ہی غیر قانونی قرار دے چکی ہے ۔ موجودہ فیصلوں کے بعد ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف ہونے والے اقدامات پر توہین عدالت کی ایک درخواست جس کی سماعت 16 جنوری 2020 ءکو ہونا ہے پہلے ہی زیر سماعت ہے جبکہ دوسری طرف ادارے کے چیئرمین راجہ ارشد خان جن کی عمر پہلے ہی 65 سال سے اوپر ہے اور قانون کے مطابق بورڈ آف ڈائریکٹر کا ممبر اور چیئرمین ہونے کیلئے حد عمر 60 سال سے کم ہونی چاہئے ۔ BOD کے ایک اور ممبر راشد خان پہلے ہی 11 کمپنیوں کے ڈائریکٹر ہیں ۔ دوسری طرف SECP کے قوانین کے مطابق کوئی بھی ممبر 5 سے زیادہ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا ممبر نہیں بن سکتا ۔ زوہیر خالق بورڈ آف ڈائریکٹر کے ایک اور ممبر جو کہ Mobilink کے CEO رہے ہیں وہ دو ملکوں کی شہریت کے حامل ہیں جبکہ پاکستانی قوانین کے مطابق کوئی بھی دہری شہریت کا حامل فرد سرکاری اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا حصہ نہیں بن سکتا ۔ اسی طرح میاں صلاح الدین صلی بورڈ آف ڈائریکٹر کے ایک اور ممبر جو کہ گذشتہ دس سال سے پی ٹی وی ہوم کے موسیقی کے پروگرام ورثہ کی میزبانی کررہے ہیں اور ان کی حویلی پی ٹی وی کے پاس کرایہ پرموجود ہے جس کا پی ٹی وی انہیں بھاری معاوضہ ادا کرتا ہے ۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ایک ممبر فرمان اللہ جان جو کہ پی ٹی وی سے ہی ڈائریکٹر پروگرامز کے طور پر ریٹائرڈ ہوچکے اور پی ٹی وی کے پنشنر بھی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ بالا تمام افراد کی عمریں 60 سال کی قانونی حد سے تجاوز کرچکی ہیں اور ادارے سے اپنی ذاتی مفادات کی وابستگی کی وجہ سے متنازع قرار دیا جا رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ایک اور توجہ طلب بات پی ٹی وی ہوم کراچی سینٹر سے گذشتہ دو ماہ سے پیش کیا جانے والا مارننگ شو ٹیلی ویژن کو 50 لاکھ سے زائد ماہانہ میں پڑھ رہا ہے جبکہ اس شو کی انکم صرف 42 لاکھ کے قریب ہے جس سے قومی ادارے کو مالی بحران کی طرف دھکیل رہا ہے اور حالیہ انتظامیہ کے فیصلوں کی وجہ سے قومی ادارے میں بحران شدید ہونے کا خدشہ ہے ۔ ارشد خان  کی کمپنی Vectron پی ٹی وی سے تجارت کرتی ہے ۔ اسی طرح راشد علی خان کی کمپنی Nayatel پی ٹی وی کے ساتھ 40 ملین کا کاروبار کرتی ہے ۔ یہی لوگ پی ٹی وی ڈائریکٹرز بنے ہوئے ہیں جو کہ 100% غیر قانونی ہے ۔






اپنا تبصرہ بھیجیں