فرزند سندھ -ممتاز علی شاہ

                       تحریر: سعید جان بلوچ- گزشتہ دنوں وزیر اعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ کا ایک بیان اخبارات اور ٹی وی چینلز پر سامنے آیا کہ وفاقی حکومت چیف سیکرٹری اور آئی جی سندھ کے ذریعے سندھ پر حکومت کرنا چاہتی ہے کیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے میرے لیے یہ خبر بہت ہی حیران کن تھی کہ ایک صوبے کا وزیر اعلٰی اتنا بے بس ہے کہ اس کے صوبے پر اس کی موجودگی میں کوئی اور حکومت کر رہا ہے یا اس کی کوشش کر رہا ہے سندھ پولیس کے آئی جی کو میں نہیں جانتا کہ وہ کس کہ ایجنڈے پر سندھ میں موجود ہیں لیکن چیف سیکرٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کو میں گذشتہ پندرہ برس سے ذاتی طور پر جانتا ہوں جب وہ سندھ کی بیروکریسی میں ایک ایماندار اور قابل افسر کے طور پر ابھر کر سامنے آرہے تھے جب سندھ میں پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی تو سید ممتاز علی شاہ کو سیکرٹری اطلاعات سندھ تعینات کیاگیا انہوں نے نا صرف محکمہ کے افسران اور صحافیوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دیا حکومت سندھ کی کارکردگی کی نہ صرف ملک گیر تہشیر کی بلکہ حکومت اور صحافیوں کے درمیان رابطے کو مضبوط کیا اس دور کو محکمہ اطلاعات سندھ کا سنہری دور بھی قرار دیا جا سکتا ہے ممتاز علی شاہ نے شازیہ مری ، شرمیلہ فاروقی ، جمیل سومرو، شرجیل میمن اور ڈاکٹر تاج حیدر کے ساتھ مل کر پیپلزپارٹی کی حکومت کی کارکردگی سےصوبے کے عوام کو بھرپور انداز میں متعارف کرایا مجھے یاد ہے کہ جب ملک میں شدید بارشوں نے تباہی مچائی اور سندھ میں سیلاب کی صورتحال نے تباہ کن شکل اختیار کر لی صوبائی انتظامیہ کی ناقص کارکردگی کے باوجود حکومت کی ساکھ بر قرار رکھنے میں سید ممتاز علی شاہ نے اہم کردار ادا کیا جب شرجیل میمن کو محکمہ اطلاعات سندھ کا قلمدان سونپا گیا تو شاہ صاحب کے لئے  فرائض کی ادائیگی میں مشکلات کا خدشہ پیدا ہوا تو انہوں نے باعزت طریقے سے اپنا تبادلہ دوسرے محکمہ میں کرالیا اس کے بعد وہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بہبود آبادی ، تعلیم ، داخلہ ، چیئرمین اینٹی کرپشن ، سیکرٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈ رہے لیکن ان کے کردار پر کبھی کوئی داغ نہیں لگا ملازمت میں ترقی کے بعد انکی خدمات وفاق کے سپرد کر دی گئیں جہاں پر وہ وفاقی سیکرٹری بورڈ اینڈ شپنگ ، مذہبی امور بھی رہے اور پھر جب سندھ کو ایک قابل افسر کی ضرورت محسوس ہوئی تو حکومت سندھ کی سفارش پر ہی انکو چیف سیکرٹری سندھ مقرر کیا گیا اس عہدے پر فائز ہوتے ہیں انہوں نے صوبے کے انتظامی افسران کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کی اور صوبے کے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوششیں کیں یہ بات سندھ کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ سندھ میں سفارشی کلچر اور کرپشن کی کہانیاں کوئی نئی بات نہیں ہے یہ تاثر عام ہے کہ سندھ میں ایک غریب کو نوکری بھی میرٹ پر نہیں بلکہ نوٹوں عوض ملتی ہے پھر ایسے صوبے میں سب سے بڑے انتظامی عہدے پر فائز شخص پر کتنا دباو ہوگا سید ممتاز علی شاہ اپنے مدت ملازمت 2020 میں مکمل کرنے والے ہیں وہ اپنے کیرئیر کے آخری دنوں میں اپنی نیک نامی جس کو انہوں نے بڑی محنت اور ایمانداری سے کمایا ہے ضائع نہیں کرنا چاہتے وہ ایسا کوئی کام نہیں کریں گے جس سے وہ اپنی نیک نامی اور شہرت کو داغ دار کریں سید مراد علی شاہ وزیر اعلٰی شاہ پر وزیر اعلٰی بننے سے قبل بھی کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں جب وہ محکمہ آبپاشی سندھ کے وزیر تھے تو ان پر اور شجاع جونیجو پر اربوں روپے کرپشن کے الزامات تھے جو محکمہ اینٹی کرپشن کی فائلوں میں  آج بھی موجود ہیں سید ممتاز علی شاہ اس وقت چیئرمین اینٹی کرپشن تھے اس میگا کرپشن کے خلاف کارروائی کی اجازت نہ ملنے پر انہوں نے اس پر کشش عہدے کو چھوڑنا زیادہ مناسب سمجھا یہ بات اب سمجھنے میں آسانی ہوگی ایک ایسا افسر جس کے 35 برس کے کیرئیر میں انکے خلاف کوئی الزام نہیں ہے تو وہ آخری دور میں یہ سب کیوں کریگا میں شاہ صاحب کو ایک عرصے سے جانتا ہوں میری ان سے نیاز مندی ہے میرے سید مراد علی شاہ کے والد کے ساتھ بھی اچھے تعلقات تھے لیکن سید عبداللہ شاہ کے سپوت کی جانب سے سندھ کے ایک قابل فخر بیٹے پر اس طرح کے الزامات کا کوئی فائدہ نہیں ہے سندھ میں تمام افسران حکومت سندھ کی مرضی کے ہیں وہ جو چاہتے ہیں وہ ہو رہا ہے لیکن جو کچھ چیف سیکرٹری سندھ کی سطح کے کام ہیں اس پر وہ بے بس ہیں کیونکہ صوبہ سندھ کا انتظامی سربراہ اپنے کیریئر کو داغ دار نہیں بنانا چاہتا وہ عزت کے ساتھ اپنی مدت ملازمت پوری کرنا چاہتا ہے سید مراد علی شاہ اینڈ کمپنی تو سیاستدان ہیں انکے کیرئیر پر داغ لگے تو کوئی بات نہیں لیکن ممتاز علی شاہ ، شاہ لطیف کی دھرتی کےساتھ بیوفائی نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔۔



اپنا تبصرہ بھیجیں