بھارت کی معاشی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، سابق وزیراعظم من موہن سنگھ

من موہن سنگھ نے یہ بات بھارت کے قومی اداریہ شماریات کی جانب سے اعداد و شمار کے اجراء کے بعد نئی دہلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔

بھارتی قومی اداریہ شماریات کے مطابق بھارت کی مجموعی ملکی پیداوار رواں مالی سال جولائی سے ستمبر تک کی دوسری ششماہی میں ساڑھے چار فیصد سے کم ہو کر 26 درجے کم ہو گئی ہے۔

من موہن سنگھ نے کہا کہ بھارت کی مجموعی ملکی پیداوار میں مسلسل خسارہ قابل تشویش ہے، انہوں نے کہا کہ معاشی پالیسیوں میں تبدیلیاں کرنے سے معیشت بحال نہیں ہوگی۔

سابق بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ بہت سے صنعت کاروں نے بتایا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے ہراساں کئے جانے کے خوف میں مبتلا ہیں۔

من موہن سنگھ نے کہا کہ بینک کارقرضوں کے واپس نہ کئے جانے کے خوف سے نئے قرضوں کی فراہمی کیلئے تذبذب کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کے پالیسی ساز اور دیگر ادارے سچ کہنے یا حقیقی معنوں میں سچائی پر مبنی پالیسی کے حوالے سے بات چیت سے خوفزدہ ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارت کے سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے بھی کہا تھا کہ بھارت کی معیشت شدید بحران کا شکار ہے اور مودی حکومت عوام کو بے وقوف بنا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کا یہ حال ہے کہ طلب و رسد میں فرق بڑھتا جارہا ہے حقیقت یہ ہے کہ ہمیں بہت بڑے معاشی بحران کا سامنا ہے۔