وزیراعظم عمران خان اور شہزاداکبرنے ملک ریاض کی برطانیہ میں بڑی مدد کی

ڈاکٹر شاہد مسعود نے  کہا ہے کہ وزیراعظم سب سے زیادہ اچھے تعلقات ملک ریاض سے ہیں، یہ تاثر کوئی غلطی سے بھی نہ پھیلائے کہ وزیراعظم عمران خان اور ملک ریاض کے تعلقات اچھے نہیں ہیں، وزیراعظم عمران خان اور شہزاداکبرنے ملک ریاض کی برطانیہ میں بڑی مدد کی، کہ ان کا پیسا وہاں منجمد نہ ہوجائے بلکہ پاکستان لایا جائے۔
واضح رہے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے پاکستان کے رئیل سٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض اور ان کے خاندان سے 19 کروڑ پاﺅنڈ مالیت کے اثاثوں کی فراہمی کے عوض تصفیہ کرنے کی تصدیق کی ہے‘ یہ تصفیہ نیشنل کرائم ایجنسی کی ملک ریاض کے خلاف تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے اور یہ رقم اور اثاثے ریاست پاکستان کو لوٹا دیے جائیں گے. برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ تصفیے کے تحت ملک ریاض اور ان کا خاندان جو 19 کروڑ پاﺅنڈ مالیت کے اثاثے دے گا ان میں منجمد کیے جانے والے بینک اکاﺅنٹس میں موجود رقم کے علاوہ مرکزی لندن کے متمول علاقے میں واقع ون ہائیڈ پارک پلیس نامی عمارت کا ایک اپارٹمنٹ بھی شامل ہے جس کی مالیت پانچ کروڑ پاﺅنڈ کے لگ بھگ ہے سینئیر صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ یہ بھول جائیں کہ برطانیہ سے آنے والا پیسہ نواز شریف اور آصف زرداری کے کھاتے میں آرہا ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے مزید کہا کہ 2016ء میں پاناما پیپر آیا تو اس وقت یہ جائیداد حسن نواز کے نام پر تھی،پاناما پیپرز آنے کے بعد حسن نواز کو یہ جائیداد بیچنے کی بہت جلدی تھی اور انہوں نے جائیداد ملک ریاض کو بیچی۔
ملک ریاض کے جائیداد خریدنے کے بعد برطانیہ میں منی ٹریل کے حوالے سے تحقیقات شروع ہو گئیں۔نواز شریف کے خاندان پر بھی دباؤ تھا کہ جلدی سے یہ جائیداد کسی اور کو بیچ دی جائے۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ یہ کہانی بلکل الگ ہے اور یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ پیسہ نواز شریف یا آصف علی زرداری کی صورت میں پاکستان آ رہا ہے۔


اپنا تبصرہ بھیجیں