یہ ہے عظیم تر کراچی، کچرہ سیاست نے شہر تباہ کردیا

 یاسمین طہٰ
 کراچی کے عوام حکومت سندھ اور بلدیاتی اداروں کی ناقص کارکردگی  کی وجہ سے  کئی قسم کے مسائل  میں مبتلا ہیں۔ پینے کے لئے لائنوں سے  پانی میسر نہیں لیکن ٹینکر سے جتناپانی چاہئے مل جائیگا،  سیوریج کے مسائل کچھ کم تھے کہ بارش  نے مذید تباہی مچادی۔اور  ٹوٹی سڑکیں اب کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں ،  اور یہ مسائل کئی دہائیوں سے کراچی کے  عوام کا پیچھا کر رہے ہیں جس کا مداوا کرنے کے لئے  صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے نہ ماضی میں کوئی عملی اقدامات کئے گئے نہ اب خاطر خواہ منصوبہ بندی سامنے آ ریی ہے جب کہ بلدیاتی نمائندے وسائل اور اختیارات کا رونا رو رہے ہیں۔ کراچی کے مئیر کو آوارہ کتوں کے خاتمے کی دوا خریدنے کے لئے حکومت سندھ سے مدد کی اپیل کرنا پڑتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سندھ حکومت کو کراچی سی کوئی سروکار نہیں،یا پھر عوام کے پی پی پی کو ووٹ نہ دینے کی سزا دی جارہی ہے ۔خود کو کراچی  کا نمائندہ کہنے والی متحدہ جو اس وقت وفاق میں موجود ہے اور گذشتہ کئی برسوں سے سندھ حکومت کا حصہ رہی ہے اس وقت بھی بلدیاتی اداروں میں اس جماعت کے یو سی چئرمین موجود ہیں ،سوائے سوشل میڈیا پر اپنی کاکردگی کی وڈیو پوسٹ کرنے کے،شدید بارشوں میں کہیں نظر نہیں آئی یہی حال سندھ حکومت کے کرتا دھرتاؤں کا ہے جنکی صفائی مہم  محض فوٹو سیشن کی حد تک عوام کو نظر آئی۔اس سے قبل علی زیدی کراچی کی صفائی کا دعویٰ  لیکر آئے اور ایک نالے کی صفائی کے شور کے بعد غائب ،ان دنوں کراچی کے عوام  ایک اورعذاب سے گذر رہے ہیں  جو کراچی کی سڑکوں پر سیکڑوں  آوارہ  کتوں کی صورت میں موجود ہے جن کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور معصوم بچے خوف ناک سنگ گزیدگی کے واقعات سے دوچار ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں مئیر کراچی نے اس حوالے سے بھی اپنے وسائل کا رونا روتے ہوئے  حکومت سندھ سے گزارش کی کہ اتنے وسائل دے دیں جس سے آوارہ کتوں کے خاتمے کی دوا خرید لی جائے۔اس سے قبل کراچی کے کچرے کی وجہ سے شہر میں مکھیوں کی بہتات کے بعد باقائدہ اسپرے مار مہم کا آغاز کیا گیا جو میڈیا کوریج  کی حد تک ہی محدود رہا۔ہمارے بلدیاتی نمائندے اپنے فرائض کی ادائیگی بھی شہریوں پر احسان سمجھ کر کرتے ہیں اور   اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے بھی باقاعدہ  افتتاحی تقاریب منعقد کی جاتی ہے۔حد تو یہ ہے کہ گزشتہ دنوں کچرے کے ڈبوں کو سڑکوں پر رکھنے کے بعد  میڈیا کو کوریج کے لئے بلایا گیا محض چند گھنٹوں کے اسپرے کی مہم کے بعد کسی نے یہ زحمت نہ کی کہ اس کا فالو اپ بھی ہونا چاہئیے جس کے نتیجے میں شہر بھر میں مکیوں اور مچھروں کی بہتات سے مختلف بیماریاں جنم لے رہی ہیں جس میں ڈینگی اور رے بیز سر فہرست ہے ۔ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کتوں اور مکھی مچھروں سے نجات کے لئے بھی سندھ حکومت اور بلدیاتی ادارے رینجرز اور فوج کا انتظار کررہے ہیں۔کراچی کے گلی محلے میں آوارہ کتوں کا راج ہے غول کے غول گلیوں  میں آزادانہ گھوم رہے ہیں۔جس کی وجہ سے والدین میں تشویش پائی جاتی ہے۔شہر میں سنگ گزیدگی کے واقعات میں خطرے ناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے  اوراکثر سرکاری اسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں ادویات ہی موجود نہیں کہ کتے کے کاٹے مریض کو ویکسین دی جا سکے۔کہا جاتا ہے کہ  100 سے زیادہ افراد روزانہ  سنگ گزیدگی کا شکار ہو رہے ہیں جن میں بڑی تعداد اسکول جاتے ہوئے بچوں کی ہے۔کتے کے کاٹنے کے بعد اس کی ویکسین نہ ملنے کے سبب  کئی اموات ہوچکی ہیں۔ اسی حوالے سے ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق کتے کے کاٹنے سے انسانوں منتقل ہونے والی جان لیوا ریبیز بیماری پر قابو پانے کے لیے پاکستان میں اس کے علامات اور ممکنہ حل کے لیے عوامی آگاہی ناگزیر ہے۔ایک بین الاقوامی جریدے میں چھپنے والی تحقیق کے مطابق، پاکستان میں کتوں سے لگنے والی مہلک بیماری ریبیز کی علامات کے متعلق عوامی سطح پر کم آگاہی، اس بیماری سے متاثر ہونے والے افراد میں علاج معالجے کے سلسلے میں لاپرواہی اور اس بیماری کی روک تھام کے لیے ملکی سطح پر ناقص اقدامات ملک میں اس بیماری سے بڑھتی ہوئی اموات کے واقعات کی اہم وجوہات ہیں۔ریبیز ایک ایسا وائرل انفیکشن ہے جو بہت مہلک ہے اور اس سے متاثر ہونے والے لوگوں میں سے 99 فیصد کی موت ہو جاتی ہے، تاہم ویکسین کی بروقت دستیابی اور کتوں کی ویکسینیشن سے اس پر سو فیصد قابو پایا جاسکتا ہے۔اس مہلک بیماری پر قابو پانے کے لیے درکار ویکسین کی مناسب تعداد میں عدم دستیابی ریبیز کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی روک تھام میں اہم رکاوٹیں ہیں۔کتے کے کاٹنے کے بعد  اس کی ویکسین نہ ملنے کے سبب  کئی اموات ہوچکی ہیں۔ کتے کے کاٹنے کے بعد لگائی جانی والی ویکسین کی  سرکاری ہسپتالوں میں فراہمی عام اور آسان کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ، اس ویکسین کو سستا کرنا ہوگا تاکہ اس ویکسین کی سرکاری ہسپتالوں میں عدم دستیابی کی صورت میں عام آدمی اس کو خرید سکے۔

ملک میں مون سون بارشوں کا سلسلہ  اب تک جاری ہے۔ خلیج بنگال کی طرف سے بارش برسانے والے سسٹم نے جب سندھ کا رخ کیا تو کراچی میں بھی موسلادھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا اور ستمبر کے اختتام تک جاری رہا۔ان بارشوں کے متعلق محکمہ موسمیات کی جانب سے  کوئی دو ماہ قبل ہی بتادیا گیا تھا اور نالوں کی صفائی سے بارشوں کی صورت حال پر قابو پانے کی تیاری سے کام شروع ہوا جو محض فوٹو سیشن  ثابت ہوا۔اس دوران علی زیدی کی صفائی مہم کا شور ہوا    لیکن کوئی قابل ذکر نتیجہ برآمد نہ ہوا  وفاق کی آرٹیکل 49 کی باز گشت کے بعد سندھ حکومت نے کراچی میں ایک بار پھر  صفائی مہم شروع  کی،اور  وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے  دعوی ٰکیا کہ  ایک ماہ میں کراچی کا کچرا صاف کردیں گے۔ وزیراعلیٰ وزیروں کی فوج کے ساتھ کچرہ صاف کرنے کی مہم پر نکلے  اور کچرا اٹھایا  اور فوٹو سیشن کے بعد  دو بارہ اسی جگہ ڈال دیا گیا ۔اسی دوران کراچی میں طوفانی بارشوں کا الرٹ بھی جاری کردیا گیا  لیکن اس کے باوجود انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔اس دوران نہ ہی شہری انتظامیہ سڑکوں پر نظر آئی اور نہ ہی سندھ حکومت اور کراچی میں دو گھنٹوں کی  بارش سے شہر دریا میں تبدیل ہوگیا۔کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی دو دو، تین تین دن سے معطل رہی،اور شہر میں سیلاب کے باعث ٹریفک کا نظام بھی شدید متاثر ہوا۔ اور یہ ساری صورتحال کراچی میں صرف دو دن  میں محض  دو گھنٹے جاری رہنے والی بارش کے باعث پیش آئی۔موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں شہر کی پہلے سے ٹوٹی پھوٹی سڑکیں مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہیں۔ بارش کا پانی جمع ہونے کے باعث بیشتر علاقوں میں سڑکیں اور سیوریج کی لائنیں دھنس گئی ہیں۔ شہر کے قبرستانوں میں بھی نالوں کا گندا پانی داخل ہوگیا۔ مسجدوں کے اندر بھی نالوں کا گندا اور ناپاک پانی پہنچ گیا، اس سب کے باوجود انتظامیہ کا کچھ اتا پتہ نہیں ہے۔حکومت کی جانب سے کراچی میں اربن فلڈ وارننگ تو جاری کردی گئی، لیکن سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے اور بارشوں کے بعد ہونے والی تباہی نے شہری حکومت کی کارکردگی کا پول کھول دیا۔ حکومت کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومتی ادارے جو برسوں سے کام کر رہے ہیں