غلطی کو تسلیم کرنا کوئی بری بات نہیں

امیر محمد خان –  نومبر کے آخری ہفتے نے  اور   ، دسمبر کا  پہلے ہفتے  نے  پاکستان کے کروڑوں عوام کو  نہائت  کنفیوز رکھا، ہونا تو یہ چاہئے تا  پاکستان کی پوری آبادی  اس کفیت سے گزرتی  جو چند کروڑ عوام گزرے   مگر  پاکستان کی اکثیریت اس سے لا علم تھی  اور  ہمارے بہت سے معاملات  ایسے ہیں کہ  اکژیت  لا علم رہتی ہے اسکی وجہ  ہمارے ملک مین تعلیم کی کمی  اور  جاگیردارانہ نظام ہے  جہاں صرف  حکم غلام ہوتے ہیں عوام نہیں  یہ اپنے سرداروں، پنچایتوں،  وغیرہ جیسی  فروعی چیزون کے حکم کے  غلام ہوتے ہین ۔  گزشتہ دنوں جس کفیت  سے  پاکستان کا چند فیصد  حصہ گزرا ہے  وہ ایک طرف  پاکستان میں جمہوریت  کی نوید دے رہا تھا  وہیں وہ  چند فیصد  جنہیں تعلیم یافتہ  طبقہ کہا جاتا ہے  انکی جہالت کا منہ بولتا  ثبوت  سوشل میڈیا تھا  جو  سپریم کورٹ کے چیف جسسٹس  اور اعلی عدالتوں پر  صرف اسلئے  غیر اخلاقی  جسے وہ مزاحیہ سمجھتے  تھے  جملے بازی،  کارٹون بنارہا تھا   کہ  موجودہ حکومت  کے ”عقل کل“ وزراء،  قانونی مشاورتی ٹیم  کو کہہ رہے تھے کہ انکی ڈگریاں چیک کروائیں۔بقول عدالت عالیہ  جس بھونڈے طریقے سپہ سالار کی مدت تعیناتی کو  حکومت نے لیا تھا  وہ لگتا نہیں تھا  کہ  اس میں کوئی سنجیدگی کا مظاہر ہ کیا گیا ہے۔ اسکے قصور وار  صرف موجودہ حکومت کے  اعلی لوگ  نہیں تھے  بلکہ بقول  عدالت اعظمی شاید  ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے، آئین میں لکھے گئے طریقہ کار کو شائد کسی نے پڑھا ہی نہیں تھا ، حکومتی  ”قانونی ٹیم “  جس کے متعلق عدالت نے ریمارکس دئے کہ انکی ڈگریاں چیک کی جائیں  وزیر اعظم  اور کابینہ نے اس  ”قانونی ٹیم“ کو  شاباشی دے کر  وہ کام کیا جسکے متعلق کہا جاتا ہے  ”کان  کو  گھما  کر پکڑو“ یا   ”کمبل میں لپیٹ کر  کچھ کہو“ سمجھ تو دانش مند  جاتے ہی ہیں، انہیں نہ صرف شاباشی دی بلکہ انہیں دوبارہ وزارت میں لے لیا ، ایک کو   وزارت کے برابر  عہدہ پر فائز کردیا جس  سے پیغام یہ  دیا گیا  کہ  انکی ڈگریاں چیک کرنے کی ضرورت نہیں، یہ تو بہت قابل لوگ ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔ اس نااہلی کو  قبول کرنے کے بجائے عدالت عالیہ سے  معذرت کرنے کے بجائے تمام تر ملبہ  اس بحران کا  پاکستان کے غیر ملکی دشمنوں  اور حکومت کی جانب  بنائی گئی  ”کرپٹ مافیہ“ پر ڈال دیا گیا   اس سے یہ بات سمجھ بالا تر ہے جن پر الزام ہے کہ  انہوں نے ملکی دولت  کو لوٹا  ہے انکا  اس سے کیا  تعلق تھا؟؟  چونکہ   سوشل میڈیا کا  جو   ذکر  چیف  جسسٹس نے کیا ہے   اس میں تو بلاوسطہ   عدالت کی جانب سے  قانونی ٹیم  کی حمائت  اور  عدالتی ریمارکس کا مذاق اڑایا گیا  تین دن کے مختصر عدالتی سماعت کے دوران جج صاحبان  پر  جاہلانہ انداز میں  تنقید کی گئی، جسکا عدالت نے نوٹس لیا  اور کہاکہ  ہم سی آئی اے کے ایجنٹ نہیں  عدالت نے بتایا کہ   ہم  بھارتی  ایجنٹ بھی نہیں ہم نے صرف  صرف  آئین اور قانون کی پاسداری  کا معاملہ اٹھایا ہے  جو   انکا  حق ہے، عدالت کو کہنا پڑا کہ  ہم نے آرمی چیف  کے منصب  میں توسیع سے متعلق  وزیر اعظم کے دستخطوں سے   جاری کردہ نوٹیفیکشن میں آئینی تقاضوں پورے نہ ہونے کی بات کی ہے ، نہ صرف ایک مرتبہ  بلکہ عدالتی ریمارکس کے باوجود  بد قسمتی سے  اس  حکومت کی  نہائت ہی ”قابل اور تجربہ کارٹیم“نے قانونی غلطیوں کا  اظہار کیاجسکی  نشاندہی  ایک  مرتبہ پھر عدالت عالیہ کو کرنا پڑی ،عدالت نے خواہش کا اظہار کیا اور حکومت کو  ریاستی امور اور ریاست اداروں کو آئین و قانون کا پابند کرنے کو  عندیہ دیا ۔نہائت  ہی   ”اہلیت کی حامل“ حکومتی  ٹیم عدالت  کی معاونت نہ کرسکی، عدالت کو  از خود  خامیان دور کرنے کا راستہ دکھایا اور  اسمبلی کے ذریعے چھ ماہ میں  ان خامیوں کو  دور کرنے  کو  کہا،  اب اس تمام کہانی میں  حکومتی  مستقل  نعرہ   ”کرپٹ  لوگ ملک کو  لوٹ کر کھاگئے، ملک کی دولت   باہر لے گئے“ ان لوگو ں کا  کردار  کہاں نظر آرہا ہے،  ہاں ، چونکہ معاملہ ایک تجربہ کار  آرمی چیف کا تھا، جس  سے بھارت کی نیند  یں خراب ہوتی ہیں  اس معاملے میں  اپنے چینل اور میڈیا  میں  منفی تشہر کرنا بنتا ہے۔ جو  کسی  سابقہ ”کرپٹ“ لوگوں کی وجہ سے نہیں  از خود  حکومتی  قانونی ٹیم  کی وجہ سے ہے۔  مسئلہ  یہ ہے موجودہ حکومت  یا کوئی  بھی حکومت اپنی غلطیان تسلیم نہ کرتے ہوئے ہمیشہ   مسائل کی ذ مہ داری  حزب اختلاف پر  ڈالتی ہوئے اپنے آپ کو بری   کرتی ہے۔ یہ موجودہ حکومت کا المیہ نہیں  ہمارے سسٹم کا ہے۔ کہ اپنے بیانیہ کو  ہی  آسمانی  حکم  گردانتی ہے۔  جیسے  پنجاب میں  پلس  پلس وسیم اکرم  وزیر  اعلی کو  اہل ثابت کرنے کیلئے ایک سال میں کئی مرتبہ  شامت  نوکر شاہی کی  آئی ہے۔ اب بلا آخر   اسی کرپٹ  شخص (بقول  تحریک انصاف کی حکومت )   شہباز شریف  کی ایڈمنسٹریشن کی نوکر شاہی ، سانحہ  ماڈل ٹاؤن نے ذمہ دار  (بقول حکومت  اور  بابا  طاہر القادری )  انہیں افسران کو تعنیات کرکے  پلس پلس  وسیم اکرم  کے سسٹم میں ہوا بھری جارہی ہے۔ 
    

اپنا تبصرہ بھیجیں