مریم نواز کی خاموشی کب تک ؟

سابق وزیراعظم نواز شریف کے علاج کی غرض سے  لندن چلے جانے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ان کی صاحبزادی مریم نواز کب تک خا موش رہیں گی ۔این آر او نہ دینے کا اعلان کرنے والے وزیراعظم عمران خان اور شریف خاندان کی جانب سے کسی بھی ڈیل کی واضح تردید ہونے کے باوجود اب یہ باتیں زور پکڑ رہی ہیں کہ آخر مریم نواز خاموش کیوں ہیں ؟اگر عمران خان اور شریف خاندان کے درمیان کوئی ڈیل نہیں ہوئی کوئی سمجھوتا نہیں ہوا کوئی این آرو نہیں ہوا تو مریم نواز کو سیاسی بیانات دینے سے کس نے روک رکھا ہے وہ اگر کسی سیاسی جلسے جلوس یا اجلاس میں شرکت کرنے سے گریزاں ہیں تو سوشل میڈیا کے ذریعے ایک بیان دینا ان کے لیے کیا مشکل بات ہے ۔ان کی مسلسل خاموشی سے یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال کالی ہے اور کچھ مصالحت کاروں نے یا ثالثی کا کردار ادا کرنے والوں نے شریف خاندان پر یہ شرائط عائد کر رکھی ہیں کہ وہ حکومت کے خلاف کسی بھی بیان بازی سے گریز کریں اور حکومت بھی ان کے خلاف براہ راست بیانات سے اجتناب برتے ۔ وزیراعظم عمران خان تو مسلسل یہ بیانات دے رہے ہیں کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ سامنے آئیں گے تو پتا چل جائے گا کہ کیا تھا لیکن دوسری جانب سے شاہ نواز شریف اور مریم نواز نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے جب کہ شہباز شریف نے بھی لندن سے یہ بیان دیا ہے کہ وہ عمران خان کے سیاسی بیانات پروا نہیں کرنا چاہتے وہ انتہائی گرے ہوئے بیانات دے رہے ہیں ۔ البتہ مسلم لیگ نون کی ترجمان مریم اورنگزیب کی جانب سے سیاسی بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے لیکن مسلم لیگ نون کے کارکن اور ہمدرد اس بات کے منتظر ہیں کہ کب سابق وزیراعظم نواز شریف خود یا مریم نواز بیانات دیتی ہیں اور صورتحال واضح  کرتی ہیں ۔پرویز مشرف کے دور میں بھی جب شریف خاندان جیل سے سعودی عرب چلا گیا تھا تو وہاں جاکر نواز شریف کے سیاسی بیانات پر مکمل پابندی تھی  اور سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے نواز شریف کو بالآخر لندن جانا پڑا تھا ۔لیکن اس مرتبہ حیران کن بات یہ ہے کہ نواز شریف لندن میں ہی شہباز شریف بھی لندن میں ہے اور مریم نواز پاکستان میں ہے لیکن کوئی بھی سیاسی بیان نہیں دے رہا ۔اگر یہ سب کچھ ایک یقین دہانی کے تحت اور حکمت عملی کے تحت ہورہا ہے تو یہ خاموشی کب تک رہے گی اس کا دورانیہ کیا ہوگا اور اس کے اثرات خود مسلم لیگ نون کی پارٹی اور کارکنوں پر کیا ہوں گے ؟




اپنا تبصرہ بھیجیں