طلبہ تحریک کے پیچھے کیا مقاصد کارفرما ہیں ؟

پورے ملک میں طلباء کو جس انداز سے سڑکوں پر لایا گیا ہے اور طلباء یونین کی بحالی کے حوالے سے یہ مطالبہ سر اٹھا رہا ہے اس نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے ۔ماڈرن طلبہ کی بڑی تعداد سڑکوں پر آکرنعرے لگا رہی ہے کہ جب  لال لال لہرائیگا ۔تب ہوش ٹھکانے آئے گا ۔جب لال لال لہرائے گا تب لگ پتہ جائے گا ۔ یہ ایک طرح سے لیفٹ کی وہ تحریک ہے جس کو ماضی میں بہت شدت کے ساتھ دبایا جاتا رہا ۔بحث ہورہی ہے کہ پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں مذہبی انتہا پسندی کی طرف سے پر شروع ہوا تھا جس سے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جہاد اور پھر طالبان اور دیگر حوالوں سے دنیا بھر میں جانا پہچانا گیا اور اس کے نتیجے میں افغانستان اور پاکستان میں ملا مضبوط ہوا شاید اس سوچ کو تبدیل کرنے کا وقت آگیا ہے ویسے تو جنرل مشرف کے دور میں بھی اس جانب پیش رفت ہوئی تھی لیکن ایم ایم اے کی موجودگی میں جنرل مشرف نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مذہبی انتہا  پسندوں سے ڈرائے رکھا اور اس کے فوائد بھی سمیٹے  لیکن نقصانات قوم کو بھگتنا پڑے ۔ اب ایک مرتبہ پھر ماڈرن سوچ کے علمبردار  نوجوانوں کو اسٹوڈنٹ تحریک کی شکل میں میدان میں اتارا جا رہا ہے سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے اور باقاعدہ حکمت عملی کے تحت ہورہا ہے ۔بظاہر نوجوان اپنے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہوئے سڑکوں پر نظر آ رہے ہیں وہ کوئی غیر پہلا کی اور کوئی متنازعہ بات بھی نہیں کر رہے اور بظاہر ان کی پہلے سے موجود پاپولر یا نون پاپولر لیڈرشپ بھی سامنے نہیں آئی اس لئے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں نئی لیڈرشپ سامنے لائی جائیں گی ۔نوجوان طلباء کے نئے لیڈر سامنے آئیں گے ۔ ماضی قریب میں تحریک لبیک پاکستان اور پشتون تحفظ موومنٹ کے پلیٹ فارم پر بھی بڑی تعداد میں لوگ سامنے آئے تھے ۔اب طلبہ تحریک کا نیا پلیٹ فارم ملک بھر میں استعمال کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے اس نے مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی ہے اور اس حوالے سے بحث ہورہی ہے کہ اس تحریک کے پیچھے کیا مقاصد کارفرما ہیں کیا یہ سوسائٹی میں ایک توازن لانے کی کوشش ہے کیا یہ کشمیر اور دیگر اہم مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے کیا یہ حکومت کی ممکنہ ناکامی اور تبدیلی کی صورت میں نیا پلیٹ فارم فراہم کرنے کی سوچ ہے کیا یہ سرکار اور اسٹیبلشمنٹ کی نئی حکمت عملی ہے کیا اسے تشکیل دینے والے وہی کردار ہیں جن کے ساتھ ماضی میں ایم کیو ایم اور دیگر سیاسی جماعتیں نتھی  کی جاتی ہیں سوال یہ بھی اٹھایا جارہا ہے کہ ماضی میں بھی غلطیاں کی جا چکی ہیں ضیاء الحق کے دور میں پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایم کو بخشی گئی تھی بعد میں وہی ایم کیوایم اسٹیبلشمنٹ کے لئے درد سر بن گئی ۔یہاں خود کچھ ایسے جن بوتل سے باہر لائے جاتے ہیں جنہیں بعد میں قابو کر کے بوتل میں واپس بند کرنا مشکل ہو جاتا ہے آنے والے دنوں کے حوالے سے کیا تیاری کی جارہی ہے معصوم طلبہ کو ان کے جائز حقوق کے نام پر استعمال کرنے کا نیا کھیل شروع ہونے  جا رہا ہے ۔اللہ خیر کرے ۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ سوسائٹی میں ایسی تحریک اور طلبہ کو ایسی سرگرمیوں کی اشد ضرورت ہے لہذا ایسی کوششوں کی مخالفت نہ کی جائے اور ان طلبہ کو اپنے طور پر آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے ۔اگر یہ طلبہ اپنی صفوں کے درمیان سے نئی لیڈر شپ سامنے لانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ ملک اور قوم کا بھلا ہوگا ۔ یہ بحث بھی جاری ہے کیونکہ ابھی صورتحال واضح نہیں ہے کچھ ابہام ہیں کچھ اندیشے ہیں کچھ شکوک ہیں اس لیے کچھ انتظار کرنا چاہیے







اپنا تبصرہ بھیجیں