‏سندھ روشن پروگرام منصوبے کوکاغذوں میں مکمل دکھا کر اربوں کے فنڈزغائب

پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور میں صوبہ سندھ میں ساڑھے 8 ارب روپے سے زائد مالیت کے سولر لائٹ منصوبے شروع کیے گئے اس سے عوام تو مستفید نہ ہوسکی لیکن اس منصوبے کے وزیر اور منصوبہ شروع کرنے والے افسران و سیاستدان اور ٹھیکے حاصل کرنے والوں کو ضرور فائدہ پہنچا کیونکہ حکومت سندھ کے کئی دیگر منصوبوں کی طرح یہ منصوبے بھی کرپشن اور اقربا پروری کی نذر ہوگئے۔ روشن سندھ کے نام سے سولرلائٹ منصوبہ سابق وزیر بلدیات سندھ ودیہی ترقی شرجیل میمن کی وزارت کے دورمیں 2014 میں شروع کیا گیا تھا اورسندھ حکومت نے 2014 سے 2018 کے بجٹ میں کراچی سمیت سندھ کے 9 اضلاع کے دیہی علاقوں کوروشن کرنے کے لیے 8 ارب 50 کروڑروپے سے زائد مختص اورمنصوبے کے لیے مرحلہ وارجاری کیے۔


اس منصوبے جس کا نام روشن سندھ رکھا گیا تھاجس کے پہلے مرحلے کی مالیت 4 ارب روپے تھی جس کے تحت صوبے کی میونسپل اور ٹاؤن کمیٹیوں میں تقریباً 20 ہزار سولر لائٹس نصب کرنی تھیں، حکومت سندھ نے مذکورہ منصوبے کی منظوری 22 ستمبر 2014 کو دی تھی جبکہ یہ منصوبہ جون 2016 میں مکمل ہونا تھا ، منصوبے کے تحت بعض شہروں کی صرف چندمخصوص سڑکوں پر سولر اسٹریٹ لائٹس نصب کی گئیں۔ محکمہ دیہی ترقی سندھ نے ایک سولر بلب لگانے کا ٹھیکہ تقریباً2 لاکھ روپے میں الاٹ کیا، اس منصوبے کے تحت کراچی کے ضلع ملیر اور ضلع غربی کے علاقوں میں ایک ہزارسولر لائٹس، حیدرآباد ڈویژن میں4ہزارسولرلائٹس، میرپورخاص میں3ہزار500 لائٹس، شہید بے نظیر آباد میں3ہزار500 لائٹس، سکھر ڈویژن میں4 ہزار لائٹس اور لاڑکانہ ڈویژن میں 4 ہزار سولر لائٹس لگنی تھیں۔

 

دوسرے منصوبے کی مالیت3ارب روپے تھی جس کے تحت دیہی علاقوں میں سولر لائٹیں نصب کرنا تھیں، اس منصوبے کی منظوری26 اکتوبر 2016 کو دی گئی جبکہ مذکورہ منصوبے کی تکمیل جون 2018 کو ہونی تھی، محکمہ خزانہ اور محکمہ ترقی و منصوبہ بندی سندھ کے اعداد وشمار کے مطابق مالی سال 2017-18 کے لیے اس منصوبے کے لیے 92 کروڑ 50 لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی تھی جبکہ5دسمبر2017 تک یہ رقم خرچ کردی گئی۔ سولرلائٹس کا تیسرا منصوبہ ایک ارب50 کروڑ روپے مالیت سے شروع کیا گیا جسے دیہی علاقوں میں سولر لائٹ نصب کرنے کا فیز 2 منصوبہ قرار دیا گیا، اس منصوبے کے تحت 2018 کے آغاز تک 75 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ اس منصوبے کو گراؤنڈ پر کہیں بھی دیکھا نا جا سکا۔ ٹوٹل 8 ارب 50 کروڑ روپے کے روشن سندھ سولر لائٹ منصوبے میں کرپشن میں اہم حکومتی شخصیات ملوث تھیں۔


اہم حکومتی شخصیت کی سرپرستی میں نجی کمپنی اورسرکاری افسران کی ملی بھگت کے باعث منصوبے کوکاغذوں میں مکمل دکھا کر اربوں کے فنڈزغائب کرپشن کی نذرکیے گئے جبکہ ٹھیکہ الاٹ کرنے میں بھی اقربا پروری کا مظاہرہ کرتے ہوئے من پسند کمپنی کوٹھیکہ دیا گیا ۔ سندھ کے مختلف اضلاع کے لیے ساڑھے 8 ارب روپے مالیت کے سولرلائٹ منصوبوں میں 2 لاکھ روپے فی سولربلب کے حساب سے 7 ارب روپے سے زائد کے ٹھیکے ایک ہی کمپنی کو دییے گئے منصوبے کے لیے بجٹ 2017-18 تک مرحلہ وارساڑھے 8 ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے گئے منصوبے کے لیے جس کمپنی کوفنڈزجاری ہوئے اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں سندھ کے نگران دورکے وزیربلدیات جعفرخواجہ بھی شامل تھے۔ واٹرکمیشن کی ہدایت پرسولرلائٹ منصوبے کا جائزہ لینے والی خصوصی کمیٹی نے جب بازپرس کی تو اینٹی کرپشن سندھ نے بھانپ لیا کہ یہ معاملہ نیب میں جا سکتا ہے اور اہم حکومتی شخصیت یعنی شرجیل میمن پھنس سکتے ہیں لہذا نیب کی کارروائی سے قبل ہی صوبے کے 9 اضلاع کراچی،ٹھٹھہ ، سجاول،شہداد کوٹ،میرپورخاص،شہیدبے نظیرآباد،عمرکوٹ،جام شورو،لاڑکانہ کا ریکارڈ تحویل میں لے لیا اور چھوٹے موٹے افسران کو پکڑ لیا گیا۔ جبکہ واٹرکمیشن کی جانب سے روشن سندھ سولرلائٹ منصوبے میں من پسند کمپنی کوٹھیکہ دینے اوربڑے پیمانے پرکرپشن کی تحقیقات نیب سندھ سے کروانے کی تجویز دی گئ تھی، اب یہ معاملہ احتساب عدالت میں ہے جس میں افسران وعدہ معاف گواہ بن رہے ہیں۔