سندھی ثقافت نے دیگرتمام ثقافتوں کے لوگوں کا ہمیشہ خیر مقدم کیا ہے، سنیٹر ڈاکٹر کریم احمد خواجہ

سندھی ثقافت میں فراخدلی ہے، جس نے دیگرتمام ثقافتوں کے لوگوں کا ہمیشہ خیر مقدم کیا ہے، ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر ڈاکٹر کریم احمد خواجہ نے شعبہ سندھی، وفاقی جامعہ اردو کی جانب سے یومِ ثقافت سندھی کی نسبت سے منعقدہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ، سندھی ثقافت و زبان کی سرحدیں بہت وسیع ہیں، جن کی بنیاد پر ہم معاشی ترقی بھی کرسکتے ہیں ۔ معروف سندھی اور اردو سفرنامہ و کالم نویس الطاف شیخ نے کہا کہ؛ میں اپنی زندگی میں یومِ ثقافت کے حوالے سے منعقدہ کسی تقریب میں پہلی مرتبہ شریک ہوا ہوں۔

یہ ایک بہت ہی شاندار تقریب ہے۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ سندھی نے یہ تقریب منعقد کرکے جامعہ اردو کے سندھی زبان و ثقافت سے پیار اور اپنائیت کا اظہار کیا ہے۔ جامعہ اردو کا یہ عمل قابل ستائش ہے۔ صدر شعبہ سندھی ڈاکٹر کمال جامڑو نے کہا کہ؛ زبان و ادب کے ساتھ ثقافت کی تدریس و تحقیق بھی ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ؛ ہم نے آج یہ تقریب منعقد کی۔ اس سال یومِ ثقافت سندھی کا موضوع ایک سندھ۔ ایک ثقافت رکھا گیا ہے، جس کی مناسبت سے ہم نے یہ تقریب منعقد کی۔ اس تقریب میں تمام زبانیں بولنے والے اساتذہ اور طلباء نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ڈاکٹر اصغر دشتی نے کہا کہ؛ جامعہ اردو کا شعبہ سندھی ایک فعال شعبہ ہے، جہاں پر تدریس و تحقیق کے ساتھ سیمینار اور کانفرنسز بھی منعقد کی جاتی ہیں۔ میں صدر شعبہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ طالبِ علم امتیاز مستوئی نے کہا کہ وفاقی جامعہ اردو کے عبدالحق کیمپس کے گراؤنڈ پر منعقدہ جامعہ اردو کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی تقریب ہے۔

تقریب میں ڈاکٹر عنایت حسین لغاری، ڈاکٹر سیما ابڑو، ڈاکٹر عابدہ گھانگھرو ، بشیر بگھیو ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن جامعہ اردو، ڈاکٹر خلیل الرحمٰن شیخ، نصیر سومرو، اشرف علی کھہاوڑ ، ڈاکٹر رضوانہ جبیں,وائس آف پاکستان کے سینئر وائس چیر مین،تجزیہ نگار اور کالم نویس ایڈووکیٹ محمد صدیق کالاڈیہ و دیگر نے شرکت کی۔ طلباء نے ثقافتی گیت، ٹیبلوز اور تقاریر پیش کرکے بڑی داد وصول کی۔ سندھی شادی کی رسومات بھی پیش کی گئیں۔ مومل رانو اور سسئی پنہوں کی لوک داستانوں پر پیش کئے گئے ٹیبلوز کو بہت سراہا گیا۔ جن طلباء و طالبات نے حصہ لیا ان میں حفصہ، جیہا ، دارا فہد ، میر کیریو، اقرا شیخ ، ورثہ پیرزادو، خالدہ پیرزادو، احمد علی ، شفقت حسین، حسن سومرو ، ذیشان بھٹی ، زبیر مسن،عبدالہادی اور دیگر شامل تھے۔ اسٹیج سیکریٹری کے فرائض محمد حنیف بگھیو اور سرفراز مسن نے انجام دیئے۔