جدہ کی ڈائیری

امیر محمد خان                                                                     اسلامی تعاون تنظیم    نے گزشتہ دنوں  اپنا  پچاسوان  یوم تاسیس منایا جسکی تقریبات  کئی دن جاری رہیں جس  میں ممبر  ممالک  کی جانب سے ثقافتی پروگرام بھی ترتیب گیا،  ان تقریبات میں شرکت کیلئے پاکستان سے وزیر اعظم کی مشیر  برائے اطلاعات  فردوس عاشق اعوان بھی تشریف لائیں اس موقع پر  انہوں جدہ میں  پاکستان کمیونٹی  سے ملاقات اور میڈیا سے بات چیت کرنے کا  دن بھی نکلا ، جدہ میں  سفارت کار جب بھی  کوئی  وزیر ، وزیر اعظم یہاں کمیونٹی سے ملاقات کا خواہش مند ہوتا ہے انکی کوشش  ہوتی ہے  یا تو   آنے والے کو کمیونٹی سے دور رکھا جائے  یا پھر  انہیں  دعوت دی جائے  جو متعلقہ  سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ سلسلہ  گزشتہ  تیس سال سے جاری ہے، شائد  اب نئے قونصل جنرل  اس  طریقہ کار کو بدلیں، ہماری کمیونٹی بھی  کسی وزیر کو دیکھ کر  اپنے دل کے دکھڑے  اسطرح روتی ہے کہ سچی باتیں بھی جھوٹ لگیں۔  فردوس عاشق اعوان کے ساتھ پی ٹی آئی کے  لوگوں کی ملاقات کرائی گئی کمیونٹی سے ملاقات کے نام پر  وہاں  پی ٹی  آئی کے دوست نے عجیب ہی بات بتائی کہ   گزشتہ قونصل جنرل  شہریار اکبر   بہت بڑی رقم خرد برد کرگئے ہین جدہ سے   اسکی  تحقیقات ضروری ہے،  دوست کے اس مطالبے پر  مشیر  صاحبہ نے جواب دیا کہ مجھے تحریری طور پر دیں میں وزارت خارجہ بھیج کر  تحقیقات کراونگی ، یہ بات تو درست ہے کہ سابقہ قونصل جنرل  اپنے خول میں بند رہے  ساڑھے تین سال تک جدہ میں اپنی تعنیاتی کے دوران کمیونٹی کو شجر ممنوع سمجھتے ہوئے  کسی سے نہ ملے، میڈیا سے بھی نہ ملے بلکہ یہاں موجود میڈیا گرو پ  بندی  کرنے  کے خواہش مند رہے اور  جعلی قسم کے موبائل اور فیس بک کے صحافیوں کو گروہ بھی بنوادیا،  مگر  یہ بات بلکل غلط ہے کہ انہوں نے کوئی مالی بدعنوانی کی ہو ،  کمیونٹی کی جانب  اس مطالبے پر انکے پیٹی بند  بھائی   سفیر پاکستان راجہ  علی اعجاز   اور قونصل جنرل  خالد مجید جووہاں بیٹھے تھے انہیں ضروری  بولنا چاہئے تھا  مگر ایسا نہ ہو ا۔   جدہ میں وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان نے کمیونٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں اور ہماریبیس بلین سے زائد کے پروجیکٹ  سعودی حکومت کے ساتھ چل رہے ہیں۔انکا  مزید کہنا تھا کہ حج میں روڈ ٹو مکہ پروجیکٹ وزیر اعظم عمران خان کے کہنے پر شروع کیا۔سعودیہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور او آئی سی میں سعودیہ کلیدی کردار کرے۔او آئی سی پلیٹ فارم کے ذریعے کشمیر میں جاری مظالم بند کرائے جائیں۔ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ اس وقت کشمیر میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں،پاکستان حکومت سمیت ہم سب کی دلی خواہش ہے کہ  او آئی سی مسئلہ کشمیر پر نوٹس لے۔ ہم بابری مسجد جیسے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے دنیا کو جھنجھوڑتے رہیں گے  اور بھارت کا انتہا پسندانہ چہرہ دنیا کو دکھاتے رہیں گے۔انکا یہ بھی کہنا تھا کہ سعودی عرب کی  ترقی میں پاکستانی کمیونٹی کا بھی بہت بڑا کردار ہے۔اوورسیز کے دل ملک سے باہر رہنے کے باوجود پاکستان کے لیے دھڑکتے ہیں سعودی عرب کے ساتھ لانگ ٹرم اقدامات ہیں اور مشکل کی گھڑی میں ہمارے ساتھ معاشی حالات بہتر کرنے کے لیے جو رول ادا کیا ہے اس پر ہم انکے شکر گزار ہیں۔پاکستانی کمیونٹی ہماری ترجمان ہے،نیا پاکستان بنانے میں آپ سب کا بہت اہم کردار ہے،ہماری دلی خواہش ہے کہ ہمارے ادارے مضبوط ہوں اور ہم مزید ترقی کریں۔پاکستان میں پیاز ٹماٹر انڈیا سے آ رہا تھا جب ہم نے پلوامہ واقعے کے بعد تجارت بند کی تو مارکیٹ میں اجناس کی کمی پیدا ہوئی ہم ملک کو سائنسی طریقے سے  ترقی کی طرف لیکر جا رہے ہیں۔سی پیک میں چائنہ سے انسٹرا اسٹرکچر کے  ساتھ فشری اور زراعت کا بھی معاہدہ کیا ہے۔سعودی عرب اور چائنا ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔انشائاللہ ہر حال میں سبز پاسپورٹ کی عزت بحال کرنی ہے۔عاشی طور پر ملک کو مستحکم کرنا ہے،وزیر اعظم عمران خان کے احساسات و خیالات سیکرٹری جنرل او آئی سی تک پہنچا دیئے ہیں،ہم سعودی عرب کی منڈی میں اپنی مصنوعات لانا چاہتے ہیں ۔کمیونٹی سے ملاقات میں    ورلڈ میمن آرگنائزیشن کے طیب موسانی  نے پاکستان  کمیونٹی کو درپیش مسائل کے سلسلے میں بہت ہی  جوشیلے انداز میں  بیان کیا  اور  قونصیلٹ ، سفارت خانے کی کارکردگی  پر  اعتراض کیا کہ یہ لوگ کسی سے ملتے بھی نہیں (وہ شائد  گزشتہ قونصل جنرل کے دور سے ناراض تھے )  طیب موسانی  کے سوالات کے جوابات سفیر پاکستان راجہ علی اعجاز نے  دئے۔ پی ٹی آئی کی تنظٰم سازی کا مسئلہ    جدہ میں  پی ٹی آئی کے سربراہ  برائے  پی ٹی آئی کی سعودی عرب میں تنظیم سازی  احمد بشیر  نے اپنے دیگر  عہیدیداروں کے ہمراہ  جن میں  انجینئر  محمد شاہین آفریدی ،  قیصر  جاوید  صدر جدہ سٹی، لیاقت  خان جنرل سیکریٹری  جدہ، طارق  ندیم  سینئر  نائب صدر، منیر  احمد ، شعیب  فنانس سیکریٹری نے میڈیا کے  نمائیندوں سے ملاقات کرکے  پی ٹی آئی کی سعودی عرب میں تنظیم سازی  پر  پی ٹی آئی سعودی  عرب  کے سئینر اراکین   جنکا تعلق  سعودی عرب کے مختلف  شہروں سے ہے  انہیں نئی تنظٰم سازی پر اعتراض ہے  ناراض اراکین  ہمارے ساتھی ہیں  ہم انکی قدر کرتے ہیں، انکی ناراضگی ختم کرنے کیلئے ان سے رابطہ ہے  اور انشااللہ ناراضگیاں دور ہونگیں  اور ہم سب اکھٹے ہی کام کرینگے،  ہماری خواہش ہے کہ  متحد ہوکر  کمیونٹی کے مسائل پر توجہ دیں  یہاں ہمار یہ ہی کام ہے کہ  کمیونٹی کے مسائل پر  توجہ دیتے ہوئے انہیں حل کرنے کیلئے  حکومت پاکستان اور  کمیونٹی کے درمیان  پل کا کردار ادا کریں۔  منسلک۔۔۔ دو تصاویر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ا۔  فردوس عاشق اعوان  کی کمیونٹی سے خطاب                                           ۲۔  پی ٹی آئی کی میڈیا سے بات چیت  
   



اپنا تبصرہ بھیجیں