محافظ قاتل بن گئے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، نبیل کی والدہ کا قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ

کراچی :  ضلع جنوبی میں مبینہ پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے نوجوان نبیل کی والدہ نے کہا ہے کہ میرا بیٹا برطانوی شہری تھا لیکن میں اس کے لیے برطانیہ سے کوئی مدد نہیں مانگی ہے، ایک ا سپورٹس مین کا سر عام قتل کیا گیا مگر اعلی احکام کے سرپر جوں تک نہیں رینگی۔چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ اس معاملے کو کراچی بد امنی کیس میں شامل کیاجائے، جمعرات کو کراچی پریس کلب میں اپنی بیٹی اور وکیل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضلع جنوبی میں اس طرح کے بہت واقعات ہوئے ہیں۔ پولیس بے لگام ہوچکی ہے، قانون پولیس کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی پر بھی سرعام فائرنگ کرے۔میرے بیٹے پر گولی چلانے کے بعد پولیس اہلکار بھاگ گئے انہوں نے میرے بیٹے کو اسپتال تک نہیں پہنچایا۔

4 دن گزر گئے ابھی تک پولیس کی جانب سے کیس میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی ہے، پولیس کچھ نہیں کر رہی ہے مگر اداروں سے ہمیں انصاف کی امید ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت کوئی محفوظ نہیں ہے۔محافظ قاتل بن گئے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔واقعہ پر کسی کو معطل تک نہیں کیا گیا۔عمران خان آپ کے بھی دو بیٹے ہیں آپ کو جاگنا ہوگا، مجھے خون کے بدلے خون چائیے۔میں کسی اور ماں کی گود اجڑنے نہیں دونگی۔مجھے میرے بیٹا کا انصاف چاہیے میں نے اپنا اکلوتا بیٹا کھو دیا ہے۔مجھے کسی کی معافی نہیں چائیے۔ جس طرح میرے بیٹے کو قتل کیا گیا اس طرح انصاف بھی دلایا جائے، انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل کی کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے۔مقتول نبیل کی بہن نے کہا کہ میں ہاتھ جوڑکر اعلی حکام سے اپنے بھائی کے لئے انصاف کی بھیک مانگتی ہوں۔نبیل ایک ایک محب وطن پاکستانی تھا۔ مجھے اپنے وطن پاکستان سے پیار ہے۔امید ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا۔