بھارت میں کرپشن کا جن بے قابو ہوگیا

بھارت کرپشن سروے 2019 میں حصہ لینے والے آدھے سے زیادہ لوگوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے کام کروانے کے لیے رشوت دی ہیں۔ سروے کرنے والے ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل انڈیا کا کہنا تھا کہ اگرچہ رشوت کے واقعات میں گذشتہ سال کے مقابلے میں دس فیصد کی کمی آئی ہے، لیکن پھر بھی بدعنوانی کے معاملے میں دنیا کے 180 ممالک میں اںڈیا 78 ویں نمبر پر ہے۔

سروے کے مطابق 35 فیصد لوگوں نے کہا کہ انہوں نے اپنا کام کروانے کے لیے نقدی کی شکل میں رشوت دی جبکہ 16 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ انھوں نے ہمیشہ بغیر رشوت دیے اپنا کام کروایا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل انڈیا نے تقریباً 20 ریاستوں کے 248 اضلاع میں سروے کیا جہاں ایک لاکھ 90 ہزار لوگوں نے ان کے سروے کا جواب دیا۔

ان کی بنیاد پر ادارے کا کہنا تھا کہ گذشتہ 12 مہینوں میں 51 فیصد لوگوں نے رشوت دی ہے۔ ان کے مطابق دہلی، ہریانہ، گجرات، مغربی بنگال، کیرالہ، گوا اور اڑیسہ کے لوگوں نے بدعنوانی کے واقعات میں کمی کا اظہار کیا ہے جبکہ راجستھان، اترپردیش، بہار، تیلنگانہ، کرناٹک، تمل ناڈو، جھارکھنڈ اور پنجاب جیسی ریاستوں میں بدعنوانی کے زیادہ واقعات نظر آئے۔

سروے میں کہا گیا کہ سرکاری دفاتر میں رشوت کا اب تک بول بالا ہے حالانکہ وہاں سی سی ٹی وی کیمرے لگ گئے ہیں اور زیادہ تر کام کمپیوٹر پر ہونے لگے ہیں۔سب سے زیادہ رشوت جائیداد کے رجسٹریشن اور زمین کے معاملے میں دی جاتی ہے کیونکہ 26 فیصد لوگوں نے یہی بات کہی ہے جبکہ 12 فیصد لوگوں کا خیال اس کے برعکس ہے۔