وائس چانسلر ڈاکٹر ثمرین حسین کی سربراہی میں داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کی نئی روایات کا سلسلہ جاری ، کانووکیشن کا انعقاد پہلی مرتبہ گورنر ہاؤس میں،


کراچی (اسٹاف رپورٹر) دائود یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا 11واں جلسہ تقسیم اسناد ہفتے کو گورنر ہاؤس سندھ میں منعقد کیا گیا۔ جلسہ تقسیم اسناد میں مہمان خصوصی گورنر سندھ محمد کامران خان ٹیسوری تھے جبکہ داؤد ہرکیولس کے چیئرمین حسین داؤد تقریب کے اعزازی مہمان تھے، چینی قونصل جنرل یانگ یونڈونگ ، چیئرمین ایچ ای سی سندھ ڈاکٹر طارق رفیع ، کئی سرکاری اور نجی جامعات کے وائس چانسلر ، اہم شخصیات نے کانوکیشن میں خصوصی شرکت کی ۔ شعبہ انجینئرنگ (بی ای ) ، شعبہ سائنس (بی ایس ) اور شعبہ آرکٹیکٹ کےفال 19بیچ کے 383؍ طلبہ و طالبات نے گریجویشن مکمل کی تاہم گورنر ہاؤس میں منعقد کانوکیشن میں 300طلبہ وطالبات کو ڈگریاں تفویض کی گئیں جبکہ امتیازی نمبر حاصل کرنیوالوں کو گولڈ اور سلور کے تمغے دیئے گئے۔ یونیورسٹی کی ٹاپ پوزیشن، فیکلٹی ٹاپ پوزیشنز اور 11شعبوں میں سے 8میں ٹاپ پوزیشن لڑکیوں نے حاصل کی جلسہ تقسیم اسناد میں

داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی میں ایم ایس پروگرام کے 12طلبہ و طالبات کو بھی ڈگریاں دی گئیں ۔ شعبہ الیکٹرونک انجینئرنگ کی طالبہ سونیلہ بابر مغل ولد بابر مغل نے یونیورسٹی میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرتے ہوئے گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ انجینئرنگ فیکلٹی سی ای ای ٹی میں بھی سونیلہ بابر مغل نے پہلی پوزیشن حاصل کی ، انجینئرنگ فیکلٹی پی آئی ایم ایم ای سی میں کائنات ولد افتخار علی کھوکھر ، کمپیوٹر سائنس فیکلٹی آئی ایچ ایس میں لائبہ جاوید ولد محمد جاوید ولی نے پہلی پوزیشنز حاصل کیں۔ آرکیٹیکٹ فیکلٹی میں اریبہ سید ولد سید شرافت علی نے پہلی پوزیشن لی ۔ مجموعی طور پر 5گولڈ میڈل حاصل تفویض کئے گئے ۔ یونیورسٹی ٹاپ پوزیشن لڑکی کے نام رہی جبکہ چار فیکلٹی میںچاروں ٹاپ پوزیشن بھی لڑکیوں نے حاصل کی۔ وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر ثمرین حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن داؤد یونیورسٹی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے ، گورنر ہاؤس میں جلسہ تقسیم اسناد کا انعقاد کرکے نئی بنیاد ڈال رہے ہیں ۔ گورنر سندھ محمد کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ تمام طلباء کو ڈگریاں ملنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ، داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کے کانوکیشن کی میزبانی کرتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے ، پانچ گولڈ میڈل ہماری بیٹیوں نے حاصل کئے ہیں جو انتہائی فخر کی بات ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=ak0DHASC