ویسٹ واٹر کو کارآمد بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے ، گورنرسندھ

عالمی ادارہ کی رپورٹ کے مطابق 2024ءمیں جن 20 ممالک پر 70 فیصد دنیا کی معیشت کا دارومدار ہوگا ان ممالک کی فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے، میڈیا سے گفتگو
کراچی  : گورنرسندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ ویسٹ واٹر کو کارآمد بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اس ضمن میں بہت سے ایسے اقدامات کئے جاسکتے ہیں جس سے روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والے پانی کو دوبارہ کارآمد بنایا جاسکے، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے شہر میں ڈی سیلینیشن پلانٹ لگانے کی منظوری دی جس کے تحت کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور کنٹونمنٹ بورڈ کے زیرِ انتظام آنے والے علاقوں میں اقدامات کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چوتھی کراچی بین الاقوامی واٹر کانفرنس کی اختتامی تقریب میں اپنے خطاب کے دوران کیا۔ گورنر سندھ نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ کراچی پیکج میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا منصوبہ بھی شامل ہے ۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے سامنے چیلنجوں میں ایک بڑا چیلنج پانی کی کمی بھی ہے جسے پورا کرنے کےلئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے پاکستان میں فراہمی آب کے منصوبے لگانے کا فیصلہ کیا۔ گورنرسندھ نے کہا کہ موجودہ حکومت پاکستان میں صاف پانی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کی خواہاں ہے اس ضمن میں کراچی کے شہریوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے K-IV منصوبے پر کام جاری ہے اور بہت جلد شہر کو فراہمی آب کے سلسلے میں خوشخبری ملے گی۔ موجودہ حکومت قومی آبی پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنانے کے عذم پر کاربند ہے تاکہ ہر صوبہ میں فراہمی آب کا بہتر نظام قائم کیا جاسکے۔ گورنر سندھ نے مزید کہا کہ پانی کی اہمیت اور اس کے استعمال کے بارے میں آگاہی مہم وقت کی اہم ضرورت ہے با الخصوص کاشتکاروں کو بھی آگاہ کیا جائے کہ ضرورت کے مطابق پانی کو استعمال کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ پانی کو محفوظ بنایا جا سکے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ مجھے یہ جان کر بہت خوشی محسوس ہوئی کہ حصار فاؤنڈیشن ، این ای ڈی یونیورسٹی کے اشتراک سے پنجوانی چیریٹیبل فاؤنڈیشن این ای ڈی یونیورسٹی میں پنجوانی حصار واٹر انسٹی ٹیوٹ قائم کررہی ہے،

 

اس ضمن میں وفاقی حکومت بھرپور تعاون کرے گی کیونکہ یہ انسٹی ٹیوٹ نہ صرف کراچی بلکہ پورے پاکستان کو خدمات فراہم کرے گا۔ انہوں نے حصار فاﺅنڈیشن کی جانب سے کراچی انٹر نیشنل واٹر کانفرنس کے کامیاب انعقاد کو سراہا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ کراچی کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جس میں نکاسی و فراہمی آب اور کچرے کو ٹھکانے لگانا جیسے مسائل بھی شامل ہیں اس ضمن میں وفاقی حکومت بھرپور کوشش کررہی ہے کہ وہ صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر ان چیلنجز سے بہتر انداز میں نمبردآزما ہوسکے، اس موقع پر انہوں نے سندھ حکومت کو وفاقی حکومت کی جانب سے اپنے مکمل تعاون کی یقینی دہانی بھی کروائی۔ ایک سوال کے جواب میں گورنرسندھ نے کہا کہ کراچی پیکیج کے اعلان کردہ 162 ارب روپے میں سے 8 ارب روپے جاری کردئے گئے ہیں۔

جس کے تحت جار ی منصوبوں کو مکمل اور نئے منصوبوں کا بھی آغاز کیا جائے گا۔ K-IV پر سوال کا جواب دیتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ کراچی کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے K-IV منصوبہ کی تکمیل اشد ضروری ہے۔ اسٹریٹ کرائمز پر کئے گئے سوال پر گورنر سندھ کا کہناتھا کہ اسٹریٹ کرائمز کا مکمل خاتمہ جب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم کراچی کو اسمارٹ سٹی بنادیں۔ معیشت پر کئے گئے سوال پر گورنرسندھ کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ کی رپورٹ کے مطابق 2024ءمیں جن 20 ممالک پر 70 فیصد دنیا کی معیشت کا دارومدار ہوگا ان ممالک کی فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے کیونکہ پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔