پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے نبیل ہوڈبائے کے اہلخانہ کی کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس

کراچی : 22 نومبر کو پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے نبیل ہڈبائے کے اہلخانہ کی کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس،  کانفرنس میں شیخ جاوید میر ایڈوکیٹ سپریم کورٹ، نبیل کی والدہ لیلیٰ، بہن شارمین سمیت دیگر وکلاء موجود۔ رکی ہوئی گاڑی پر نبیل کے گلے پر فائرکیا۔ اسپتال لے جانے کے بجائے وہاں سے بھاگ گئے۔ نبیل سے پہلے بھی ایسے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں۔جب تک آواز نہیں اٹھائینگے یہ معاملات اسی طرح جاری رہینگے۔ پولیس دہشتگردی کی دفعات نہیں لگا رہے تھے۔ ایک پڑھے لکھے بچے کی جو کم خانے کا پلئیر تھا اسے مارنے کی وجہ کیا تھی۔ ایک ایس پی، ایل ایس ایچ او تک سسپینٹ نہیں ہوا۔ کیا کراچی میں رہنے والے شہریوں کا خون اتنا سستا ہے۔ آئی جی کی کمانڈ کدھر گئی۔ اس معاملے پر اب آواز اٹھانی چاہیے۔ والدین غمگین ہیں وہ چاہتے ہیں انصاف ملے تاکہ کسی اور بچے کے ساتھ ایسا نہ ہو۔ 

والدہ
میرے بیٹے کو قتل کیا گیا جو کہ معمولی بات نہیں ہے، عمران خان آپکے بھی دو بیٹے ہیں اب بھی جاگ جائیں، خون کا بدلہ خون اسلام میں ہے، یا مجھے بیٹا واپس دیں یا خون کا انصاف دیا جائے، کیا میرا بیٹا شرابی تھا ؟ یہ کیسا پاکستان کا معاشرہ ہے ؟ آج میں نہیں چل پارہی، عمران خان سوچ لیں نیا پاکستان کبھی نہیں بنے گا جب تک ایسے واقعات نہیں رکیں گے، آئندہ کسی اور بیٹے کے ساتھ ایسا ہوا تو میں انصاف کے لئے انکے ساتھ آواز اٹھاؤں گی، پولیس تو عوام کی حفاظت کے لئے ہوتی ہے مارنے کے لئے نہیں۔ میرے جگر کا ٹکڑا لے گئے میں کسی کو معاف نہیں کرونگی۔ ابھی تک تو میں نے کسی سے رابطہ نہیں کیا ہے۔  میرا بیٹا آج میرے ساتھ کھڑا ہے آج مجھسے سوال کر رہا ہے کہ مجھے انصاف ملے گا یا نہیں، میرا بیٹا انصاف چاہتا ہے

شیخ جاوید
ڈی آئی جی اور آئی جی کو ڈوب کر مرجانا چاہیے، رات کو ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں پولیس کے گروہ ہیں ایکسٹارشن چل رہی ہے، جو رات گئے سڑک پر نکلتے ہیں ان سے چھینا جھپٹی کی جاتی ہے، ایک آدمی سسپینٹ نہیں ہوا رشوت خوری چل رہی ہے سب ملے ہوئے ہیں، وزیر اعلیٰ سے درخواست ہے کہ وہ ایکشن لیں ہم انصاف چاہتے ہیں، ہمارے حساب سے کارروائی بہت سست روی کا شکار ہے