ملک بھر میں صحافیوں کی تنخواہوں کا مسئلہ اور صحافیوں کو نوکریوں سے نکالنے کا سلسلہ گذشتہ چھ سے آٹھ ماہ میں ہوا ہے اور اس کی ذمہ دار موجودہ وفاقی حکومت کی بدترین معاشی پالیسی ہے : سعید غنی

کراچی  :  وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ جن جن میڈیا ہاؤسز کو محکمہ اطلاعات کی جانب سے اشتہارات کی مد میں ادائیگی کردی گئی ہے اور اس کے باوجود بھی انہوں نے اپنے ملازمین کو تنخوائیں ادا نہیں کی ہیں ہم ان کو ادائیگی کی دوسری قسط ان سے کئے گئے معاہدے کے تحت ادا نہیں کریں گے۔ ملک بھر میں صحافیوں کی تنخواہوں کا مسئلہ اور صحافیوں کو نوکریوں سے نکالنے کا سلسلہ گذشتہ چھ سے آٹھ ماہ میں ہوا ہے اور اس کی ذمہ دار موجودہ وفاقی حکومت کی بدترین معاشی پالیسی ہے۔ ہم نیوز ون کے رپورٹر ایس ایم عرفان کی وفات پر اپنے گہرے رنج و غم کا بھی اظہار کرتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے ادارے سے بھی کہتے ہیں کہ وہ اپنے ملازمین کی نہ صرف تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنائیں بلکہ مرحوم ایس ایم عرفان کے اہلخانہ کی بھی مالی معاونت کرے۔

 

وہ بدھ کے روز سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بیان دے رہے تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ مرحوم ایس ایم عرفان کی وفات پر صحافی برادری میں شدید تشویش پائی جارہی ہے اور انہوں نے اس کا اظہار آج اسمبلی کے باہر اور اسمبلی میں اپنے احتجاج سے بھی کیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ یہ بات حقیقت ہے کہ 2016 کے بعد جب سے نیب کی جانب سے محکمہ اطلاعات میں تحقیقات شروع کی گئی ہیں اور کیسز عدالتوں میں گئے ہیں، میڈیا ہاؤسز کو ریگولر ادائیگیوں کے سلسلے میں تعطل ہوا ہے اور اس کے باعث میڈیا ہاؤسز مالی طور پر مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معزز عدلیہ کی جانب سے اس سلسلے میں ایک کمیٹی بنائی گئی اور اس وقت کے چیف جسٹس نے وفاقی وزیر اطلاعات اور وزیر خزانہ کے ساتھ ساتھ تمام صوبوں کے وزراء کے ساتھ ہونے والے اجلاس کے بعد بقایاجات کی دوبارہ سے ری کنسیلیشن کرکے ادائیگی کی جائے،

انہوں نے کہا کہ ہم نے نہ صرف تھرڈ پارٹی اس کی ری کنسیلیشن کروائی بلکہ سی ایم ٹی سے اس کی کنفرمینش بھی لی اور اس کے بعد میڈیا ہاؤسز مالکان،اشتہاری ایجنسیوں کے مالکان اور ایڈیٹرز اور صحافیوں کے نمائندوں کی تنظیموں کے ساتھ اجلاس کے بعد ان ادائیگیوں کا سلسلہ شروع کیا ہے اور ان سے ایک معاہدہ کیا ہے کہ اشتہاری ایجنسیاں تمام میڈیا مالکان کو پہلی ادائیگی کی قسط میں سے ادائیگی کریں گی جبکہ میڈیا ہاؤسز ان اشتہاری ایجنسیوں اور براہ راست محکمہ اطلاعات سے ملنے والی ادائیگی کی پہلی قسط وصول کرنے کے بعد اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کریں گی اور ان میں سے کوئی بھی اپنے معاہدے پر عمل پیرا نہیں ہوا تو ہم اس کو دوسری قسط کی ادائیگی نہیں کریں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس حوالے سے ہم نے تمام اشتہاری ایجنسیوں اور میڈیا ہاؤسز سے تحریری طور پر رپورٹ بھی طلب کی ہے اور اب یہ رپورٹس ہمیں ملنا شروع ہوئی ہیں اور ہم اس کو مانیٹر بھی کررہے ہیں۔

 

سعید غنی نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ اگر اشتہاری ایجنسیوں اور میڈیا ہاؤسز نے معاہدے کی پاسداری نہیں کی تو انہیں کسی صورت دوسری قسط ادا نہیں کی جائے گی۔ سعید غنی نے کہا میں میڈیا ہاؤسز کے مالکان سے بھی کہتا ہوں کہ مشکلات ابھی چند ماہ سے ہوئی ہیں جبکہ یہ میڈیا ہاؤسز کئی سالوں سے منافع میں چل رہے تھے اس لئے وہ اپنے ملازمین جن کے باعث ہی انہوں نے مالی فائدہ حاصل کیا ہے، اب اپنا منافع کم سمجھ کر نہ صرف ان کو ان کی تنخواہوں کی ادائیگی کریں بلکہ ملازمین کو اداروں سے نکالنے کا سلسلہ بی بند کریں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت میڈیا ہاؤسز کے مالکان کے مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہیں اور ہم ان کے مسائل ضرور حل کریں گے لیکن میڈیا ہاؤسز بھی اپنے ملازمین کا مکمل خیال کریں۔