صوبہ سندھ میں مختلف زبانوں کے 737 اخبارات اور رسائل شائع ہوتے ہیں، یہ تاثر غلط ہے کہ کسی ایک یا مخصوص میڈیا گروپس کو ہی اشتہارات دئیے جاتے ہیں : سعید غنی

کراچی : وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ اس وقت صوبہ سندھ میں مختلف زبانوں کے 737 اخبارات اور رسائل شائع ہوتے ہیں، جن میں اردو اخبارات اور رسائل کی تعداد 446 جبکہ سندھی کی تعداد 156 ہے۔ محکمہ اطلاعات سندھ کے تحت تمام اخبارات کو اشتہارات اشتہاری پالیسی 2015 کے تحت دئیے جاتے ہیں اور یہ تاثر غلط ہے کہ کسی ایک یا مخصوص میڈیا گروپس کو ہی اشتہارات دئیے جاتے ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل اطلاعات یا محکمہ اطلاعات و آرکائیوز حکومت سندھ میں جولائی 2017 سے جون 2018 کے دوران کسی قسم کی کوئی ملازمت نہیں دی گئی ہے البتہ فوتی کوٹہ کے تحت 8 افراد کو ملازمت فراہم کی گئی ہے اور یہ بھی چیف سیکرٹری کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی سفارش اور ان کے فیصلوں کی روشنی میں دی گئی ہیں۔ محکمہ آرکائیوز میں ہر ماہ ملازمین کو باقاعدہ تنخوائیں دی جارہی ہیں اور یہ تاثر بھی غلط ہے کہ وہاں ملازمین کو تنخوائیں نہیں دی جارہی ہیں۔

وہ بدھ کے روز سندھ اسمبلی میں محکمہ اطلاعات و آرکائیوز کے سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔ عارف مصطفی جتوئی کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اس وقت 750 سے زائد اخبارات میڈیا لسٹ پر ہیں اور ہم ان تمام اخبارات کو روزانہ کسی صورت اشہارات نہیں دے سکتے لیکن ہماری بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ بڑے میڈیا ہاؤسز کی ساتھ ساتھ چھوٹے اور ریجنل اخبارات کو بھی اشتہارات فراہم کررہی ہے تاکہ وہ بھی اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت بھی محکمہ اطلاعات 200 سے زائد اخبارات کو اشتہارات فراہم کررہا ہے۔ ضمنی سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پرنٹ میڈیا کو زیادہ تر براہ راست ہی اشتہارات دئیے جاتے ہیں تاہم الیکٹرونک میڈیا پر اشتہارات بنا کر دینے ہوتے ہیں اور محکمہ اطلاعات کے پاس اتنے وسائل نہیں اس لئے اشتہاری ایجنسی کے ذریعے یہ اشتہار دئیے جاتے ہیں اور اس کی بھی پالیسی واضھ ہے کہ ایجنسی اس کا 15 فیصد جبکہ میڈیا ہاؤس کو 85 فیصد ادائیگی ہوتی ہے۔

 

رکن اسمبلی غزالہ سیال کے سوال کے ضمنی سوال پر وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا کہ اخبارات کو ڈکلیریشن ہم نہیں بلکہ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز دیتے ہیں اور اخبارات کی اے بی سی سرٹیفائیڈ اور سینٹرل میڈیا لسٹ انہیں وفاقی حکومت دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخبارات کو ڈکلیریشن اور اس کو کینسل دونوں کا اختیارمتعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے پاس ہوتا ہے۔ ایک اور ضمنی سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈمی اخبارات کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری ہے اور اس وقت بھی مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو محکمہ اطلاعات کی جانب سے 74 اخبارات کے ڈکلیریشن کینسل کرنے کے لئے خطوط تحریر کئے ہیں جبکہ کراچی کے ڈسٹرکٹ ایسٹ کے ڈی سی نے محکمہ اطلاعات کی جانب سے فراہم کردہ لسٹ پر 16 اخبارات کے ڈکلیریشن بھی کینسل کردئیے ہیں۔ محکمہ اطلاعات میں بھرتیوں اور خالی اسامیوں کے تحریک انصاف کے رکن سعید احمد کے سوال اور اس کے ضمنی سوالات کے جواب میں وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ اس وقت محکمہ اطلاعات میں 102 جبکہ آرکائیوز میں 49 اسامیاں خالی ہیں اور ان پر بھرتیاں عدالت میں کیس کے زیر التواء ہونے کے باعث نہیں کی جاسکی تھی۔

تاہم اب سندھ حکومت کی جانب سے اس پر عدالتوں سے رجوع کئے جانے کے بعد یہ بھرتیاں شروع کی جارہی ہیں اور گریڈ 1 سے 4 تک براہ راست جبکہ 5 سے 15 تک آئی بی اے کراچی اور سکھر کے ذریعے ٹیسٹ لے کر کیا جائے گا اور اس سلسلے میں ایک واضح پالیسی بھی مرتب کرلی گئی ہے اور یہ پالیسی عدلیہ کے احکامات کے تحت مرتب کی گئی ہے۔ ایک اور ضمنی سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محکمہ اطلاعات میں چیف سیکرٹری کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کے فیصلے اور ان کی رہنمائی سے اب تک فوتگی کے 11 لوگوں کو ملازمت فراہم کی گئی ہے اور یہ تمام ملازمتیں ریگولر ہیں۔ محکمہ آرکائیوز میں تنخواہوں کی ادائیگی کے نہ ہونے کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ محکمہ آرکائیوز میں تمام مستقل ملازمین کو مکمل تنخواہوں کی باقاعدگی سے ادائیگی کی جارہی ہے البتہ خیرپور میں ایک پروجیکٹ میں متعین 8 ملازمین کی تنخواہوں کا کچھ معاملات تھے، جس کو بھی دور کردیا گیا ہے اور ان کی تنخواہوں کی بھی ادائیگی کی جارہی ہے۔