آئی جی سندھ کی خدمات وفاق کے سپرد کرنیکی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے، پولیس کے ایس ایس پیز کا کام پریس کانفرنس کرنا نہیں ہے، میڈیا کے سامنے ملزمان کو لانے سے کیس پر منفی اثرات پڑتے ہیں : بیرسٹر مرتضیٰ وہاب

کراچی : سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون ، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ آئی جی سندھ کی خدمات وفاق کے سپرد کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے پولیس کے ایس ایس پیز کا کام پریس کانفرنس کرنا نہیں ہے میڈیا کے سامنے ملزمان کو لانے سے کیس پر منفی اثرات پڑتے ہیں اگر کوئی اہم ملزم ہے تو اس پر اعلیٰ حکام یا حکومتی نمائندہ میڈیا کو آگاہ کرسکتا ہے وزیراعلیٰ نے سختی سے تردید کی ہے کہ انکی یوسف ٹھیلے والے سے کوئی ملاقات ہوئی ہے وہ بدھ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ سندھ پبلک سیفٹی کمیشن کے اجلاس کے بعد سندھ اسمبلی میڈیا کارنر پر میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی صدارت میں سندھ پبلک سیفٹی کمیشن کا اجلاس ہوا اجلاس نجی ارکان کی درخواست پر بلایا گیا تھا اور یہ اجلاس نبیل ہود بھائی کی ہلاکت سے متعلق تھا۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس کے آغاز پر شرکاء نے نبیل ہود بھائی کے اہل خانہ سے تعزیت کی ایڈیشنل آئی جی کراچی نے نبیل ہود بھائی کی ہلاکت کے حوالے سے اجلاس کو آگاہی دی ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ نبیل ہود بھائی کے واقعے میں ملوث تین اہلکاروں کو معطل کرکے انکے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ایڈیشنل آئی جی نے انصاف کی فراہمی کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے انہوں نے کہا کہ چھ ہزار اہلکاروں کو ریفرشیر کورس کرائے گئے ہیں یہ اُصولی طور پر طے ہوگیا ہے کہ ریفریشر کورس کے بغیر کسی پولیس اہلکار کو بڑا ہتھیار نہیں دیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ چھ ہزار پستول پولیس کو فراہم کردئیے گئے ہیں مزید ساڑھے چار ہزار پستول پولیس کو دی جارہی ہیں اجلاس میں پولیس کے کنڈکٹ کو بہتر کرنے کی ہدایت کی گئی وزیراعلیٰ نے اجلاس میں سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ پولیس کے سامنے شہری اپنی گاڑیاں روکنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ؟ اجلاس میں کہا گیا کہ شہریوں کو بھی پولیس کے روکنے پر رکنا چاہیے پولیس کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بھی زمہ داری ادا کرنا ہوگی شہری بھی پولیس کے ساتھ روئیے کو بہتر کریں اسی سے ایک بہتر معاشرہ قائم ہوسکتا ہے میڈیا بھی اپنا کردار ادا کرے۔بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پولیس اہلکاروں کی تربیت کو مزید بہتر کیا جائیگا۔