ایف پی سی سی آئی نے پرائیویٹ سیکٹر کریڈٹ میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا

کرا چی : فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامر س اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر داروخان اچکزئی نے پرا ئیویٹ سیکٹر کے کر یڈ ٹ میں رواں ما لیا تی سا ل کے پہلے چار ما ہ میں 4.1ارب روپے تک کمی پر شد ید تشو یش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نجی شعبے کے قر ضو ں کی طلب میں کمی کی وجہ High cost of borrowing اور سست معا شی سر گر میا ں ہیں جس کے نتیجے میں اگلے سال کی معا شی نمو بھی متا ثر ہو گی اور بیروزگاری میں اضا فہ ہو گا۔ صدر ایف پی سی سی آئی انجینئردارو خان اچکزئی نے زر ی پا لیسی پر تبصرہ کر تے ہو ئے کہاکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان مسلسل سخت ما نیٹر ی پا لیسی اپنا ئے ہو ئے ہے اور پا لیسی ریٹ کو 13.25فیصد پر رکھا ہو ا ہے جبکہ دو سری طرف حکومت نے نیشنل سیو نگ اسکیم پر منا فع کی شر ح کم کر دی جس سے Saving کا حجم متا ثر ہو گا۔

انہو ں نے کہاکہ بچتو ں پر منافع کی شر ح کم کر نے اور قر ضو ں پر سود زائد ہو نے سے بینکو ں کے منا فع میں اضا فہ ہو گا۔ انجینئر دارو خان اچکزئی نے کہاکہ بچتیں سر مایہ کار ی کے لیے ریڑ ھ کی ہڈ ی کی حیثیت رکھتی ہیں زیا دہ بچتو ں سے سر مایہ کاری بڑھتی ہے جس سے معیشت کی معا شی نمو بھی بڑھتی ہے بشر ط یہ کہ دو سرے معا شی اعداد وشما ر بھی سازگار ہو ں اور معیشت کا ما لیا تی نظام تر قی یا فتہ ہو۔انہو ں نے مر کزی بینک پر زور دیا کہ وہ پا لیسی ریٹ میں کمی کر ے کیو نکہ علا قا ئی ممالک کے مقا بلے میں پاکستان کا شر ح سو د سب سے زیادہ ہے اس وقت بھا رت میں شر ح سود 5.15 فیصد، چین میں 4.35فیصد،سر ی لنکا میں 8.0فیصد، ملا ئیشیا میں 3.0فیصد، تھا ئی لینڈ میں 1.25فیصد،اور انڈونیشیا میں شر ح سود 6.5فیصد ہے۔

صدر ایف پی سی سی آئی انجینئردارو خان اچکزئی نے کہاکہ مر کزی بینک کے زائد شر ح سو د کی وجہ افراط زر ہے جبکہ پاکستان میں افراط زر کی وجہ زائد لا گت ہے جو کہ سخت زر عی پا لیسی سے کنٹر ول نہیں کی جا سکتی۔ انہو ں نے مر کز ی بینک پر زور دیا کہ شر ح سود کو کم کر ے تا کہ نجی شعبہ زیا دہ سے زیا دہ سر مایہ کاری کر سکے جس سے نئی صنعتکاری میں مدد ملے گی اور معا شی نمو بھی بہتر ہو گی۔ صدر ایف پی سی سی آئی انجینئردارو خان اچکزئی نے کر نٹ اکا ؤنٹ خسارے کو ختم کر نے اور حکو مت کے مر کزی بینک سے قر ضے نہ لینے کے اقدا مات کو سر اہا جو کہ نئی سر ما یہ کاری کے لیے قر ضہ جا ت کی دستیا بی کی نشا ندہی کر تا ہے۔ انہو ں نے کہاکہ چو نکہ پاکستان میں کا روباری ماحول میں بہتر ی آئی ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں حقیقی شعبو ں اور SMEsمیں سر ما یہ کا ری بڑھائی جا ئے جو پاکستان میں معا شی ا ستحکام اور تر قی پیدا کر نے میں معا ون ثابت ہو گی۔