وزرا اپنا قبلہ درست کرلیں : تحریر… یاسمین طہٰ

سندھ حکومت کا سب اچھا ہے کہ راگ اس وقت ان کے گلے پڑگیا جب چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے وزراءکی ناقص کارکردگی پراظہارناراضگی کرتے ہوئے وارننگ دی کہ وزرا اپنا قبلہ درست کرلیں۔ تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں سندھ اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے چیمبرمیں 2 الگ اجلاس ہوئے، پہلے اجلاس میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ، فریال تالپور، اسپیکرآغا سراج درانی، مرتضیٰ وہاب اورناصر حسین شاہ شریک تھے، نصف گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات میں سندھ کابینہ ارکان کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔دوسرے اجلاس میں سندھ حکومت کے وزرا نے شرکت کی، بلاول بھٹو زرداری نے وزراءکی ناقص کارکردگی پر اظہار ناراضگی کیا، انہوں نے وزیر بلدیات، ٹرانسپورٹ اور محکمہ جیل خانہ جات کے محکموں کی کارکردگی کو ہدفِ تنقید بنایا۔ذرائع کے مطابق بلاول بھٹوزرداری نے بعض وزرا کا نام لے کر وارننگ کی کہ وہ اپنی کارکردگی پرتوجہ دیں ۔بصورت دیگر پارٹی کے پاس دیگر آپشنز ہیں اوراب زیادہ برداشت نہیں کرسکتا۔ نیب سکھر کی ٹیم نے کراچی میں کاروائی کرتے ہوئے سابق سابق ڈائریکٹر فوڈ انیس الرحمن کو کرپشن کیس میں حراست میں لے لیاہے ۔سابق ڈائریکٹر فوڈ انیس الرحمن سندھ ہائی کورٹ کراچی ضمانت کے لیے پیش ہوئے تھے۔

جہاں سے نیب سکھر کی ٹیم نے سماعت سے واپسی پر انہیں حراست میں لیا ، نیب زرائع کے مطابق سابق فوڈ ڈائریکٹر انیس الرحمن پر سکھر، خیرپور، گھوٹکی اور نوشہرو فیروز میں گندم کی بوریوں کی خرد برد کی مد میں قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا نے کا الزام ہے ۔میئر کراچی وسیم اختر کی ہدایت پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ انسداد تجاوزات کی شہر میں جاری تجاوزات کے خلاف سینئر ڈائریکٹر لینڈ اینٹی انکروچمنٹ بشیر صدیقی کی زیر نگرانی شہر کے مختلف اضلاع میں کارروائی جاری ہے ، انسداد تجاوزات کے عملے نے کارروائی کرتے ہوئے شہر کے بیشتر مقامات سے ٹھیلے، پتھارے، کیبن، کھانے پینے کے اسٹالز، اور دیگر سامان ضبط کرلیا ۔اس حوالے سے ٹھیلے لگانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ کاروائی محض پولیس بھتے میں اضافے کے لئے کی جارہی ہے اور اس طرح کی کاروائیاں پہلے بھی کی جاچکی ہیں اس کے بعد رقم میں اضافہ کرکے کچھ عرصہ بعد ہم اسی جگہ اپنا ٹھیلا لگاتے ہیں ۔حکومت متبادل جگہ فراہم کرنے کا وعدہ کرتی ہے لیکن اس پر کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ۔اس مرتبہ اس کاروائی کی زد میں اخبار فروش بھی آگئے ہیں جن کی جانب سے شدید ردعمل کیا جارہا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ منظور شدہ اسٹالز بھی مسمار کردئے گئے ہیں ۔تحریک انصاف حکومت سے اتحادیوں کی شکایات کا سلسلہ طول پکڑ رہا ہے ،اور متحدہ قومی موومینٹ کے بعد گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے بھی پی ٹی آئی سے ناراضگی کا اظہار کردیا ہے۔ گزشتہ دنوں متحدہ قومی موومینٹ نے شہر کراچی کو مسلسل نظر انداز کئے جا نے پر نا صرف بر ہمی کا اظہار کیا بلکہ اس بات کی دھمکی بھی دی تھی کہ اگر فوری طور پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی طرف سے اعلان کردہ کراچی پیکج کے 162ارب رو پے نہ دئے گئے اور میئر کراچی کوبا اختیار نہیں بنایا گیا تو وہ حکو مت سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہے ۔تحریک انصاف کی حکو مت کی ایک اور اتحادی جماعت گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس نے اندرون سندھ کو مسلسل نظر انداز کئے جا نے پر احتجاج کیا ہے اور حکو متی اتحاد سے علیحدگی کا الٹی میٹم دے دیا ہے ۔جہاں تک متحدہ پاکستان کا تعلق ہے تو یہ ہمیشہ سے ان کا طرز سیاست رہا ہے ،کراچی کو اپنے مقصدکے لئے استعمال کرنا ان کا وطیرہ ہے ۔بہت ممکن ہے کہ ایک اور وزارت دینے کا جو وعدہ ان سے کا گیا تھا وہ ملتے ہی وہ کراچی پیکیج کو بھول جائیں گے۔

 

ایم کیو ایم بحالی تنظیم کے سربراہ ایک بار پھر مخالف ہواو¿ں کی زد میں ہیں ۔حال ہی میں شہر قائد میں پولیس نے ایم کیو ایم لندن کے 96 افراد کے قاتل ٹارگٹ کلر یوسف عرف ٹھیلے والا کوگرفتار کرلیا جس نے دوران تفتیش وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور سابق رہنما ایم کیو ایم پاکستان فاروق ستار سے رابطے اور 96افراد کے قتل کا انکشاف کیا ہے۔گرفتار ملزم نے 1995 میں ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی اور پہلی مرتبہ 1996 میں رینجرز کے ہاتھوں گرفتار ہوا تاہم ایک سال بعد رہا ہو گیا، ملزم کے ہاتھوں قتل ہونے والوں میں فورسز کے لوگ بھی شامل ہیں۔یوسف عرف ٹھیلے والا نے دوران تفتیش سابق رہنما ایم کیو ایم پاکستان فاروق ستار سے رابطہ کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ فاروق ستار سے نائن زیرو میں ملاقات ہوتی تھی، سیکٹر انچارج خالد صدیقی اور ندیم ماربل نے فاروق ستار سے ملاقات کروائی، 90 میں رہائش کا بندوبست فاروق ستار کرواتے تھے۔یوسف عرف ٹھیلے والا نے بتایا کہ قیادت کے کہنے پر قتل کی واردتیں کرتا تھا، ہمیں رہنماﺅں سے ہدایات ملتی تھیں تو وارداتیں کرتے تھے جب کہ ٹھیلے پر رکھ کر لاشیں ٹھکانے لگاتا تھا۔علاو ہ ازیں متحدہ قومی موومنٹ تنظیم بحالی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے ایم کیوایم لندن کے گرفتار ٹارگٹ کلر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں پارٹی کے تنظیمی سیٹ اپ کا کبھی انچارج نہیں رہا۔اور نہ ہی نائن زیرو کا کیئرٹیکر رہا ہوں ، یہ ذمہ داری عامرخان، کنور نوید ،انیس قائمخانی کے پاس رہی۔متحدہ قومی موومنٹ تنظیم بحالی کے سربراہ نے کہا کہ میں نے ہمیشہ سیاسی سیٹ اپ کی ذمہ داری نبھائی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملزم سے یہ کون کہلوا رہا ہے سامنے آجائے گا۔ اس حوالے سے مراد علی شاہ کا بھی یہی کہنا ہے کہ ان کے خلاف سازش کی گئی ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس پریس کانفرنس کے مقاصد سے کس کو فائدہ ہوگا۔یہ بات وزیر اعلیٰ یقیناً سمجھ سکتے ہوں گے ۔نواز شریف کی لندن روانگی کے ساتھ ہی،ایسا لگتا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی اپنے لیڈر کی بیماری کو سیاست کا حصہ بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور کراچی ڈویڑن کے زیر اہتمام سابق صدر آصف علی زرداری کو ذاتی معالج سے علاج کی سہولت نہ دینے، اورسابق صدراوران کی ہمشیرہ فریال تالپور کے ساتھ جیل میں ناروا سلوک کیخلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، صوبائی وزیر سعید غنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی سے سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے، ملکی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایک شہر کا کیس دوسری جگہ چلایا جائے۔ آصف علی زرداری بیمار ہیں، ریلیف نہیں ان کا حق مانگ رہے ہیں۔ صوبائی وزیر غلام مرتضیٰ بلوچ نے کہا کہ آصف علی زرداری کے علاج معالجے کے لئے میڈیکل بورڈ میں ذاتی ڈاکٹرز بھی شامل کئے جائیں۔ سندھ کے کیس کا ٹرائل سندھ منتقل کیا جائےے ۔ممکن ہے زرداری کے ڈاکٹر بھی یہ بیان دے دیں کہ سابق صدر کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں اور عنقریب زرداری صاحب بھی علاج کے لئے بیرون ملک چلے جائیں اور اس تاثر کو مذید تقویت ملے کہ پاکستان پر برسوں حکومت کرنے والی دونوں جماعتیں ملک میں کوئی ایسا اسپتال نہ بنا سکی جہاں حکمرانوں کاعلاج ہوسکے۔