چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کیس کے دوران ریمارکس دیئے کہ ماضی میں پانچ ،چھ جرنیل خود کو دس دس سال ایکسٹینشن دیتے رہے، پہلےیہ سوال اٹھایا نہیں گیا،اب اٹھا ہےتو اسکےتمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع یا دوبارہ تقرر کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان وفاق کی جانب سے اور فروغ نسیم آرمی چیف کے وکیل کے طور پر سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ہیں، فروغ نسیم نے عدالت میں وکالت نامہ جمع کروا دیا ہے۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کل ہم نے جو نکات اٹھائے آپ نے انہیں تسلیم کیا، اسی لیے آپ نے انہیں ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہم نے ان غلطیوں کو تسلیم نہیں کیا۔
لمحہ با لمحہقومی خبریںبین الاقوامی خبریںتجارتی خبریںکھیلوں کی خبریںانٹرٹینمنٹصحتدلچسپ و عجیبخاص رپورٹ
لمحہ با لمحہقومی خبریںبین الاقوامی خبریںتجارتی خبریںکھیلوں کی خبریںانٹرٹینمنٹصحتدلچسپ و عجیبخاص رپورٹ

Media player logo

چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کیس کے دوران ریمارکس دیئے کہ ماضی میں پانچ ،چھ جرنیل خود کو دس دس سال ایکسٹینشن دیتے رہے، پہلےیہ سوال اٹھایا نہیں گیا،اب اٹھا ہےتو اسکےتمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع یا دوبارہ تقرر کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان وفاق کی جانب سے اور فروغ نسیم آرمی چیف کے وکیل کے طور پر سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ہیں، فروغ نسیم نے عدالت میں وکالت نامہ جمع کروا دیا ہے۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کل ہم نے جو نکات اٹھائے آپ نے انہیں تسلیم کیا، اسی لیے آپ نے انہیں ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہم نے ان غلطیوں کو تسلیم نہیں کیا۔

آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن معطل

چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیا کو سمجھ نہیں آئی، اور کہا کہ ازخود نوٹس نہیں لیا ہے ، جبکہ ہم کیس ریاض راہی کی درخواست پر ہی سن رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کابینہ نے کل کیا منظوری دی ہے ہمیں دکھائیں؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کل بھی میں نے بتایا تھا کہ توسیع کے نوٹی فکیشن پر متعدد وزراء کے جواب کا انتظار تھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ اگر جواب نہ آئے تو کیا اسے ہاں سمجھا جاتا ہے؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی ہاں قواعد کے مطابق ایسا ہی ہےماضی میں 6 سے 7 جنرل توسیع لیتے رہے کسی نے پوچھا تک نہیں، اب معاملہ ہمارے پاس آیا ہے تو طے کر لیتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نارمل ریٹائرمنٹ سے متعلق آرمی کے قواعد پڑھیں، آرمی ایکٹ کے رول 262 سی کو پڑھیں، جنرل کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال دی گئی ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ 262 میں جنرل کی ریٹائرمنٹ کا ذکر نہیں۔

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جواب دیا کہ آرٹیکل 243/3 کے تحت کمیشن ملتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ قمر جاوید باجوہ کی تعیناتی کا پہلا نوٹی فکیشن کیا کہتا ہے؟

اٹارنی جنرل نے اس پر کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے اچھا نکتہ اٹھایا ہے، یہ معاملہ دوبارہ تعیناتی کا ہے، 1948ء سے لے کر ابھی تک تقرریاں ایسے ہی ہوئیں ہیں، جسٹس کیانی کی تقرری بھی ایسے ہی ہوئی تھی۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے تصحیح کی کہ جسٹس کیانی نہیں جنرل کیانی کی تقرری۔

اٹارنی جنرل نے جوا ب دیا کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت کا کوئی تعین نہیں ہے، آرٹیکل 243 کی کوئی ایڈوائس نہیں ہوتی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے تو 2 مرتبہ کابینہ کو ایڈوائس بھیجی ہے۔

جسٹس منصور نے کہا کہ معاملہ توسیع اور نئی تعیناتی کا ہے، اسے کیسے قانونی طور پر ثابت کریں گے؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ تعیناتی کی تعریف میں دوبارہ تعیناتی بھی آتی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ رولز میں ریٹائرمنٹ اور ڈسچارج کا ذکر ہے، جب مدت مکمل ہو جائے پھر نارمل ریٹائرمنٹ ہوتی ہے، 253 کے ایک چیپٹر میں واضح ہے کہ گھر کیسے جائیں گے یا فارغ کیسے کریں گے۔

چیف جسٹس کے ریمارکس کے دوران اٹارنی جنرل اچانک درمیان میں بول پڑے جس پر چیف جسٹس نے ان سے سوال کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ جلدی میں تو نہیں؟

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جواب دیا کہ نہیں میں رات تک یہاں ہوں، آرٹیکل 255 میں ایک ایسا لفظ ہے جو اس معاملے کا حل ہے، اس آرٹیکل میں حالات کے تحت ریٹائرمنٹ نہ دی جا سکے تو 2 ماہ کی توسیع دی جا سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایک بندہ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکا تو اس کی ریٹائرمنٹ کو معطل کیا جا سکتا ہے، اگر جنگ ہو رہی ہو تو پھر آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں عارضی تاخیر کی جا سکتی ہے