ایل این جی کیس میں پی ایس اوکے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شیخ عمران الحق کی ضمانت منظور

 اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایل این جی ٹرمینل کیس میں گرفتار پاکستان اسٹیٹ آئل کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شیخ عمران الحق کی ضمانت منظور کرلی ہے. شیخ عمران الحق، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے ہمراہ گزشتہ 4 ماہ سے زیر حراست تھے اور قومی احتساب بیورو کی جانب سے ان خلاف ایل این جی ٹرمینل کیس میں ریفرنس دائر نہیں کیا گیا. اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض عمران الحق کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی‘دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ نیب نے سابق ایم ڈی پی ایس او کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق کوئی دستاویز پیش نہیں کیں. جب نیب کے تفتیشی افسر نے درخواست ضمانت کی مخالف کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور شیخ عمران الحق کے خلاف ریفرنس منظور کیا جاچکا ہے جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ آپ ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنا کیس ثابت کرکے انہیں جیل بھیج سکتے ہیں.
بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سابق ایم ڈی پی ایس کو 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی‘سماعت کے دوران عمران الحق کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے ان کے موکل کے خلاف 3 الزامات عائد کیے تھے کہ معاہدے میں گنجائش کا معاوضہ شامل ہے، یہ معاوضہ ادا نہیں ہونا چاہیے اور معاہدے میں ری گیسیفکیشن کی رقم بہت زیادہ تھی.
وکیل نے کہا تھا کہ قومی احتساب بیورو نے بغیر کسی مطالعے کے یہ الزامات لگائے، شیخ عمران الحق ایم/ایس اینگرو کے ملازم تھے جہاں وہ چیف ایگزیکٹو افسر کے فرائض انجام دے رہے تھے‘انہوں نے مزید کہا کہ وہ بولی اور ٹھیکا دینے کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کا اختیار نہیں رکھتے تھے، انہوں نے اینگرو کی جانب سے صرف بولی لگائی تھی. واضح رہے کہ شاہد خاقان عباسی کو 18 جولائی کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کیس میں گرفتار کیا تھا، اس کے علاوہ 7 اگست کو ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد ہونے پر مفتاح اسماعیل کو عدالت سے گرفتار کیا گیا تھا.
خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماوں پر الزام ہے کہ انہوں نے اس وقت قوائد کے خلاف ایل این جی ٹرمینل کے لیے 15 سال کا ٹھیکہ دیا، یہ ٹھیکہ اس وقت دیا گیا تھا جب سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں شاہد خاقان عباسی وزیر پیٹرولیم تھے‘نیب کی جانب سے اس کیس کو 2016 میں بند کردیا گیا تھا لیکن بعد ازاں 2018 میں اسے دوبارہ کھولا گیا. یاد رہے کہ نیب انکوائری میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) اور انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم کی انتظامیہ نے غیر شفاف طریقے سے ایم/ایس اینگرو کو کراچی پورٹ پر ایل این جی ٹرمینل کا کامیاب بولی دہندہ قرار دیا تھا.

اپنا تبصرہ بھیجیں