ایکسٹینشن صحیح ہے یا غلط اس کو بعد میں چینلج کیا جا سکتا ہے مگر یہ وزیراعظم کو اختیار ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینا وزیراعظم کا حق ہے۔تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی رہنما اعتزاز احسن کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آرمی چیف کی ایکسٹینشن پارلیمنٹ کی خود مختاری ہے۔آرٹیکل 245 وزیراعظم کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا حق دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایکسٹینشن صحیح ہے یا غلط اس کو بعد میں چینلج کیا جا سکتا ہے مگر یہ وزیراعظم کو اختیار ہے اور نہ ہی اس بات کو چینلج کیا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم کو ایکسٹیشنشن کیوں دی۔اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ ایکسٹینشن کا اختیار نہ خود آرمی کے پاس ہے نہ چیف جسٹس کے پاس ہے۔میں نے آرٹیکل 245 میں گذشتہ روز کی گئی ترمیم نہیں دیکھ
آرٹیکل 243 واضح کہتا ہے کہ صدر صرف ایکسٹینشن دے سکتا ہےجس کی تجاویز وزیراعظم دے۔
انہوں نے کہا ہے کہ عدالت کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں۔کابینہ کے کتنے ارکان نے حمایت کی یہ بھی معنی نہیں رکھتا۔جب کہ دوسری جانب  پاکستان پیپلز پارٹی نے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی مخالفت کردی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے نوٹیفکیشن کی معطلی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع نہیں ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ گذشتہ روزوفاقی کابینہ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے نئی سمری کی منظوری دی تھی، وزیراعظم کی زیر صدارت بلائے گئے ہنگامی کابینہ اجلاس میں تمام اراکین نے جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے اتفاق کیا، سمری منظوری کیلئے صدر مملکت عارف علوی کو بھجوا دی گئی۔۔ ذرائع نے بتایا کہ کابینہ ارکان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا اختیارچیف ایگزیکٹوکے پاس ہے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ کشمیر اور سکیورٹی صورتحال کو دیکھ کرکیا۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کابینہ کا متفقہ فیصلہ ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں