سندھ کابینہ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی خصوصی عدالتیں قائم کرنے اور صوبے میں انرجی ڈپارٹمنٹ کو زمینوں کی الاٹمنٹ کی منظوری دے دی

کراچی :  وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے میں انرجی ڈپارٹمنٹ کو زمینوں کی الاٹمنٹ کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد صوبے میں متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ سندھ کابینہ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی خصوصی عدالتیں قائم کرنے کی منظوری دے دی،محکمہ لوکل گورنمنٹ جہاں عدالتیں بنانا چاہے ان کو اجازت ہو گی۔ سندھ بینک کے ذریعے سندھ حکومت نے کسی کو نوازا ہے یہ بات اور تاثر سراسر غلط ہے کیونکہ کوئی بھی بینک کسی کو اپنی مرضی سے کوئی قرضہ فراہم نہیں کرتی بلکہ اس کے لئے اسٹیٹ بینک کے تمام قوانین لوگو ہوتے ہیں اور ان تمام قوانین کو مکمل فالو کیا جاتا ہے۔یہ بات انہوں نے منگل کے روز سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد سندھ اسمبلی میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔


اس موقع پر صوبائی وزیر متبادل توانائی امتیاز احمد شیخ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔سعید غنی نے کہا کہ کابینہ کو سیکریٹری خزانہ حسن نقوی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ سندھ کابینہ نے سندھ بینک کو 14.7 بلین روپے دینے کی منظوری دی تھی سندھ حکومت 9.7 بلین روپے سندھ بینک میں جمع کرا چکی ہے جب کہ 5 بلین روپے ابھی دینے ہیں جس میں 2 بلین روپے کی رقم سندھ حکومت براہ راست دے گی جب کہ 3 بلین روپے سندھ لیزنگ کے مرج ہونے سے مل جائیں گے۔ بینک14.5 بلین روپے سے 18 بلین روپے تک پہنچ گیا ہے 11.90 فیصد کیپٹل ایڈکیوسی شرح (سی اے آر) بینک کی ضرورت تھی جو اب 16.65 فیصد ہوگیا ہے۔ سندھ مائیکرو فنانس بینک 2.2 نے بلین روپے لون ایک لاکھ غریب خواتین کو چھوٹے چھوٹے قرضے دیئے ہیں سندھ مائیکرو فنانس بینک منافع میں چل رہا ہے سندھ کابینہ نے مائیکرو فناننس کو سندھ بینک کے پاس رہنے اور سندھ بینک اپنے ملازمین کو قرضہ دینے کی منظوری دے دی۔ سعید غنی نے کہا کہ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ بینک غریب خواتین کو قرضے دیتے ہیں جس کو کوئی قرض نہیں دیتا،سندھ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ سندھ حکومت کے ادارے، زیلی ادارے اپنے فنڈز صرف سندھ بینک میں رکھیں گے سندھ کابینہ نے 2 بلین کا فنڈ سندھ بینک کو دینے کی منظوری بھی دے دی ہے سعید غنی نے مزید بتایا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھاٹی نے خصوصی عدالتیں بنانے کی درخواست کی ہے،خصوصی عدالتوں میں بلڈنگ کنٹرول سے متعلق مقدمات چلیں گے، جس پر کابینہ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول کی عدالتیں قائم کرنے کی منظوری دے دی اب محکمہ بلدیات جہاں بھی عدالتیں بنانا چاہے انکو اجازت دے دی گئی۔




اجلاس میں سر کاؤس جی جہانگیر انسٹیٹیوٹ آف سائیکیاٹری بیویواورل سائنس ایکٹ 2019 کی منظوری بھی دی گئی ہے انسٹیٹیوٹ قائم ہونے سے مینٹل صحت کے حوالے سے ڈگری ایوارڈنگ ادارہ قائم ہوجائے گا، ادارے کے بورڈ کا چیئرمین سیکریٹری صحت اور وائس چیئرمین سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کا چیئرمین ہوگاکابینہ نے مسودہ بل منظور کرلیا اور اسمبلی کو بھیجنے کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن ایمپلائیز (ریکٹروٹمنٹ) رولز 2014 کے قوانین میں ترمیم کی اصولی منظوری بھی دی گئی ہے قوانین میں ترمیم کے بعد تعلیم کے حوالے سے سول سرونٹس بھی تعینات ہوسکتا ہے۔ اجلاس میں یونیورسٹی اینڈ بورڈز کو بھرتیوں کے گریڈز اور پوزیشنز کو بھی واضح کرکے آئندہ کابینہ کے اجلاس میں لانے کی ہدایت دی گئی۔جب کہ سندھ کابینہ نے تمام جامعات سے کہا ہے کہ وہ ایک جانب فنڈز کی کمی اور اس کے باعث تعلیمی نظام جاری نہ رکھے جانے کا کہتی ہیں تو دوسری جانب وہ بھرتیاں بھی کررہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں وہ بھرتیوں کی بجائے اپنی جامعات کو مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز رکھیں۔ ایک سوال پر سعید غنی نے کہا کہ جامعات کی سینیٹ اور سینڈیکٹ کو ضرور بھرتیوں کا اختیار ہے لیکن جو صورتحال جامعات سندھ حکومت کے سامنے لارہی ہیں اور سندھ حکومت ان کو فنڈز جاری کرنے پر مجبور ہو تو ایسی صورتحال میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ بھرتیاں نہ کریں۔ اجلاس میں سندھ کابینہ نے ڈائریکٹوریٹ آف سندھ آرکائیوز،انفارمیشن ڈپارٹمنٹ سے محکمہ ثقافت کو منتقل کرنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں ایف بی آر اور بی او آر کے ٹیبل ویری ایشن پر بات چیت کی گئی اورکابینہ کو بتایا گیا کہ کراچی، حیدرآباد اور سکھر کی اربن اموایبل پراپرٹی کی ویلو ایشن ٹیبل اور سندھ بورڈ آف ریونیو کے ٹیبل میں فرق ہے کچھ میں سندھ حکومت کا ٹیبل ایف بی آر سے کم ہے اور کچھ میں زیادہ اس لیے اس ٹیبل کو یکساں کرنے کی تجویز ہے، جس پرکابینہ نے وزیر ریونیو، وزیر انرجی اور وزیربلدیات کے تحت سب کمیٹی بنادی جو کہ اس مسئلے سے متعلق اپنی رپورٹ کابینہ کے آیندہ اجلاس میں پیش کرے گی۔


سعید غنی نے بتایا کہ اجلاس میں سولر اور ونڈ پاور کے لیے زمین الاٹ کرنے کے حوالے سے غور کیا گیا یہ زمین ٹھٹہ، دادو اور جامشورو میں 10 مختلف کمپنیز کو الاٹ کی جائیں گی زمین نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کو بھی الاٹ کی جائے گی جو کہ 30 سالہ لیز پر دی جائے گی بورڈ آف ریونیو نے زمین کی سالانہ لیز کی رقم بھی تجویز کی ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ شرائط پر پورا اترنے والی کمپنیوں کو زمین الاٹ کی جائے گی۔کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم سمیت دیگر ایجنڈے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ سندھ بینک کے ذریعے سندھ حکومت نے کسی کو نوازا ہے یہ بات اور تاثر سراسر غلط ہے کیونکہ کوئی بھی بینک کسی کو اپنی مرضی سے کوئی قرضہ فراہم نہیں کرتی بلکہ اس کے لئے اسٹیٹ بینک کے تمام قوانین لوگو ہوتے ہیں اور ان تمام قوانین کو مکمل فالو کیا جاتا ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ جن جن اداروں میں سندھ بینک نے سرمایہ کاری کی اور انہیں قرضے دئیے ان کی اقساط مکمل طور پر آتی رہی لیکن جب سے نیب کی جانب سے کارروائیوں کا آغاز ہوا ان کی اقساط آنا بند ہوئی اور یہ صرف سندھ بینک نہیں بلکہ اس میں چار بینک شامل ہیں اور ان تمام بینکوں کی جانب سے 41 ارب روپے ان سے وصول کرنے ہیں جب کہ اس کے برعکس ان بینکوں کے پاس 55 ارب روپے کی گارنٹی موجود ہے، اس لئے یہ کہنا کہ یہ سرمایہ ڈوب گیا ہے، یہ تاثر بھی غلط ہے۔