وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں 10 نجی فرمز اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی(این ٹی ڈی سی) کو سپریم کورٹ آف پاکستان کی رہنمائی کے تحت ری نیوایبل پاور پلانٹس کی تنصیب اور نیشنل گرڈ اسٹیشن کے قیام کے لیے 30 سالہ لیز پر5801ایکڑ زمین الاٹ کرنے کی منظوری دی۔5801 ایکڑ زمین 10 پاور کمپنیوں بشمول این ٹی ڈی سی کو الاٹ کی جائے گی جس سے صوبائی خزانے کو 9.13بلین روپے حاصل ہوں گے۔ کابینہ نے ری نیو ایبل پاور پلانٹس کے پلانٹرس کی بھی اجازت دی کہ وہ دیگر پاور پلانٹس بھی نصب کرسکتے ہیں اگر اُن کی ضرورت ہوتو مگر حکومتی ضروریات کو پورا کرکے اور لیز منی کی کلیئرنس کے بعد ۔صوبائی وزیر انرجی امتیاز شیخ نے کابینہ کو بتایا کہ ونڈ اور سولر کی 10 ری نیوایبل پاور کمپنیوں اور این ٹی ڈی سی نے 3 اضلاع ٹھٹھہ،دادو اورجام شورو میں ونڈ اور سولر پروجیکٹس لگانے کے لیے 5801 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ کے لیے درخواست دی تھی۔متعلقہ ڈپٹی کمشنر ز نے زمین کی دستیابی کی رپورٹ دی اور 3 ہزار روپے ، 5 ہزار روپے اور 8 ہزار روپے پرایکڑ سالانہ کے حساب سے مختلف کیٹیگریز کی زمین کی سالانہ لیز منی بھی تجویز کی۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قاضی شاہد پرویز نے کابینہ کو بتایا کہ زمین صرف سپریم کورٹ آف پاکستان کی گائیڈنس کے مطابق ہی الاٹ کی جاسکتی ہے ۔ کابینہ نے زمین کی الاٹمنٹ کی منظوری دی اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری ، تمام وزراء، مشیر و متعلقہ افسران نے شرکت کی۔کابینہ کے آج کے اجلاس کے ایجنڈے میں موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی اسپیشل عدالتوں کا قیام، سر کاؤجی جہانگیر انسٹیٹیوٹ آف سائیکائیٹری ایکٹ کے مسودے کی منظوری، ہائر ایجوکیشن کمیشنز ایمپلائیز کی ریکیورٹمنٹ قانون میں ترمیم، سندھ آرکائیو ڈائریکٹوریٹ کو محکمہ اطلاعات سے منتقل کرکے کلچر ڈپارٹمنٹ کو دینا، سندھ لینگویج اتھارٹی کی منظوری، ایف بی آر اور بی او آر کے سکھر اور حیدرآباد کے ٹیبل میں فرق پر غور، ونڈ/سولر پاور منصوبوں کی زمین کی الاٹمنٹ، یو این جے یو ایس ٹیز کو گریڈ 17 دینا جو 21 سال سروس مکمل کرچکے ہیں۔ کایبنہ کی مختلف سب کمیٹی کی رپورٹس پر غورکیاگیا ۔
سندھ کابینہ نے سندھ بینک کو اپنے ملازمین کو قرضے دینے کی اجازت دی مگر اس کی منظوری اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی اجازت/منظوری سے مشروط ہوگی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ کابینہ نے سندھ بینک کو 14.7 بلین روپے دینے کی منظوری دی تھی۔سندھ حکومت 9.7 بلین روپے سندھ بینک میں جمع کرا چکی ہے۔5 بلین روپے ابھی دینے ہیں جس میں 3 بلین روپے نقد رقم سندھ حکومت براہ راست دے گی جبکہ 2 بلین روپے سندھ لیزنگ کے انضمام کے بعد مل جائیں گے۔صدر سندھ بینک عمران صمد نے اجلاس کو بتایا کہ سندھ بینک کےاکائونٹس 14.5 بلین روپے سے بڑھ کر 18 بلین روپے تک پہنچ گئے ہیں۔11.90 فیصد کیپٹل ایڈیکیوسی شرح (سی اے آر) بینک کی ضرورت تھی جو اب 16.65 فیصد ہوگیا ہے۔ سندھ بینک نے 9.30 ملین روپے کے بند قرضے وصول کیے ہیں لہٰذا کابینہ نے بینک کو اپنے ملازمین اور دیگر کو ایڈوانس بینک قرضے دینے کی اجازت دی۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ سندھ مائیکرو فنانس بینک نے 2.2 بلین روپے سے ایک لاکھ غریب خواتین کو چھوٹے چھوٹے قرضے دیئے ہیں۔سندھ مائیکرو فناننس بینک پرافٹ میں چل رہی ہے۔سندھ بینک نے 2 بلین کا فنڈ سندھ بینک کو دینے کی منظوری دے دی۔مائیکرو فناننس کو سندھ بینک کے پاس رہنے کی بھی منظوری دے دی گئی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ غریب خواتین کو قرضے دیتے ہیں جس کو کوئی قرض نہیں دیتا۔سندھ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ سندھ حکومت کے ادارے اور اس کے ذیلی ادارے اپنے فنڈز صرف سندھ بینک میں رکھیں گے۔ سندھ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ سندھ حکومت کسی بھی ادارے کو گرانٹ دے گی تو اسے سندھ بینک میں رکھاجائے گا ۔
سندھ کابینہ میں دوسرے ایجنڈے پر بات چیت کرتے ہوئے کہاگیا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھاٹی نے خصوصی عدالتیں بنانے کی درخواست کی ہے۔خصوصی عدالتوں میں بلڈنگ کنٹرول سے متعلق مقدمات چلیں گی ۔وزیر بلدیات سید ناصر شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ عمارتوں کی تعمیرات کے حوالے سے کافی مقدمہ بازی ہوتی ہے جس پر کابینہ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول کی عدالتیں قائم کرنے کی منظوری دے دی۔محکمہ بلدیات جہاں بھی عدالتیں بنانا چاہے انکو اجازت دے دی گئی ۔کابینہ نے سر کاؤ جی جہانگیر انسٹیٹیوٹ آف سائیکائیٹری بیہیورل سائنس ایکٹ 2019 کی منظوری دے دی۔ اسپتال 1865 میں کھڈو میں قائم ہوئی تھی۔ وزیر صحت ڈاکٹر عذرہ پیچوہو نے اجلاس کوبتایا کہ انسٹیٹیوٹ قائم ہونے سے ذہنی صحت کے حوالے سے ڈگری ایوارڈنگ ادارہ قائم ہوجائے گا۔اس ادارے کے بورڈ کا چیئرمین سیکریٹری صحت اور چیئرمین سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی اس کے وائس چیئرمین ہوں گے۔کابینہ نے مسودے کا بل منظور کرکے اسے اسمبلی میں بھیجنے کی منظوری دے دی ۔سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن ایمپلائیز (ریکٹروٹمنٹ) رولز 2014 کے قوانین میں اصولی طور پر ترمیم کی منظوری دے دی۔قوانین میں ترمیم کے بعد تعلیم کے حوالے سے سول سرونٹس بھی تعینات ہوسکتا ہے۔یونیورسٹی اینڈ بورڈز کو بھرتیوں کے گریڈز اور پوزیشنز کو بھی واضح کرکے آئندہ کابینہ میں لانے کی ہدایت کردی گئی۔ سندھ کابینہ نے تمام جامعات کو مزید بھرتیوں سے روک دیا گیا۔ سندھ کابینہ نے جامعات کی انتظامیہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جامعات کی انتظامیہ کہتی ہے کہ انکے پاس فنڈز نہیں تو کس طرح وہ بھرتیاں کررہے ہیں؟ جامعات کہتی ہیں کہ انکے پاس تنخواہوں کے لیے بھی فنڈز نہیں اور پھر بھی بھرتیاں کیے جارہے ہیں۔کابینہ نے سیکریٹری (یونیورسٹیز اینڈ بورڈز) کے ذریعےہدایات جاری کیں کہ یونیورسٹیاں جب تک مالی صورتحال مستحکم نہ ہوجائے بھرتیاں مکمل طورپر روک دیں ، ضروری بھرتیاں حکومت کی اجازت سے کی جاسکتی ہیں ۔ سندھ کابینہ کو بتایا گیا کہ ڈائریکیٹوریٹ آف آرکائیز اور محکمہ ثقافت 1976 میں محکمہ تعلیم کا حصہ تھیں بعد میں محکمہ ثقافت کو ایک علیحدہ محکمہ قرار دیاگیا اور ڈائریکٹوریٹ آف آرکائیز محکمہ تعلیم کا حصہ رہا اور اس کے بعد اسے محکمہ اطلاعات کو منتقل کردیاگیا۔ ڈائریکٹوریٹ آف آرکائیز کا کام پرانے اسکرپٹس ، کتابیں اور اس طرح کے دیگر ریکارڈ کو محفوظ کرنا ہے جوکہ محکمہ ثقافت کے کام کی طرح ہے لہٰذا کابینہ نے ڈائریکٹوریٹ آف آرکائیز کو محکمہ ثقافت کو منتقل کرنے کی منظور دی۔ کابینہ نے سندھی لینگویج اتھارٹی کے قواعد کی منظوری دی جس کے تحت کیڈر افسران اورنجی شعبے سے ماہر تعلیم کے لیے بھرتیاں اوپن کی گئی ہیں ۔کابینہ نے متعلقہ محکمے کو ہدایت کی کہ وہ گریڈ کے حساب سے پوزیشن ، پے اسکیل اور اپ ورڈ موبیلیٹی یا اسپیشل گریڈ پیکیج تیار کریں اور اس کے بعد انتظامی منظوری حاصل کرے لہٰذا کابینہ نے اس کی اصولی طورپر منظوری دے دی۔
کابینہ میں ایف بی آر اور بی او آر کے ٹیبل ویری ایشن کے حوالے سے بتایا گیا کہ کراچی، حیدرآباد اور سکھر کی اربن اموایبل پراپرٹی کی ویلو ایشن ٹیبل اور سندھ بورڈ آف ریونیو کی ٹیبل میں فرق ہے۔کچھ میں سندھ حکومت کا ٹیبل ایف بی آر سے کم ہے اور کچھ میں زیادہ،اس ٹیبل کو یکساں کرنے کی تجویز پیش کی گئی ۔کابینہ نے وزیر ریونیو ، وزیر انرجی اور وزیربلدیات کے تحت سب کمیٹی قائم کردی۔ یہ کابینہ ٹیبلز میں ایک جیسے ریٹس کرکے اس حوالے سے اپنی رپورٹ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی۔ سندھ کابینہ میں سولر اور ونڈ پاور کے لیے زمین الاٹ کرنے کے حوالے سے کہا گیا کہ یہ زمین ٹھٹھہ، دادو اور جامشورو میں الاٹ ہونی ہیں۔یہ زمین 10 مختلف کمپنیز کو الاٹ ہونی ہے۔زمین نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کو بھی الاٹ ہونی ہے۔یہ زمین 30 سالہ لیز پر دی جائے گی۔بورڈ آف روینیو نے زمین کی سالانہ لیز کی رقم بھی تجویز کردی۔سندھ کابینہ میں فیصلہ کیا گیا کہ جو کمپنیاں شرائط پر پورا اترے گیں اُن کو زمین الاٹ کی جائے گی۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ وزیراعلیٰ سندھ