شبنم کی پاکستان فلم انڈسٹری میں واپسی کی خواہش

ماضی کی عظیم، نامور اداکارہ شبنم کا کہنا ہے کہ اُن کا پاکستان اور پاکستانی فلم انڈسٹری سے بہت گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے پاکستان فلم انڈسٹری میں ایک مرتبہ پھر سے کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جہاں انہوں نے دو دہائیوں تک مسلسل کام کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکارہ شبنم نےاپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ اُن کے زمانے میں ہر فلم ایک میسج (پیغام) پر مبنی ہوتی تھی اور جب مختلف سماجی امور پر عوام کی رائے کو مثبت انداز میں تشکیل دینے کی بات آتی ہے تو ’سنیما‘ کو ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

اداکارہ نے بتایا کہ ماضی قریب میں انہیں دو کردار کی پیش کش کی گئی تھی، ایک نجی ٹی وی پروڈکشن میں ’موہنی مینشن کی سنڈریلائیں‘ اور دوسرا فلم ’آئینہ 2‘ کے لیے انہیں پیشکش کی گئی تھی۔ ’آئینہ 2‘ 1977 میں ریلیز ہونے والی شبنم کی فلم ’آئینہ‘ کا سیکوئل تھی۔ بعدازاں یہ دونوں پروجیکٹس ختم کردیے گئے
پاکستانی فلم ’پنجاب نہیں جاؤنگی‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے اداکارہ نے کہا کہ یہ ایک بہترین فلم تھی ، لیکن یہ فلم سے زیادہ ڈرامہ لگ رہی تھی۔

لاہور میں فلم اسٹوڈیوز کی موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اپنے ایک پاکستان کے دورے کے دوران میں نے لاہور کے ’باری اسٹوڈیو‘ کا دورہ کیا تھا اور مجھے یہ دیکھ کر نہایت افسوس ہوا تھا کہ یہاں زیادہ تر سینما بربادی کی طرف جارہے ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ اکثر پاکستان کا دورہ کرتی رہتی ہیں، یہاں اُن کے کئی دوست موجود ہیں جن سے وہ ملاقات بھی کرتی ہیں، ان کے دوستوں کی فہرست میں اداکار ندیم بیگ بھی شامل ہیں۔

آخر میں اداکارہ شبنم نےبتایا کہ فلم ’گمنام، پہچان، آہٹ، دوریاں، دل لگی اور احساس‘ اُن کی چند پسندیدہ فلمیں ہیں