لوگوں کو بوجھ لگتا ہوں، عزت بھی نہیں ملتی، کرس گیل پھٹ پڑے

ویسٹ انڈین کرکٹر اور جارح مزاج بلے باز کرس گیل نے انکشاف کیا ہے کہ اگر ان کی پرفارمنس اچھی نہ ہو تو ان کی ٹیم انہیں بوجھ سمجتی ہے اور ٹیم میں عزت بھی نہیں ملتی۔

کرس گیل نے جنوبی افریقا کی میزانسی سپر لیگ (ایم ایس ایل) میں اپنی ٹیم جوزی اسٹارز کو دوران ٹورنامنٹ ہی خیرباد کہہ دیا۔

ویسٹ انڈین بلے باز نے میزانسی سپر لیگ کے 6 میچوں میں صرف 101 رنز بنائے جس میں سب سے زیادہ 54 رنز گزشتہ روز میچ میں اسکور کیے۔

شوانے اسپارٹنز کے خلاف میچ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کرس گیل کا کہنا تھا کہ جب میں دو سے تین میچوں میں پرفارمنس نہیں دکھاتا تو کرس گیل ٹیم کے لیے ایک بوجھ لگنے لگتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ میں صرف اس ٹیم (جوزی اسٹارز) کی بات نہیں کر رہا بلکہ یہ میں نے برسوں سے فرنچائز کرکٹ کھیلتے ہوئے محسوس کیا ہے۔

کرس گیل نے کہا کہ ایسا لگتا ہے ایک مخصوص شخص ٹیم کے لیے بوجھ ہوجاتا ہے تو پھر آپ کو اس کے ریکارڈز اور اعداد و شمار کے حوالے سے بحث و تکرار بھی سنائی دیتا ہے۔

خود ساختہ یونیورس باس کا کہنا تھا کہ مجھے عزت ملنے والی نہیں ہے، کیونکہ لوگ آپ کو اس بارے میں یاد نہیں رکھتے جو ماضی میں آپ نے ان کے لیے کیا ہو، مجھے اب عزت نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ کھلاڑی، انتظامیہ، انتظامی سربراہ، بورڈ ممبران سب کے سب ہی یہی باتیں کرتے ہیں، ایک مرتبہ اگر کرس گیل ناکام ہوجاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اب اس میں یہ صلاحیت نہیں رہی، اب اس کا کیریئر ختم ہوچکا ہے، یہ ایک بد ترین کھلاڑی ہے وغیرہ وغیرہ۔

اپنی کارکردگی سے متعلق کرس گیل نے اعتراف کیا کہ کارکردگی بہت بری رہی، ہر کسی کو اس سے دکھ ہوتا ہے، اپنے ذاتی نکتہ نظر سے بھی بہت دکھی ہوں، میں واقعی جیتنا چاہتا تھا، میرا خیال تھا کہ ہم جیت جائیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم چیمپیئن ٹیم کی طرح نہیں کھیلے، ایک چیمپیئن ٹیم اس طرح اپنے ٹائٹل کا دفاع نہیں کرتی۔

یاد رہے کہ کرس گیل پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ابتدائی ٹورنامنٹ میں بھی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے جس کی وجہ سے پی ایس ایل 2019 کے ڈرافٹ میں انہیں منتخب نہیں کیا گیا تھ