شہباز شریف فیملی کے مختلف صنعتوں میں حصص منجمد،زرداری ، فریال کیخلاف نیب ضمنی ریفرنس دائر

نیب لاہور نے آمدن سے زائد اثاثہ جات و دیگر کیسز میں شہباز شریف فیملی کے مختلف انڈسٹریز میں حصص منجمد کرنے کے احکامات جاری کردیئے ۔ڈی جی نیب لاہور نے احکامات پر فوری طور پر عملدرآمد کرنے کا حکم دیدیا۔جن انڈسٹریز اور ملز میں حصص منجمد کئے گئے ان میں چنیوٹ انرجی لمیٹڈ، رمضان انرجی، شریف ڈیری،کرسٹل پلاسٹک انڈسٹریز، العریبیہ، شریف ملک پروڈکٹس، شریف فیڈ ملز، رمضان شوگر ملز اور شریف پولٹری شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق مستقبل میں شہباز شریف، حمزہ شہباز، سلمان شہبازاور نصرت شہباز اپنے کاروبار سے منافع کے حصول کے حقدار نہیں ہونگے ،نیب لاہور کی جانب سے احکامات ایس ای سی پی، شریف خاندان کے افراد اور ان کے فنانشل ایڈوائزر کو جاری کئے گئے ۔ادھر نیب نے جعلی اکائونٹس کیس میں سابق صدر آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سمیت 22 ملزمان کے خلاف ضمنی ریفرنس دائرکر دیا، ریفرنس میں ملزمان پرالزام عائد کیا گیا ہے کہ نجی بینک کے فنڈز کا غلط استعمال کیا گیا، بے نامی داراے ون انٹرنیشنل کے نام پر زمین خریدی گئی ، ملزم مشتاق احمد زرداری کے پرائیویٹ سیکرٹری رہے اور سابق صدر کے ساتھ مشترکہ اکائونٹ بھی ہے ، 8.3بلین روپے کی رقم جعلی اکائونٹس کے ذریعے نکلوائی گئی ، بنک ریکارڈ کے مطابق اکائونٹ زرداری کے لئے استعمال ہوتا تھا ، اس اکائونٹ کے ذریعے بیرون ملک رقم بھی منتقل ہوتی رہی ، سمٹ بینک کے اکائونٹ سے غیر قانونی 1200 ملین روپے منتقل کرائے گئے ،950ملین روپے کی رقم دوبارہ زرداری کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوئی۔ انور مجید ، عبدالغنی مجید ، مصطفی ذوالقرنین کا سارے معاملے میں اہم کردار ہے ۔ضمنی ریفرنس میں آصف زرداری اور فریال تالپورکے علاوہ حسین لوائی ، انور مجید ، عبدالغنی مجید ، طحہ رضا ، عارف خان ، محمد عمیر ، سید حسین فیصل شاہ جموٹ ، اعظم وزیر خان ، نمر مجید ، مصطفی ذوالقرنین مجید ، علی کمال مجید ، محمد یونس قدوائی ، زین ملک ، حاجی ہارون ، خواجہ محمد سلیمان یونس ، پیر درویش خان ، عمران خان ، محمد اورنگزیب خان اور بلال شیخ شامل ہیں ۔ دریں اثنا نیب راولپنڈی نے جعلی بینک اکائونٹس کیس میں سابق وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ کو بھی تمام ریکارڈکیساتھ 4 دسمبر کوطلب کرلیا،ذرائع کے مطابق قائم علی شاہ کو روشن سندھ کیس میں طلب کیا گیا