پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے الیکشن یا سلیکشن؟

پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے انتخابات کل لاہور میں ہورہے ہیں، جس میں حیریت انگیز طور پر صدر، سینئر نائب صدر اور سیکریٹری جیسے اہم عہدے سمیت 25 عہدوں پر کوئی مقابلہ نہیں ہوگا۔

پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کی مجموعی طور پر 30 سیٹیں ہیں، جن میں سے 25 افراد بلا مقابلہ منتخب ہوگئے ہیں،صرف لیڈیز ممبر کی پانچ سیٹوں کے لیے چھ خواتین ممبران کے درمیان مقابلہ ہوگا اور ووٹنگ ہوگی
پاکستان اسپورٹس بورڈ کے سابق ڈی جی بریگیڈئیر ریٹائیرڈ عارف صدیقی نے ان الیکشن کو ایک سلیکشن قرار دیا ہے۔

جیو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عارف حسن 15سال سے اس عہدے پر قابض ہیں اور کھیلوں کی فیڈریشنز کے ساتھ مل کر ایسا سسٹم بنادیا ہے کہ اگر پی او اے کے الیکشن میں عمران خان بھی کھڑے ہوں تو وہ ہار جائیں گے۔

عارف صدیقی کا کہنا ہے کہ عارف حسن کے دور میں کھیلوں کا معیار اور کارکردگی خراب ہوئی ہے، جنرل ریٹائِرڈ عارف حسن پانچویں بار صدارت کا عہدہ سنبھالیں گے، وہ پہلی بار 2004 میں پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے تھے۔
عارف حسن کے 15سالہ دور میں کھیلوں کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو ان کے دور میں پاکستان نے چار اولمپکس گیمز میں شرکت کی، 2004 کے ایتھنز(یونان) اولمپکس، 2008 کے بیجنگ اولمپکس، 2012 کے لندن اولمپکس اور 2016 میں برازیل میں ہونے والے ریو اولمپکس میں پاکستانی دستوں نے شرکت کی لیکن بدقسمتی سے کوئی میڈل جیت نہ سکے۔

اب 2020 میں ہونے والے ٹوکیو اولمپکس میں بھی پاکستانی دستہ ان کی نگرانی میں جاپان جائے گا
یوں جنرل عارف حسن کا پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن میں سفر تو طویل ہوتا ہے لیکن کھیلوں کے میدانوں پاکستان کی کارکردگی کا گراف بھی گرتا جارہا ہے