پاکستان کی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کرتے ہوئِے جنرل قمر جاوید باجوہ کو نوٹس جاری کر دیا
آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست پیر کو جیورسٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے دائر کی گئی تھی اور منگل کو چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔
سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار پیش نہ ہوئے اور اپنی درخواست واپس لینے کی استدعا کی تاہم عدالت نے اسے مفادِ عامہ کا معاملہ قرار دیتے ہوئے از خود نوٹس میں تبدیل کر دیا۔
سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ برّی فوج کے سربراہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے لیے خطے کی سکیورٹی کی صورتحال کی اصطلاح مبہم اور کمزور ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ کیا کابینہ نے اس معاملے پر فیصلہ کرنے سے قبل مناسب سوچ بچار کی تھی۔
مختصر سماعت کے بعد عدالت نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا حکم نامہ معطل کرتے ہوئے انھیں نوٹس جاری کر دیا جبکہ سماعت بدھ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
وزیرِاعظم عمران خان نے 19 اگست کو جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں تین برس یعنی ‘فل ٹرم’ کی توسیع کی تھی۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع کا فیصلہ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیاتھا۔
یاد رہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کی کمان نومبر 2016 میں سنبھالی تھی، انھیں اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے فوج کی سربراہی کے لیے تعینات کیا تھا۔
جنرل باجوہ کو فوج کی کمان جنرل راحیل شریف سے منتقل ہوئی تھی۔
جنرل باجوہ کو رواں ہفتے ریٹائر ہونا ہے لیکن ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا اعلان ریٹائرمنٹ سے دو ماہ قبل ہی کر دیا گیا تھا۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے 24 اکتوبر سنہ 1980 میں فوج میں شمولیت اختیار کی۔ آئی ایس پی آر کی ویب سائٹ کے مطابق انھیں بلوچ ریجمنٹ میں کمیشن ملا تھا۔
انھیں فوجی اعزاز نشان امتیاز (ملٹری) سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
وہ کینیڈا کی افواج کے کمانڈ اور سٹاف کالج، امریکہ کی نیول پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی، مونٹیری (کیلیفورنیا) اور اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔
وہ کوئٹہ، کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور این ڈی یو اسلام آباد میں سکول آف انفینٹری اینڈ ٹیکٹیکس میں انسٹرکٹر رہے ہیں۔
وہ انفینٹری بریگیڈ کے بریگیڈ میجر اور راولپنڈی کور کے چیف آف سٹاف بھی رہ چکے ہیں۔
انھوں نے ایک انفینٹری بریگیڈ کے 16 بلوچ ریجمنٹ کو کمانڈ کیا ہے اور شمالی علاقہ جات کے کمانڈر ایف سی این اے کے جی او سی رہے ہیں۔
انھوں نے کانگو میں پاکستانی دستے کی سربراہی بھی کی ہے۔ جبکہ انھوں نے راولپنڈی کور کی کمان بھی سنبھالی ہے۔