آرمی چیف سے اچھے ماحول میں ملاقات ہوئی عمران خان کے حوالے سے بھی بات ہوئی

رہنما جمیعتِ علماء اسلام ف مولانا فضل الرحمان نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے حوالے سے بتایا ہے کہ انکی پچھلے ایک سال میں چیف آف آرمی سٹاف سے ایک ملاقات ہوئی ہے۔ انہوں نے نجی ٹیوی چینل کے پروگرام میں بتایا ہے کہ انکی جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات دو گھنٹے تک جاری رہی جس میں وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔اینکر نے سوال کیا کہ ملاقات کیسی رہی تو اس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کھلے ڈلے اور خوش مزاج آدمی ہیں اور میں بھی خوش مزاج انسان ہوں اس لیے ملاقات بہت اچھی رہی۔ انیکر نے مولانا سے سوال کیا کہ ملاقات میں عمران خان کا نام کتنی مرتبہ آیا تو مولانا نے جواب دیا کہ انہیں یاد نہیں کہ وزیراعظم کا نام کتنی مرتبہ ملاقات میں لیا گیا۔

 
 

اس سے قبل مولانا فضل ارحمان نے کہا کہ مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ دسمبر تک تبدیلی آئے گی۔ ایک انٹرویومیںانہوںنے کہاکہ آئندہ 3 ماہ کے اندر نئے انتخابات کی یقین دہانی کرائی گئی، حکومت جائے گی یا ان ہاؤس تبدیلی آئے گی اس کا انتظار کرنا ہوگا، نئے سال کے آغاز میں انتخابات ہوتے نظر آ رہے ہیں۔فضل الرحمان نے کہا کہ مارچ کے مقاصد حاصل ہو رہے ہیں، انتظار کرنا چاہیئے، تمام طبقات متفق ہیں حکومت نہیں چل سکتی۔انہوں نے کہا کہ منگل کو جماعتی کانفرنس(اے پی سی ) میں آئندہ کے لائحہ عمل پر غور ہوگا۔دوسری جانب وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی بس دھمکیاں رہ گئی ہیں اور اب مولانا کی جانب سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالات بدل گئے ہیں، ہمیں آگے کی جانب دیکھنا ہے