سندھ میں ہوا سے 610 میگا واٹ ماحول دوست بجلی بنانے کے 12 نئے منصوبے

تقریباً ایک ارب ڈالر لاگت کے منصوبوں کو 12 مختلف کمپنیاں مکمل کریں گی: وزیر توانائی سندھ  امتیاز احمد شیخ
کراچی : سندھ کے وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ نے کہا ہے کہ سندھ میں ہوا سے 610 میگا واٹ ماحول دوست بجلی بنانے کے 12 نئے منصوبے آغاز کے قریب ہیں۔ 12 مختلف کمپنیوں نے ان منصوبوں کو شروع کرنے کے لئے بینکوں سے قرضوں کے حصول کے لئے فنانشیل کلوز Financial Close کی تمام شرائط پوری کرلی ہیں۔ہوا سے 610 میگاواٹ ماحول دوست بجلی بنانے کے ان منصوبوں پر تقریبآ ایک ارب ڈالر لاگت کا تخمینہ ہے اور یہ منصوبے شروع کرنے والی کمپنیوں میں ایکٹ2 (ACT2) ونڈ پرائیویٹ لمیٹڈ 50 میگا واٹ، آرٹسٹک ونڈ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ 50 میگاواٹ، دن انرجی لمیٹڈ 50 میگاواٹ، گل احمد الیکٹرک لمیٹڈ 50 میگاواٹ، انڈس ونڈ انرجی لمیٹڈ 50 میگا واٹ، لیک سائڈ Lake Side انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ 50 میگاواٹ، لبرٹی ونڈ پاور-1 پرائیویٹ لمیٹڈ 50 میگاواٹ، لبرٹی ونڈ پاور -2 پرائیویٹ لمیٹڈ 50 میگاواٹ، ماسٹر گرین انرجی لمیٹڈ 50 میگاواٹ، میٹرو ونڈ پاور لمیٹڈ 60 میگاواٹ، ناسدا NASDA گرین انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ 50 میگاواٹ، ٹرائی کوم ونڈ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ 50 میگاواٹ شامل ہیں۔ وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے کہا ہے کہ ہواسے شفاف بجلی بنانے کے یہ تمام منصوبے جھمپیر ونڈ کوریڈور میں لگائے جائیں گے ۔ان منصوبوں کے لئے سندھ حکومت نے مذکورہ کمپنیوں کی بھرپور معاونت کی جس کے سبب یہ کمپنیاں بینکوں سے قرضوں کے حصول کی تمامتر شرائط جن میں لیٹر آف انٹرسٹ کا حصول،ماحولیاتی اثرات کا مطالعہ،این ٹی ڈی سی NTDC, اے ای ڈی بی AEDB اور سی پی پی اے جی CPPAG کے ساتھ تیز تر روابط کی سہولیات، نیپرا سے ٹیرف اور جنرل لائسنس کے لئے سفارش،جھمپیر-II گرڈ اسٹیشن کے لئے زمین کی تیز تر فراہمی، زمین کی لیز اور فیزیبلیٹی کی منظوری جیسی لازمی شرائط اور امور بروقت مکمل کرسکیں۔ان کمپنیوں نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر توانائی سندھ اور محکمہ توانائی کے بھرپور تعاون کا شکریہ آج کے قومی اخبارات میں شائع شدہ اشتہار کے زریعے بھی کیا ہے۔ امتیاز احمد شیخ نے کہا کہ قدرت نے پاکستان کی توانائی کے مسائل کا حل عطا کیا ہے اور سندھ حکومت اپنی مستقل کوششوں سے پاکستان کے توانائی مسائل کو بہت جلد حل کردے گی۔ جھمپیر ونڈکوریڈور میں ہواسے 50 ھزار میگا واٹ بجلی بنانے کی صلاحیت ہے اور سندھ حکومت اس ہدف کو حاصل کرے گی۔